قومی زبان

شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے

شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے ادھر تو یہ قتل عام دیکھا ادھر وہ کیسی کٹا چھنی ہے ہوا ہے نیرنگ آج کیسا یہ دل میں قاتل کے کیا ٹھنی ہے جدھر سے گزرا زباں سے نکلا یہ کشتنی ہے وہ کشتنی ہے بگڑ کے ہم کو بگاڑ ڈالا سنوارنا ہی تمہیں نہ آیا بنو جو منصف بتائیں دل بر کہ اس ...

مزید پڑھیے

اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں

اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں جب وہ کہتے ہیں ابھی تو نہیں ہم جاتے ہیں سکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر نقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں کوئی دم کا ہی دمامہ ہے نہیں دم ہمدم پاس انفاس نہیں دم میں یہ دم جاتے ہیں مرگ عشاق نہیں زندۂ جاوید ہوئے یار سے ہونے ہم آغوش و بہم ...

مزید پڑھیے

داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا

داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا جلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا انصاف اپنا داور محشر سے ہو تو ہو قضیہ کسی سے دل کا چکایا نہ جائے گا روکو نہ چشم شوخ کو میری طرف سے تم آنکھیں ہیں دل نہیں کہ ملایا نہ جائے گا ہے دل میں ان کے غیر کی صورت بسی ہوئی دل میں بھی اب تو ان کو بٹھایا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا

ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا اپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیا قیس کا جلوۂ لیلیٰ جو ہوا ہوش ربا وہ سراسیمہ ہوا نجد کا بن بھول گیا کیا کرشمہ یہ تری چشم سخن گو نے کیا کس کی جانب تھا مرا روئے سخن بھول گیا خار خار غم الفت نے کیا راہ غلط تیرا مدہوش نظر راہ چمن بھول گیا نگہ شوق ...

مزید پڑھیے

اگر اتنا نہ تو عیار ہوتا

اگر اتنا نہ تو عیار ہوتا تو دشمن کا نہ ہرگز یار ہوتا دوئی کا نقش مٹتا دل سے اے کاش مئے وحدت سے میں سرشار ہوتا جو ہوتے آج کل قیس اور فرہاد میں ان کا قافلہ سالار ہوتا نہ ہوتا گر ترا طالب جہاں میں تو میں پابند ننگ و عار ہوتا لگائے چاٹ پر ہیں اس کو دشمن الٰہی میں بھی کچھ زردار ...

مزید پڑھیے

دل زندہ خود رہنما ہو گیا

دل زندہ خود رہنما ہو گیا یہ قبلہ ہی قبلہ نما ہو گیا ہوا رنگ دنیا میں کیوں شیفتہ تجھے بوالہوس ہائے کیا ہو گیا یہ پردہ ہی تھا پردہ پوش نظر حجاب اٹھ گیا خود نما ہو گیا یہی خود شناسی خدائی ہوئی خودی مٹ گئی جب خدا ہو گیا انا الحق ہو الحق جو آیا نظر یہ شوریدہ سر خود نما ہو گیا تعرض ...

مزید پڑھیے

ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھا

ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھا تجھ کو دوران بقا خواب پریشاں سمجھا کفر و ایماں کا عجب رنگ ہے نیرنگی میں یہ وہ نیرنگ ہے کافر نہ مسلماں سمجھا لیلیٔ شوخ ادا عین تصور جو بنی قیس کو دامن صحرا میں ہدیٰ خواں سمجھا وسعت مشرب رنداں کا نہیں ہے محرم زاہد سادہ ہمیں بے سر و ساماں ...

مزید پڑھیے

وہ آئے نگار میں نہ مانوں

وہ آئے نگار میں نہ مانوں آ جائے قرار میں نہ مانوں وہ ہمدم غیر ہو گیا ہے دم ساز ہو یار میں نہ مانوں دزدیدہ نظر میں ایک نظر ہے وہ ہوں نہ دو چار میں نہ مانوں جو وقت گیا وہ پھر کہاں ہے چھوٹے وہ شکار میں نہ مانوں کھٹکا نہ ہو آمد خزاں کا اے باغ و بہار میں نہ مانوں باز آئے تو اپنی ...

مزید پڑھیے

حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکا

حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکا زباں بگڑ گئی گر اس کو آ گیا چٹکا جو شاہراہ گیا کچھ نہیں ہوا کھٹکا بھٹک رہا ہے مسافر ہوا جو اوگھٹ کا قبا پہنتے جو برہم ہوا وہ چست قبا دیا ہے چین جبیں نے بھی ساتھ سلوٹ کا یہاں بھی عشوۂ رعنا کھڑی لگاتا ہے وہ بحر حسن ہوا آشنا جو کروٹ کا ہماری وضع ...

مزید پڑھیے

طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا

طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا قرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہوا ہیں جنوں جوش وہی جذب کا نسیاں نہ ہوا قطرہ دریا جو ہوا آئنہ حیراں نہ ہوا کیا سیہ مست ہوا کیف میں رقصاں نہ ہوا جام سر جوش سے بھی سالک وجداں نہ ہوا وصل موعود سے آشوب تمنا ہے عدم بے تمنا ترا آشفتۂ ہجراں نہ ہوا میں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2014 سے 6203