دل ہی کی طرح منہ بھی ہے کالا دیکھو
دل ہی کی طرح منہ بھی ہے کالا دیکھو اس پر نماز کا یہ اجالا بھی دیکھو بستر ہی پہ سر ٹیک رہی ہے ظالم دم توڑتی دولت کا سنبھالا دیکھو
دل ہی کی طرح منہ بھی ہے کالا دیکھو اس پر نماز کا یہ اجالا بھی دیکھو بستر ہی پہ سر ٹیک رہی ہے ظالم دم توڑتی دولت کا سنبھالا دیکھو
بلبل کی زباں تک جلا ڈالی ہے مسموم ہوائے گل بنا ڈالی ہے ان آگ کے تاجروں نے اے ابر بہار گلشن میں بھی بارود بچھا ڈالی ہے
کشتیٔ حیات کھے سکوں گا کیوں کر ہمت کا میں ساتھ دے سکوں گا کیوں کر ساقی نہ اگر تیرا سہارا ہوگا جینے کا میں نام لے سکوں گا کیوں کر
کیوں آ گئے ہیں بزم ظہور و نمود میں آزاد مرد ہو کے رہے ہم قیود میں سالک ہے کیوں تخیل ترک وجود میں نقش صور کا رنگ ہے تیرے شہود میں جو آ گئے تجلیٔ تنزیہہ ذات میں محدود کس طریق سے ہوں گے حدود میں راز دردن پردہ ز رندان مست پرس سالک ہے کیوں حجاب شہود و وجود میں ارنی و لن ترانی کا سب ...
تعین تسلسل ہے نقش بدن کا اسی سے تعلق ہے یہ جان و تن کا تصوف تبدل ہے عادات بد کا تعرف نتیجہ ہے خلق حسن کا وہی گل شجر ہے وہی بوستاں ہے وہی آپ ہے باغباں اس چمن کا وہ بے کیف و م ہے قدیم و ازل سے اسی سے ہے یہ نقش دہر کہن کا تولّا سمجھ ہم زبانی سے بہتر تعشق ہوا ہمدم و ہم سخن کا رم و ...
کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشا ہاں دیکھ بن کے موسیٰ اس طور کا تماشا ناظر وہی نظر بھی منظور بھی وہی ہے نظارہ کا ہے مظہر منظور کا تماشا یہ قرب بعد کیا ہے تقریب ماسوا ہے ہے ترک ماسوا میں یہ دور کا تماشا صورت کا شیفتہ ہو ظاہر ہو حرف معنی منصور کی ہے صورت منصور کا تماشا تعمیر ...
مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ جو کہوں گا تو کیا سنیں گے آپ کیا بیان شب فراق کریں نہ سنا ہے نہ اب سنیں گے آپ نہیں کھلتا سبب تبسم کا آج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ ناصحا آپ خود ہی ناداں ہیں کیا نصیحت مجھے کریں گے آپ دم آخر یہ تھا مرے لب پر کس پہ جور و ستم کریں گے آپ ظلم کی کچھ بھی انتہا ...
وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھا وہ عشوہ سنج کشیدہ کشیدہ آیا تھا کیا ہے چشم مروت نے آج مائل مہر میں ان کی بزم سے کل آب دیدہ آیا تھا جو راز دل تھا وہ خلوت میں سب کہا ہم نے کوئی بھی ساتھ نہیں تھا جریدہ آیا تھا وہ مرغ بسمل الفت فدائے حسن ترا بہ شکل طائر رنگ پریدہ آیا تھا وہ تیرے جذب ...
کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب دیکھا جو ہم نے جلوۂ حیرت فزائے قلب وہ جانتا ہے وسعت مشرب کے راز کو دیکھا ہے جس نے عالم بے انتہائے قلب یا رب یہ قلب ہیئت قلبی عجیب ہے نیرنگ دیکھتے ہیں یہ کیا اے خدائے قلب یہ زمزمہ طیور خوش آہنگ کا نہیں ہے نغمہ سنج بلبل رنگیں نوائے قلب روشن ...
ہر پتے میں اک دھار لئے چٹکیں گے ہر سانس میں تلوار لئے چٹکیں گے دہکے ہوئے فولاد کے ہیں ہم غنچے چٹکیں گے تو جھنکار لئے چٹکیں گے