کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا
کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا تجھے کس کس نگاہ سے دیکھا شدت لا زوال سے چاہا حسرت بے پناہ سے دیکھا اتنا سوچا تجھے کہ دنیا کو ہم نے تیری نگاہ سے دیکھا شوق کیا غیر معتبر ٹھہرا تو نے جب اشتباہ سے دیکھا اپنی تاریک زندگی میں تجھے خوب تر مہر و ماہ سے دیکھا اہل دل پر تری کشش کا اثر اپنے ...