دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح
دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح ہم کہ ہیں بزم گل و لالہ میں شبنم کی طرح وقت بے مہر ہے اس فرصت کمیاب میں تم میری آنکھوں میں رہو خواب مجسم کی طرح عرصۂ عمر میں کیا کیا نہ رتیں آئیں مگر کوئی ٹھہری نہ یہاں درد کے موسم کی طرح کس طرح اس سے کہوں زخم بھی ہیں اس کی عطا ہاتھ جس کا مرے ...