شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے
شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے ادھر تو یہ قتل عام دیکھا ادھر وہ کیسی کٹا چھنی ہے ہوا ہے نیرنگ آج کیسا یہ دل میں قاتل کے کیا ٹھنی ہے جدھر سے گزرا زباں سے نکلا یہ کشتنی ہے وہ کشتنی ہے بگڑ کے ہم کو بگاڑ ڈالا سنوارنا ہی تمہیں نہ آیا بنو جو منصف بتائیں دل بر کہ اس ...