قومی زبان

زندگی دشت میں جب چھوڑ کے آتی ہے ہمیں

زندگی دشت میں جب چھوڑ کے آتی ہے ہمیں تیری یادوں کی مہک ڈھونڈھ کے لاتی ہے ہمیں رکھ دے آنکھوں پہ میری غفلتوں والا چشمہ اس سے دنیا بڑی بہتر نظر آتی ہے ہمیں ایک ہی تال میں ہر نبض کا چلتے رہنا تم نہ سمجھو گے یہ ترتیب ڈراتی ہے ہمیں درد تنہائی تڑپ سوز خلا بے چینی لفظ کیا کیا یہ محبت ...

مزید پڑھیے

نظریں ہٹیں ذرا سی کہ صحبت بگڑ گئی

نظریں ہٹیں ذرا سی کہ صحبت بگڑ گئی رہ کر کبوتروں میں میری چھت بگڑ گئی اک روز اس نے شوق میں سوتی پہن لیا ریشم کی تو بازار میں قیمت بگڑ گئی ہم نے ہی تو ہر بار چنے ایسے حکمراں کس منہ سے کہیں ہم کہ سیاست بگڑ گئی اک تخت ایک تاج و دس بیس اشرفیاں اتنے میں ہی حضور کی نیت بگڑ گئی اتنے بڑے ...

مزید پڑھیے

گورکھ دھندھا ہو جاؤں کیا؟

گورکھ دھندھا ہو جاؤں کیا؟ میں بھی تم سا ہو جاؤں کیا؟ غزلوں کی بستی سونی ہے پھر آوارہ ہو جاؤں کیا؟ سچ کا گروی چھڑوانا ہے تھوڑا جھوٹا ہو جاؤں کیا؟ ساون نے آنسو سے پوچھا میں بھی کھارا ہو جاؤں کیا؟ سب امیدیں ڈوب رہی ہیں تنکا تنکا ہو جاؤں کیا؟ گھر دفتر کے بٹوارے میں آدھا آدھا ہو ...

مزید پڑھیے

تیری دولت رہ جائے گی تیرے گھر چوباروں تک

تیری دولت رہ جائے گی تیرے گھر چوباروں تک میرے اکھشر سیر کریں گے سورج چاند ستاروں تک بات کفن کی نکلی تھی پر رستے میں نیلام ہوئی رنگ برنگی چنری ہو گئی جب پہنچی اخباروں تک جس کو جیسا روگ دیا ہے اس کا ویسا چارہ گر بیماروں تک وید جی پہنچے شاعر عشق کے ماروں تک مے خانہ میں اور تو کیا ...

مزید پڑھیے

درد گھٹتا بھی نہیں ہے کہ فنا ہو جائے

درد گھٹتا بھی نہیں ہے کہ فنا ہو جائے اور بڑھتا بھی نہیں ہے کہ دوا ہو جائے ہے مجھے علم کہ یہ خواب ہے پر خواب میں ہی میرے اللہ اسے مجھ سے وفا ہو جائے اس کا احسان ہی اتنا ہے میری سانسوں پر غیر ممکن ہے کہ سانسوں سے ادا ہو جائے وہ کسی روز کرے ترک تعلق خود سے اور اسی دن سے مرا صرف مرا ہو ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کے منظر پرانے گھیر لیتے ہیں

تمہاری یاد کے منظر پرانے گھیر لیتے ہیں نہ جانے ڈھونڈھ کر کیسے کہاں سے گھیر لیتے ہیں جو ہم نے ان دنوں بس یوں ہی پوکھر میں اچھالے تھے لگوں جب ڈوبنے تو وہ ہی تنکے گھیر لیتے ہیں میں ایسی شہرتوں کی سوچ سے بھی خوف کھاتا ہوں جدھر نکلو ادھر اخبار والے گھیر لیتے ہیں خدا جانے خدا نے کیوں ...

مزید پڑھیے

میں جب سے سچ کو سچ کہنے لگا ہوں

میں جب سے سچ کو سچ کہنے لگا ہوں جہاں کی آنکھ میں چبھنے لگا ہوں اجالا بانٹنے کی یہ سزا ہے انہریا چاند سا گھٹنے لگا ہوں بھرم رکھنا ان آنکھوں کا کہ جن کو میں روشن دان سا لگنے لگا ہوں میں اس کردار کو اب جی سکوں گا میں اس کردار پر مرنے لگا ہوں

مزید پڑھیے

نیا اب سلسلہ جوڑا نہ جائے

نیا اب سلسلہ جوڑا نہ جائے پرانوں کو مگر توڑا نہ جائے مجھے جو چھوڑ جانا چاہتا ہے اگر جائے تو پھر تھوڑا نہ جائے بہت نقصان کرتی ہے خودی کا انا کا رخ اگر موڑا نہ جائے تمنا آسمانوں کے سفر کی مگر آنگن کہ بس چھوڑا نہ جائے

مزید پڑھیے
صفحہ 1953 سے 6203