قومی زبان

کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا

کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا تجھے کس کس نگاہ سے دیکھا شدت لا زوال سے چاہا حسرت بے پناہ سے دیکھا اتنا سوچا تجھے کہ دنیا کو ہم نے تیری نگاہ سے دیکھا شوق کیا غیر معتبر ٹھہرا تو نے جب اشتباہ سے دیکھا اپنی تاریک زندگی میں تجھے خوب تر مہر و ماہ سے دیکھا اہل دل پر تری کشش کا اثر اپنے ...

مزید پڑھیے

چاند ہی نکلا نہ بادل ہی چھما چھم برسا

چاند ہی نکلا نہ بادل ہی چھما چھم برسا رات دل پر غم دل صورت شبنم برسا جلتی جاتی ہیں جڑیں سوکھتے جاتے ہیں شجر ہو جو توفیق تو آنسو ہی کوئی دم برسا میرے ارمان تھے برسات کے بادل کی طرح غنچے شاکی ہیں کہ یہ ابر بہت کم برسا پے بہ پے آئے سجل تاروں کے مانند خیال میری تنہائی پہ شب حسن جھما ...

مزید پڑھیے

اک خواب تھا آنکھوں میں جو اب اشک سحر ہے

اک خواب تھا آنکھوں میں جو اب اشک سحر ہے اک طائر وحشی تھا سو وہ خون میں تر ہے وہ دور نہیں ہے یہ رسائی نہیں ہوتی ہر لمحہ کوئی تازہ خم راہ گزر ہے دل آج کچھ اس طرح دھڑکتا ہے کہ جیسے اب شوق ملاقات پہ حاوی کوئی ڈر ہے کچھ حوصلۂ ضبط ہے کچھ وضع ہے اپنی شعلہ نہ بنا لب پہ جو سینے میں شرر ...

مزید پڑھیے

اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں بابا

اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں بابا آنکھ دریا تھی مگر دل تھا بیاباں بابا یہ وہ آنسو ہیں جو اندر کی طرف گرتے ہیں ہوں بھی تو ہم نظر آتے نہیں گریاں بابا اس قدر صدمہ ہے کیوں ایک دل ویراں پر شہر کے شہر یہاں ہو گئے ویراں بابا یہ شب و روز کے ہنگاموں سے سہمے ہوئے لوگ رہتے ہیں موج صبا سے ...

مزید پڑھیے

دکھ تماشا تو نہیں ہے کہ دکھائیں بابا

دکھ تماشا تو نہیں ہے کہ دکھائیں بابا رو چکے اور نہ اب ہم کو رلائیں بابا کیسی دہشت ہے کہ خواہش سے بھی ڈر لگتا ہے منجمد ہو گئی ہونٹوں پہ دعائیں بابا موت ہے نرم دلی کے لیے بدنام ان میں ہیں یہاں اور بھی کچھ ایسی بلائیں بابا داغ دکھلائیں ہم ان کو تو یہ مٹ جائیں گے کیا غم گساروں سے ...

مزید پڑھیے

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچ

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچ اپنے آپ میں سب سچے ہیں مسجد و دیر کے بیچ لاگ ہو یا کہ لگن ہو دونوں ایک دیے کی لویں ایک ہی روشنی لہراتی ہے پیار اور بیر کے بیچ دل میں دھوپ کھلے تو اندھیرے چھٹ جاتے ہیں آپ اب ہم فرق روا نہیں رکھتے یار اور غیر کے بیچ سوچ سمجھ سب سچ ہے لیکن ...

مزید پڑھیے

جب انہی کو نہ سنا پائے غم جاں اپنا

جب انہی کو نہ سنا پائے غم جاں اپنا چپ لگی ایسی کہ خود ہو گئے زنداں اپنا نارسائی کا بیاباں ہے کہ عرفاں اپنا اس جگہ اہرمن اپنا ہے نہ یزداں اپنا دم کی مہلت میں ہے تسخیر مہ و مہر کی دھن سانس اک سلسلۂ خواب درخشاں اپنا طلب اس کی ہے کہ جو سرحد امکاں میں نہیں میری ہر راہ میں حائل ہے ...

مزید پڑھیے

کیا سروکار اب کسی سے مجھے

کیا سروکار اب کسی سے مجھے واسطہ تھا تو تھا تجھی سے مجھے بے حسی کا بھی اب نہیں احساس کیا ہوا تیری بے رخی سے مجھے موت کی آرزو بھی کر دیکھو کیا امیدیں تھیں زندگی سے مجھے پھر کسی پر نہ اعتبار آئے یوں اتارو نہ اپنے جی سے مجھے تیرا غم بھی نہ ہو تو کیا جینا کچھ تسلی ہے درد ہی سے ...

مزید پڑھیے

کتنے امکاں تھے جو خوابوں کے سہارے دیکھے

کتنے امکاں تھے جو خوابوں کے سہارے دیکھے ماورا تھے جو نظر سے وہ نظارے دیکھے پردے اٹھتے گئے آنکھوں سے تو رفتہ رفتہ برگ گل برف میں پتھر میں شرارے دیکھے دل پہ اس وقت کھلا حوصلۂ غم کا جمال اپنے ہر رنگ میں جب روپ تمہارے دیکھے آسرے جاتے رہے آس ابھی باقی ہے پو بھی پھوٹے گی جہاں ڈوبتے ...

مزید پڑھیے

عجب کشاکش بیم و رجا ہے تنہائی

عجب کشاکش بیم و رجا ہے تنہائی ترے بغیر ترا سامنا ہے تنہائی نئے دنوں کی صلیبیں گئے دنوں کے مزار عذاب خود سے ملاقات کا ہے تنہائی فضا میں ہیں کسی طوفان تند کے آثار سفر طویل ہے اور راستا ہے تنہائی بہت اداس ہے دل دوستوں کی محفل میں ہر ایک آنکھ میں چہرہ نما ہے تنہائی شگفتہ پھولوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 195 سے 6203