قومی زبان

حسرت و امید کا ماتم رہا

حسرت و امید کا ماتم رہا یہ وہ دل ہے جو سدا پر غم رہا اک نہ اک مجھ پر سدا عالم رہا میں کبھی بے جاں کبھی بے دم رہا میری قسمت کی کجی کا عکس ہے یہ جو برہم گیسوئے پر خم رہا وہ دل غمگیں ہے میرا غم پسند غم کے جانے کا بھی جس کو غم رہا دل کو ہر دم اک پریشانی رہی زلف جاناں کی طرح برہم رہا وہ ...

مزید پڑھیے

وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹ

وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹ ان کی چاہی نہیں ہے یہ جھنجھٹ پاؤں کی میرے جو سنی آہٹ ہوئے داخل مکان میں جھٹ پٹ شوخ کتنا کیا ہے پیر مغاں مغبچے ہو گئے بڑ منہ پھٹ کوئی پہلو نظر نہیں آتا دیکھیے بیٹھے اونٹ کس کروٹ یاد کرتے نہیں کبھی وہ ہمیں نام کی ان کے ہاں لگی ہے رٹ زیب محفل ہے ماہ رخ ...

مزید پڑھیے

یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے

یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے ہوا ہے گو اشتیاق بے حد جما کے پائے نظر کو چلئے ہوئے ہیں محروم دید بے دل کیا تجاہل کا اس نے بسمل وہ دل ربا بن گیا ہے قاتل کمر کو کس کے سفر کو چلئے غرض تھی اظہار مدعا سے ستم کو کیا ہو گئے جو شاکی وہ دیکھتے ہی بگڑ نہ جائیں بلانے اب نامہ ...

مزید پڑھیے

ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنے

ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنے وہ عشوہ سنج ہے فرخ لقا بنے نہ بنے چلے ہیں شوق میں ہم یا خدا بنے نہ بنے وہ کیا سلوک کرے دل ربا بنے نہ بنے کیا تصور مقصود نے ہمیں حیراں یہ منتہائے نظر مدعا بنے نہ بنے سفینہ بحر تعشق میں اب تو ڈال چکا جو آشنا ہے مرا نا خدا بنے نہ بنے فریب جلوہ ہے نقش و ...

مزید پڑھیے

واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے

واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے وصل کا مژدہ سنایا اور سنا کر رہ گئے لے گیا شوق اس کے در تک پھر کمی ہمت نے کی حلقۂ در کو ہلایا اور ہلا کر رہ گئے میں نے جو اپنے دل گم گشتہ کی پوچھی خبر سر ہلایا مسکرائے مسکرا کر رہ گئے غیرت دشمن کی خاطر میری غیرت لائی رنگ مجھ کو محفل میں بلایا ...

مزید پڑھیے

غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھا

غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھا بہ شکل قہر تھا خنجر کشیدہ آیا تھا سلوک حسن تعلق بنے یہ ہنگامہ کہ ہر طرف سے بریدہ رمیدہ آیا تھا کیا تھا شوق نے بیتاب دیدہ نے مضطر وہ ذوق لطف کا لذت چشیدہ آیا تھا وفا مثال سراپا نیاز با تمکیں فقیر پائے بہ دامن کشیدہ آیا تھا ہوا نہ قرب تعلق کا ...

مزید پڑھیے

دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیا

دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیا نیرنگ تم نے کیا یہ دکھایا غضب کیا زندہ کیا ہے حسرت مردہ کو بے وفا تو بعد مرگ گور پہ آیا غضب کیا یہ درد درد مند تماشا دکھائے گا آفت رسیدہ کو جو ستایا غضب کیا ہم خانماں خراب بھٹکتے کہاں پھریں بیٹھے بٹھائے اس نے اٹھایا غضب کیا سب کہہ رہے تھے بلبل ...

مزید پڑھیے

اس شوخ دم شعار سے کہتا سلام شوق

اس شوخ دم شعار سے کہتا سلام شوق قاصد یہی ہے آج ہمارا پیام شوق تائید غیب طالع فرخندہ کی مدد وہ عشوہ سنج آج ہوا ہم کلام شوق قاصد کیا ہے عہد جو ایفائے عہد کا صبح امید وصل ہوئی اپنی شام شوق کیا متصل ہو یار تلون ہے طبع میں یہ دیر پا کہاں ہے تمہارا قیام شوق مد نظر جو ہے وہ ہمیں آشکار ...

مزید پڑھیے

جلوۂ دیدار تو اک بات ہے

جلوۂ دیدار تو اک بات ہے لن ترانی عاشقوں کی گھات ہے آشنا جس کا ہے تو آرام جاں وہ جہاں میں مورد آفات ہے بوسۂ رخ دے زکات حسن ہے اے حسیں یہ داخل حسنات ہے آئنہ خانہ بنا ہے میرا دل دیکھ لے کیا خوش نما مرآت ہے جان و دل تھا نذر تیری کر چکا تیرے عاشق کی یہی اوقات ہے گریۂ عشاق پر ہیں ...

مزید پڑھیے

جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات

جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات اے سالک مجذوب یہ ہے سیر مقامات تجدید مثالی میں ہے تفرید‌ مجرد توحید ہے یہ اور ہیں بے صرفہ خیالات بے رنگ میں نیرنگ ہے وحدت میں ہے کثرت اعداد ہوں افراد جو ہو ترک اضافات خلوت میں ہوا جلوہ سفر میں بھی وطن ہے آفاق میں انفس ہے الوالعزم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2013 سے 6203