قومی زبان

امکان

مرے لفظ میرے لہو کی لو مرے دل کی لے جسے نور نے کی تلاش ہے مرے اشک میرے وہ حرف ہیں جو مرے لبوں پہ نہ آ سکے میں اگر کہوں بھی تو کیا کہوں کہ ہنوز میری زباں میں ہے وہی نا کشودہ گرہ کہ تھی تو سنے تو ابر بھی نغمہ ہے تو سنے تو موج ہوا بھی راگ کی تان ہے تو سنے تو پات بھی پھول بھی کسی گپت گیت ...

مزید پڑھیے

راہرو

سبک پا ہوا کی طرح میں گزرتا رہا سبک پا ہوا کی کہیں کوئی منزل نہیں ہوا بیکراں وقت کی موج ازل سے ترستی رہی کہیں پل کو سستا سکے سو سکے مگر دور حد نظر اک دھندلکا تھا اب بھی دھندلکا ہے ساحل نہیں مجھے زندگی اک خلش بن کے ڈستی رہی کبھی ایسی منزل نہ آئی جہاں کوئی تازہ نفس ہو سکے ہر اک دھندلی ...

مزید پڑھیے

وقت کاتب ہے

وقت کاتب ہے تو مسطر چہرے جب سے تحریر شناسی مری تقدیر ہوئی وہ معانی پس الفاظ نظر آتے ہیں جن کو پہچان کے دل ڈرتا ہے اور ہر چہرے سے ایک ہی چہرہ ابھر آتا ہے جو مرا چہرہ ہے اور امروز کا آئینہ یہ کہتا ہے کہ دیکھ آدمی زادے تری عمر کی شام آ پہنچی سر پہ اب راکھ اتر آئی ہے برف کنپٹیوں ...

مزید پڑھیے

ہرجائی

شام لوٹ آئی گھنی تاریکی اب نہ آئے گی خبر راہی کی جاگی تاروں کی ہر اک راہ گزار دور اڑتا نظر آتا ہے غبار آپ کی باتیں ہیں کتنی پھیکی کس کی راہ تکتی ہو کون آنے لگا کیا تمہیں بھی کوئی بہکانے لگا ان کی آنکھیں ہیں کہ خوابوں کا فسوں ان کی باتیں ہیں کہ الفت کا جنوں آپ کو کاہے کا غم کھانے ...

مزید پڑھیے

تنہا

اک شاخ سے پتا ٹوٹ گرا اور تو نے ٹھنڈی آہ بھری اک شاخ پہ کھلتا شگوفہ تھا تو اس سے بھی بیزار سی تھی تو اپنے خیال کے کہرے میں لپٹی ہوئی گم سم بیٹھی تھی تو پاس تھی اور میں تنہا تھا میرے دل میں تیرا غم تھا تیرے دل میں جانے کس کا ہم دونوں پاس تھے اور اتنے انجان ہوا کا ہر جھونکا اک ساتھ ہی ...

مزید پڑھیے

گو سر ارتقا و بقا میرا جسم ہے

گو سر ارتقا و بقا میرا جسم ہے سنتا ہوں تو فنا کی سدا میرا جسم ہے میں ہوں ازل سے وقت کی گردش کا راز دار یہ بزم کائنات ہے کیا میرا جسم ہے ایسا رہا چمن میں کہ محسوس یہ ہوا جو گل کھلا جو سبزہ اگا میرا جسم ہے آنکھوں کے ماورا جھلک اٹھتا ہے گاہ گاہ وہ شوخ جس کی سادہ قبا میرا جسم ہے میری ...

مزید پڑھیے

شاداب شاخ درد کی ہر پور کیوں نہیں

شاداب شاخ درد کی ہر پور کیوں نہیں ہر برگ اک زباں ہے تو پھر شور کیوں نہیں وارستۂ‌ عذاب تماشا ہے چشم برگ اے آگہی نگاہ مری کور کیوں نہیں دست سوال برگ ہے شبنم سے کیوں تہی جو بادلوں کو لوٹ لے وہ زور کیوں نہیں زیست ایک برگ تشنہ ہے وہ ابر کیا ہوئے اب ان کی کوئی راہ مری اور کیوں ...

مزید پڑھیے

دروغ گو راوی

دل دروغ گو راوی فاصلے بلا کے ہیں پیرہن کے پیرائے جسم کی پرستش میں جستجو محبت کی خود فریب خواہش میں دل دروغ گو راوی فاصلے بلا کے ہیں پیکر وفا کس نے جسم سے تراشا ہے زلف و عارض و لب میں پیرا کا تماشا ہے داغ دل کا سرمایہ کس نے کس کو اپنایا

مزید پڑھیے

تابہ کے

لفظ اور ہونٹ کے مابین کہیں سانس الجھ جاتی ہے تیرے آنگن کے کسی گوشۂ نادیدہ میں منحنی ہاتھوں سے دیوار پکڑتی ہوئی امید کی بیل اپنے ہی غم سے دہکتی رہی دم دم پیہم اپنے ہی نم سے مہکتی رہی موسم موسم لفظ ابھرتے رہے رک رک کے سر شاخ نیاز بیل کے پھول کبھی رنگ کبھی خوشبو سے آن کی آن ترے لمس ...

مزید پڑھیے

طلوع

کسے یقیں تھا کہ پلٹے گی رات کی کایا کٹی تو رات مگر ایک ایک پل گن گن افق پہ آئی بھی تھی سرخیٔ سحر لیکن سحر کے ساتھ ہی ابر سیاہ بھی آیا سحر کے ساتھ ہی حد نگاہ تک چھایا یہ کیا غضب ہے کہ اب تیرہ تر ہے رات سے دن زمانہ شوخ شعاعو اداس ہے تم بن بس اک جھلک کہ اٹھے سر سے یہ گھنا سایا یہ ڈر بھی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 194 سے 6203