قومی زبان

وہی نرم لہجہ

وہی نرم لہجہ جو اتنا ملائم ہے جیسے دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہو شفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو کس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفر وہی نرم لہجہ کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گا تو ایسا لگے جیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے ...

مزید پڑھیے

مسئلہ

''پتھر کی زباں'' کی شاعرہ نے اک محفل شعر و شاعری میں جب نظم سناتے مجھ کو دیکھا کچھ سوچ کے دل میں مسکرائی جب میز پر ہم ملے تو اس نے بڑھ کر مرے ہاتھ ایسے تھامے جیسے مجھے کھوجتی ہو کب سے پھر مجھ سے کہا کہ آج، پروینؔ! جب شعر سناتے تم کو دیکھا میں خود کو بہت ہی یاد آئی وہ وقت کہ جب تمہاری ...

مزید پڑھیے

جزیہ

گڑیا سی یہ لڑکی جس کی اجلی ہنسی سے میرا آنگن دمک رہا ہے کل جب سات سمندر پار چلی جائے گی اور ساحلی شہر کے سرخ چھتوں والے گھر کے اندر پورے چاند کی روشنی بن کر بکھرے گی ہم سب اس کو یاد کریں گے اور اپنے اشکوں کے سچے موتیوں سے ساری عمر اک ایسا سود اتارتے جائیں گے جس کا اصل بھی ہم پر قرض ...

مزید پڑھیے

ضد

میں کیوں اس کو فون کروں! اس کے بھی تو علم میں ہوگا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!

مزید پڑھیے

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

وہ باغ میں میرا منتظر تھا

وہ باغ میں میرا منتظر تھا اور چاند طلوع ہو رہا تھا زلف شب وصل کھل رہی تھی خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی خود پر کتنی توجہ دی تھی! پہنا گہرا بسنتی جوڑا اور عطر سہاگ میں بسایا آئینے میں خود کو پھر کئی ...

مزید پڑھیے

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی

اس عمر کے بعد اس کو دیکھا! آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں ہونٹوں پہ مگر وہی تبسم! چہرے پہ لکھی ہوئی اداسی لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ آواز میں گونجتی جدائی بانہیں تھیں مگر وصال ساماں! سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں تا دیر میں سوچتی رہی تھی کس ابر گریز پا کی خاطر میں کیسے شجر سے کٹ گئی ...

مزید پڑھیے

نک نیم

تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا میرا کوئی رنگ نہیں جس بچے کے ہاتھ تھما دو میری کسی سے جنگ نہیں سوچتی جاگتی آنکھیں میری جب چاہے بینائی لے لو کوک بھرو اور باتیں سن لو یا میری گویائی لے لو مانگ بھرو سیندور ...

مزید پڑھیے

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مرے ...

مزید پڑھیے

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ بچپنے کا ساتھ ہے پھر ایک سے دونوں کے دکھ رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں اور کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ بارش سنگ ملامت میں بھی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2039 سے 6203