سیاروں میں ساحل ہے وہ عظمت تجھ کو
سیاروں میں ساحل ہے وہ عظمت تجھ کو کرتی ہے سلام جھک کے رفعت تجھ کو لے ہاتھ میں اے زمین پرچم اپنا کرنی ہے ستاروں کی قیادت تجھ کو
سیاروں میں ساحل ہے وہ عظمت تجھ کو کرتی ہے سلام جھک کے رفعت تجھ کو لے ہاتھ میں اے زمین پرچم اپنا کرنی ہے ستاروں کی قیادت تجھ کو
ہونٹوں کو شراب اب پلا دے ساقی رگ رگ میں اک آگ لگا دے ساقی تاریک ہوئی جاتی ہے بزم ہستی ساقی! ساقی! تو مسکرا دے ساقی
ظلمت کا طلسم توڑ کر لایا ہوں پنجا شب کا مروڑ کر لایا ہوں اے صبح کا نور پینے والو دوڑو تاروں کا لہو نچوڑ کر لایا ہوں
لذت میں خودی کی کھو گیا ہے زاہد دور دور خدا سے ہو گیا ہے زاہد سنتا نہیں اب شکستہ مسجد کی صدا سجدے میں کچھ ایسا سو گیا ہے زاہد
میں منکر اسلاف نہیں ہوں یارو کچھ حاسد اوصاف نہیں ہوں یارو ہر شعر میں بھرتا ہوں مگر وقت کی آگ شاعر ہوں سخن باف نہیں ہوں یارو
شکایت کر رہے ہیں سجدہ ہائے رائیگاں مجھ سے نہ دیکھا جائے گا اب سوئے سنگ آستاں مجھ سے ہے کل کی بات شرمندہ تھا حسن رائیگاں مجھ سے یہ جلوے مانگتے تھے اک نگاہ مہرباں مجھ سے نظر رکھ کر قناعت کر رہا ہوں میں تصور پر یہ جلوے چاہتے ہیں اور کیا قربانیاں مجھ سے محبت میری بڑھ کر آ گئی ہے بد ...
کتنے اصنام نا تراشیدہ پتھروں ہی میں کسمساتے ہیں کتنے ہی ناشگفتہ لالہ و گل ذہن بلبل کو گدگداتے ہیں کتنے ہی جلوہ ہائے نادیدہ ابھی پردے میں مسکراتے ہیں ناسرائیدہ کتنے ہی نغمے دل کے تاروں سے لپٹے جاتے ہیں کس نے چھیڑا ہے ساز مستقبل آج لمحات گنگناتے ہیں کس نے چھیڑا ہے ساز مستقبل آج ...
بلند آہنگیوں نے پھاڑ ڈالے کان کے پردے ہوں وہ مطرب جو خود اپنی صدا ہی سن نہیں سکتا ہوائیں لے اڑی ہیں سلسلے کو میرے نغموں کے میں ان بکھری ہوئی کڑیوں کو اپنی چن نہیں سکتا غرور خوش نوائی بوجھ سا ہے میری گردن پر زمانہ وجد میں ہے اور میں سر دھن نہیں سکتا
آہ! گنگا یہ حسیں پیکر بلور ترا تیری ہر موج رواں جلوۂ مغرور ترا جور مغرب سے مگر دل ہے بہت چور ترا جھانکتا ہے ترے گرداب سے ناسور ترا ظلم ڈھائے ہیں سفینوں نے ستم گاروں کے زخم اب تک ترے سینے پہ ہیں پتواروں کے محو رہتے تھے ستارے تری مے پینے میں چاند منہ دیکھتا تھا تیرے ہی آئینے میں خلوت ...
دوستی کہاں جائے؟ اس کی آستینوں سے بپھرے سانپ نکلے ہیں گتھ گئے ہیں منہ کھولے بین وجد کرتی ہے اور سپیرا ہنستا ہے