قومی زبان

دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح

دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح ہم کہ ہیں بزم گل و لالہ میں شبنم کی طرح وقت بے مہر ہے اس فرصت کمیاب میں تم میری آنکھوں میں رہو خواب مجسم کی طرح عرصۂ عمر میں کیا کیا نہ رتیں آئیں مگر کوئی ٹھہری نہ یہاں درد کے موسم کی طرح کس طرح اس سے کہوں زخم بھی ہیں اس کی عطا ہاتھ جس کا مرے ...

مزید پڑھیے

کچھ اور پلا نشاط کی مے

کچھ اور پلا نشاط کی مے یہ لذت‌ جسم ہے عجب شے اب بھی وہی گیت ہے وہی لے ہم وہ نہیں انجمن وہی ہے تخیل میں ہر طلب ہے تحصیل جو بات کہیں نہیں یہاں ہے کرتے ترا انتظار ابد تک لیکن ترا اعتبار تا کے مجھ کو تو نہ راس آئی دوری تجھ میں بھی وہ بات اب نہیں ہے دیوانگیاں کبھی مٹی ہیں ہر چند رہا ...

مزید پڑھیے

خود کو سمجھا ہے فقط وہم و گماں بھی ہم نے

خود کو سمجھا ہے فقط وہم و گماں بھی ہم نے خود کو پایا ہے دل کون و مکاں بھی ہم نے دیکھ پھولوں سے لدے دھوپ نہائے ہوئے پیڑ ہنس کے کہتے ہیں گزاری ہے خزاں بھی ہم نے شفق صبح سے تابندہ سمن زار سے پوچھ رات کاٹی سوئے گردوں نگراں بھی ہم نے دیکھ کر ابر بھر آئی ہیں خوشی سے آنکھیں سوکھتے ...

مزید پڑھیے

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور تم سے کون سی آس بندھی تھی تم سے رہے ہم دور ہی دور تم نے ہم کو جب بھی دیکھا شکر بہ لب تھے یا خاموش یوں تو اکثر روئے لیکن چھپ چھپ کم کم دور ہی دور جل جل بجھ گئی کونپل کونپل کیا کیا ارماں خاک ہوئے آنکھیں تو بھر لائے پہ بادل برسے چھم چھم ...

مزید پڑھیے

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی اپنے سے اک فرار تھا وہ جستجو نہ تھی اظہار نارسا سہی وہ صورت جمال آئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی کیا سحر تھا کہ ہنستے ہوئے جان دے گئے وہ بھی کہ جن کو تاب غم آرزو نہ تھی کیا جانے اہل بزم نے کیا کیا سمجھ لیا اخفائے آرزو تھی وہ چپ گفتگو نہ ...

مزید پڑھیے

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے شکست دل کے خدشے ہی سے نادانوں کے دل ٹوٹے گرے ہیں ٹوٹ کر کچھ آئنے شاخوں کی پلکوں سے یہ کس کی آہ تھی کیوں شبنمستانوں کے دل ٹوٹے اس آرائش سے تو کچھ اور ابھری ان کی ویرانی ببولوں پر بہار آئی تو ویرانوں کے دل ٹوٹے وہ محرومی کا جوش خواب پرور اب ...

مزید پڑھیے

دے گیا درد بے طلب کوئی

دے گیا درد بے طلب کوئی میرا ہمدرد تھا عجب کوئی کون نکلا ہے اپنی الجھن سے اور کو پا سکا ہے کب کوئی یہ اجالا یہ دن کہاں ہوں میں مجھ سے کچھ کہہ رہا تھا شب کوئی اب جو روٹھے تو جاں پہ بنتی ہے خوش ہوا مجھ سے بے سبب کوئی میری منزل مجھے نہیں معلوم صبح کوئی ہے اور شب کوئی موت اور آرزو کی ...

مزید پڑھیے

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیں

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیں آنکھ جو دیکھ رہی ہے ہمیں منظور نہیں پیڑ پت جھڑ میں لہو روتے ہیں افسردہ نہ ہو شاخ میں نم ہے تو پھر موسم گل دور نہیں مشکلیں دل میں نئی شمعیں جلا دیتی ہیں غم سے بجھ جانا تو درویشوں کا دستور نہیں جانے کیا غم تھا کہ چپ اوڑھ کے وہ بیٹھ رہا وہ کم آمیز ...

مزید پڑھیے

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں میں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں تیرے دل میں کوئی غم میرا نمائندہ نہیں آگہی تیری مژہ پر ابھی رخشندہ نہیں دل ویراں دم عیسیٰ ہے گئے وقت کی یاد کون سا لمحۂ رفتہ ہے کہ پھر زندہ نہیں تو بھی چاہے تو نہ آئے گی وہ بیتی ہوئی رات ہے وہی چاند ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگ ہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 196 سے 6203