قومی زبان

آرتی ہم کیا اتاریں حسن مالا مال کی

آرتی ہم کیا اتاریں حسن مالا مال کی بجھ گئی ہر جوت پوجا کے سنہرے تھال کی تم تو کیا دستک نہیں دیتیں ہوائیں تک یہاں دل ہے یا سنسان کٹیا ہے کسی کنگال کی دیکھ اے گل پیرہن تیرے لیے پردیس سے کون لایا ہے ہواؤں کی معطر پالکی پھر اگانے دو یہاں ہم کو لہو کے کچھ گلاب آپ نے تو شاہراہ دل بہت ...

مزید پڑھیے

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں اب کس کی تمنا ہے جو مقتل میں کھڑا ہوں گو قدر مری بزم سخن میں نہیں لیکن ہیرے کی طرح فن کی انگوٹھی میں جڑا ہوں خیرات میں بانٹے تھے جہاں میں نے ستارے خود آج وہیں کاسۂ شب لے کے کھڑا ہوں ہوتا کوئی پتھر بھی تو کام آتا جنوں کے ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں سر راہ ...

مزید پڑھیے

یوں لہکتا ہے ترے نوخیز خوابوں کا بدن

یوں لہکتا ہے ترے نوخیز خوابوں کا بدن جیسے شبنم سے دھلے تازہ گلابوں کا بدن مطربہ نے اس طرح چھیڑے کچھ ارمانوں کے تار کس گیا انگڑائی لیتے ہی ربابوں کا بدن کوئی پہناتا نہیں بے داغ لفظوں کا لباس کب سے عریاں ہے محبت کی کتابوں کا بدن رات ہے یا سنگ مرمر کا مقدس مقبرہ جس کے اندر دفن ہے ...

مزید پڑھیے

رو بہ رو سینہ بہ سینہ پا بہ پا اور لب بہ لب

رو بہ رو سینہ بہ سینہ پا بہ پا اور لب بہ لب ناچتی شب میں برہنہ ہو گئے کیوں سب کے سب خود کشی کر لی بھرے گلشن میں جس نے بے سبب میں نے سیکھا ہے اسی ہم راز سے جینے کا ڈھب ہنستے ہنستے روح کی آواز پاگل ہو گئی گنبدوں کی خامشی نے دیر تک کھولے نہ لب پی رہے ہیں خوشنما شیشوں میں لوگ اپنا ...

مزید پڑھیے

گرل فرینڈ

سرمئی ریت کی پگڈنڈی پر سنگ مرمر کی چٹانوں کا دل آویز شباب شام کے شعلہ نفس رنگ میں تحلیل ہوا ہاتھ میں ہاتھ لئے بڑھتے رہے دو سائے اور خاموش چناروں کی سلگتی آنکھیں محو دیدار رہیں دو جواں خواب، کھلے جسم، برہنہ جامے ایک ہی لے میں دھڑکتے ہوئے دو ہنگامے جام تھے ہاتھ میں دونوں کے مگر ...

مزید پڑھیے

سورج کا المیہ

مرے پیچھے بہت پیچھے مرے ماضی کے لمبے غار میں سانپوں کا ڈیرا ہے جہاں پر ہول ہیبت ناک بھوتوں کا بسیرا ہے مرے آگے بہت آگے مرا رنگین مستقبل ہے اک پھولوں کی وادی ہے کہ جس کی گود میں خوابوں کی الھڑ شاہزادی ہے مرے پیچھے اندھیرے غار ہیں مکڑی کے جالے ہیں مرے آگے سنہرے خواب ہیں کرنوں کے ...

مزید پڑھیے

تم نے لکھا ہے

تم نے لکھا ہے مرے خط مجھے واپس کر دو ڈر گئیں حسن دل آویز کی رسوائی سے میں نہ کہتا تھا کہ تم مجھ سے محبت نہ کرو یوں نہ کھیلو مرے جذبات کی رعنائی سے سب سمجھتے تھے ہمیشہ مجھے جان محفل اب مرا حال تو پوچھو مری تنہائی سے تم نئی بزم سجا لو گی تمہارا کیا ہے تمہیں ڈھونڈیں گی کہاں میری سلگتی ...

مزید پڑھیے

آٹوگراف

تمہارے نام کے نقطے یہ خوبرو نقطے بنائے ہیں جو تمہارے قلم نے کاغذ پر حسین آنکھوں سے تکتے ہیں اس طرح مجھ کو کہ جیسے دھند بھرے خواب کے جزیرے میں سلونی سانولی یادوں کا حسن لرزاں ہو تمہارا نام ہے حرف و صدا کی لہروں میں ابھرتی ڈوبتی پرچھائیوں کا عکس جمیل سلگ کے جھانک رہی ہیں پگھلتے ...

مزید پڑھیے

پھرتے رہے ازل سے ابد تک اداس ہم

پھرتے رہے ازل سے ابد تک اداس ہم آئے نہ انقلاب زمانہ کو راس ہم دیکھیں گے چھو کے سرخ بدن آفتاب کا تبدیل کر چکے ہیں خلا کا لباس ہم یہ زندگی تو خون جگر پی گئی تمام کیسے بجھائیں سوکھے سمندر کی پیاس ہم شہر جنوں کی دھوپ جلا دے گی جسم و جاں چلئے چلیں گھنیرے چناروں کے پاس ہم پر نور ہے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ دل کے خرابے سے اور کیا نکلا

نہ پوچھ دل کے خرابے سے اور کیا نکلا بڑی تلاش کے بعد ایک نقش پا نکلا رکے تو چاند بہت دور تھا تصور سے چلے تو چار ہی قدموں کا فاصلا نکلا خرد کے پھول تو مرجھا گئے بہاروں میں جنوں کا زخم خزاں میں ہرا بھرا نکلا سیاہ رات میں لو دے اٹھے لہو کے چراغ رباب عشق سے وہ شعلۂ نوا نکلا سفر شباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1960 سے 6203