قومی زبان

سورج اگا تو پھول سا مہکا ہے کون کون

سورج اگا تو پھول سا مہکا ہے کون کون اب دیکھنا یہی ہے کہ جاگا ہے کون کون باہر سے اپنے روپ کو پہچانتے ہیں سب بھیتر سے اپنے آپ کو جانا ہے کون کون لینے کے سانس یوں تو گنہ گار ہیں سبھی یہ دیکھیے کہ شہر میں زندہ ہے کون کون اپنا وجود یوں تو سمیٹے ہوئے ہیں ہم دیکھو ان آندھیوں میں بکھرتا ...

مزید پڑھیے

آپ کی سنگت کا یہ انداز من کو بھا گیا

آپ کی سنگت کا یہ انداز من کو بھا گیا گردش دوراں میں ہم کو مسکرانا آ گیا ٹوٹ کر برسا جو بادل گھپ اندھیرا چھا گیا تھا اجالا دن کا لیکن روشنی کو کھا گیا قاتلوں نے جسم میرا ریزہ ریزہ کر دیا خون بکھرا رنگ بن کر وادیاں چمکا گیا آگ سے تو بچ گیا میں موت آنی تھی مگر بچتے بچتے پھر بھی میں ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو کاٹ لی ہے سزا آپ خوش رہیں

ہم نے تو کاٹ لی ہے سزا آپ خوش رہیں محفوظ تم کو رکھے خدا آپ خوش رہیں دو پل ملے خوشی کے ہیں ان کو سنوار لیں کل کی خبر ہے کس کو پتا آپ خوش رہیں پایا سکون ہم نے تھا بانہوں میں آپ کی پھر سے نصیب ہوگا وہ کیا آپ خوش رہیں سامان اپنا باندھ کے تم اٹھ کے چل دیے چاروں طرف ہے بہکی ہوا آپ خوش ...

مزید پڑھیے

میں نہ سویا رات ساری تم کہو

میں نہ سویا رات ساری تم کہو بن مرے کیسے گزاری، تم کہو ہجر، آنسو، درد، آہیں، شاعری یہ تو باتیں تھیں ہماری، تم کہو حال مت پوچھو مرا، یہ حال ہے جسم اپنا، جاں ادھاری، تم کہو رکھ دو بس میرے لبوں پہ انگلیاں میں سنوں گا رات ساری، تم کہو پھر کبھی اپنی سناؤں گا تمہیں آج سننی ہے ...

مزید پڑھیے

وہ مرے سینہ سے آخر آ لگا

وہ مرے سینہ سے آخر آ لگا مر نہ جاؤں میں کہیں ایسا لگا ریت ماضی کی مری آنکھوں میں تھی سبز جنگل بھی مجھے صحرا لگا کھو رہے ہیں رنگ تیرے ہونٹ کے ہم نشیں ان پہ مرا بوسہ لگا لہر اک نکلی مری پہچان کی ڈوبتے کے ہاتھ میں تنکا لگا کر رہا تھا وہ مجھے گمراہ کیا ہر قدم پہ راستہ مڑتا لگا کچھ ...

مزید پڑھیے

ساگر بھی تو قطرہ نکلا

ساگر بھی تو قطرہ نکلا جو آنکھوں سے بہتا نکلا بولو اب تم کیا کہتے ہو میں اس بار بھی سچا نکلا دل تو خیر پریشاں تھا ہی ذہن بھی میرا الجھا نکلا ڈوب گیا شب کے دریا میں چاند بھی بس اک قطرہ نکلا شام ہوئی تو دل میں لوٹا درد بھی ایک پرندہ نکلا مجھ سے کس نے باتیں کی تھیں سناٹا تو گونگا ...

مزید پڑھیے

بچ بچا کر جب کہا تعریف میں کم پڑ گیا

بچ بچا کر جب کہا تعریف میں کم پڑ گیا اور کھل کے لکھ دیا تو شعر میں ذم پڑ گیا وقت پر نکلے تھے اور اب تک پہنچ جاتے بھی ہم بیچ میں لیکن موا آموں کا موسم پڑ گیا چودھویں کی رات تھی پر چاندنی تھرکی نہیں دیکھ گھنگرو کی اداسی چاند مدھم پڑ گیا سنگ مرمر کی زمیں پر ایک سکہ یوں گرا دو گھڑی کو ...

مزید پڑھیے

تیرگی کی اپنی ضد ہے جگنوؤں کی اپنی ضد

تیرگی کی اپنی ضد ہے جگنوؤں کی اپنی ضد ٹھوکروں کی اپنی ضد ہے حوصلوں کی اپنی ضد کون سا قصہ سناؤں آپ کو مشکل یہ ہے آنسوؤں کی اپنی ضد ہے قہقہوں کی اپنی ضد گیت میرے چوم آئیں گے تمہیں بن کر صبا سرحدوں کی اپنی ضد ہے حسرتوں کی اپنی ضد راستوں نے خوب سمجھایا الجھنا مت مگر رہزنوں کی اپنی ...

مزید پڑھیے

دونوں جانب قید شدہ اس خوش فہمی میں رہتے ہیں

دونوں جانب قید شدہ اس خوش فہمی میں رہتے ہیں سرحد کے اس پار پرندے آزادی میں رہتے ہیں شام تلک آداب بجاتے گردن دکھنے لگتی ہے پیادے ہو کر شاہوں والی آبادی میں رہتے ہیں گر روئے تو آنکھوں کے سب باشندے بہہ جائیں گے ہائے شکستہ خواب ہمارے اس بستی میں رہتے ہیں زینہ در زینہ جب تیری یاد ...

مزید پڑھیے

جو ہم تیری آنکھوں کے تارے ہوئے ہیں

جو ہم تیری آنکھوں کے تارے ہوئے ہیں کئی رتجگوں کے سنوارے ہوئے ہیں برابر پہ چھوٹی محبت کی بازی نہ جیتے ہوئے ہیں نہ ہارے ہوئے ہیں انہیں کی نظر میں اترنا ہے ہم کو جو ہم کو نظر سے اتارے ہوئے ہیں قلم یاد کافی بھرم چند پنے بس اتنے میں بھی دن گزارے ہوئے ہیں غزل کا ہنر صرف حاصل غموں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1952 سے 6203