قومی زبان

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک ہر بار ہوا نہ ہوگی در پر ہر بار مگر اٹھوں کہاں تک دم گھٹتا ہے گھر میں حبس وہ ہے خوشبو کے لئے رکوں کہاں تک پھر آ کے ہوائیں کھول دیں گی زخم اپنے رفو کروں کہاں تک ساحل پہ سمندروں سے بچ کر میں نام ترا لکھوں کہاں تک تنہائی کا ایک ایک ...

مزید پڑھیے

اتنا معلوم ہے!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟ آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟ میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ...

مزید پڑھیے

خواب

کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی بات بے بات ہنستی ہوئی اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں جو خاموش تھیں ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا! آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو ...

مزید پڑھیے

پذیرائی

ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیا میرے بالوں پہ آنکھوں پہ پلکوں پہ، ہونٹوں پہ، ماتھے پہ، رخسار پر پھول ہی پھول تھے دو بہت مسکراتے ہوئے ہونٹ میرے بدن پر محبت کی گلنار مہروں کو یوں ثبت کرتے چلے جا رہے تھے کہ جیسے ابد تک مری ایک اک پور ...

مزید پڑھیے

آئینہ

لڑکی سر کو جھکائے بیٹھی کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے لڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو اپنی آنکھ سے چوم رہا ہے دونوں میری نظر بچا کر اک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں میں دونوں سے دور دریچے کے نزدیک اپنی ہتھیلی پر اپنا چہرہ رکھے کھڑکی سے باہر ...

مزید پڑھیے

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک پھول دان چھوڑ گیا جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ ...

مزید پڑھیے

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے اب سفر کا استعارہ اور ہے ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے اس سمندر کا کنارہ اور ہے موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا تیر سینے میں اتارا اور ہے متن میں تو جرم ثابت ہے مگر حاشیہ سارے کا سارا اور ہے ساتھ تو میرا ...

مزید پڑھیے

پورا دکھ اور آدھا چاند

پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن میں وحشت بہل گئی رات ہوئی اور نکلا چاند کس مقتل سے گزرا ہوگا اتنا سہما سہما چاند یادوں کی آباد گلی میں گھوم رہا ہے تنہا چاند میری کروٹ پر جاگ اٹھے نیند کا کتنا کچا چاند میرے منہ کو کس حیرت سے دیکھ رہا ہے بھولا چاند اتنے گھنے ...

مزید پڑھیے

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے کون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے وا قفس میں کوئی در خود مرا صیاد کرے سلب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2040 سے 6203