حسرت و امید کا ماتم رہا
حسرت و امید کا ماتم رہا یہ وہ دل ہے جو سدا پر غم رہا اک نہ اک مجھ پر سدا عالم رہا میں کبھی بے جاں کبھی بے دم رہا میری قسمت کی کجی کا عکس ہے یہ جو برہم گیسوئے پر خم رہا وہ دل غمگیں ہے میرا غم پسند غم کے جانے کا بھی جس کو غم رہا دل کو ہر دم اک پریشانی رہی زلف جاناں کی طرح برہم رہا وہ ...