قومی زبان

چاک

۱ وہ ازل سے اپنے عظیم چاک پہ ممکنات کے انکشاف میں محو ہے فلک و زمیں مہ و آفتاب و نجوم کہنہ کرشمے اس کے کمال کے ابھی اس کی جدت بے پناہ کو طرح نو کی تلاش ہے ابھی عرش و فرش کے ناشنیدہ شمائل اس کی نظر میں ہیں ابھی ماورائے خیال و فکر مسائل اس کی نظر میں ہیں کرۂ زمیں کو یہ فخر ہے کہ یہ خاک ...

مزید پڑھیے

آنسو

سنو، سنو، آنسوؤں کی آواز روح کو اپنے دکھتے ہاتھوں سے چھو رہی ہے خزاں زدہ خشک پتیاں ہیں جو سطح آب رواں پہ رک رک کے گر رہی ہیں وہ سطح آب آئینہ ہے جس میں گزشتہ لمحوں کے ملگجے نقش ابھر رہے ہیں ان آئینہ رنگ آنسوؤں میں ہر آرزو ہر خیال ہر یاد ایک تصویر بے کسی ہے شفق کے بجھتے الاؤ میں راکھ ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

وہی صدا جو مرے خوں میں سرسراتی تھی وہ سایہ سایہ ہے اب ہر کسی کی آنکھوں میں یہ سرسراہٹیں سانپوں کی سیٹیوں کی طرح سیاہیوں کے سمندر کی تہ سے موج بہ موج ہماری بکھری صفوں کی طرف لپکتی ہیں بدن ہیں برف، رگیں رہ گزار ریگ رواں کئی تو سہم کے چپ ہو گئے ہیں صورت سنگ جو بچ گئے ہیں وہ اک دوسرے کی ...

مزید پڑھیے

کہی ان کہی

لفظ تصویریں بناتے ترے ہونٹوں سے اٹھے تھے لیکن دیکھتے دیکھتے تحلیل ہوئے ان کی حدت مری رگ رگ میں رواں تھی سو رہی پھر ترے ہاتھوں کا لمس ایسے ملائم الفاظ تیری آنکھوں کی چمک روشن و مبہم الفاظ اور وہ لفظ جو لفظوں میں نہاں رہتے ہیں اور وہ لفظ کہ اظہار کے محتاج نہیں پھر بھی ہیں ان کے لیے ...

مزید پڑھیے

دوری

مری نظر میں ہے اب تک وہ شام وہ محفل وہ اک ہجوم طرب وہ نشاط نغمہ و نور شریر لڑکیاں رنگین تتلیاں بے تاب لبوں پہ گل کدۂ گفتگو کھلائے ہوئے وہ قہقہے وہ مسرت کی نقرئی جھنکار اور اس ہجوم میں تم جیسے گلستاں میں بہار میں اپنے گوشۂ کم تاب میں ہجوم سے دور اداس نظروں میں مدھم دیے جلائے ...

مزید پڑھیے

خود فریب

نہیں نہیں مجھے نور سحر قبول نہیں کوئی مجھے وہ مری تیرگی عطا کر دے کہ میں نے جس کے سہارے بنے تھے خواب پہ خواب ہزار رنگ مرے مو قلم میں تھے جن سے بنا بنا کے بت آرزو کی تصویریں سیاہ پردۂ شب پر بکھیر دیں میں نے رواں تھے میرے رگ و پے میں ان گنت نغمے وہ دکھ کے گیت جو لب آشنا نہیں اب تک میں ...

مزید پڑھیے

ابو الہول

جہان ریگ کے خواب گراں سے آج تو جاگ ہزاروں قافلے آتے رہے گزرتے رہے کوئی جگا نہ سکا تجھ کو تجھ سے کون کہے وہ زیست موت ہے جس میں کوئی لگن ہو نہ لاگ تڑپ اٹھے ترے ہونٹوں پہ کاش اب کوئی راگ جو تیرے دیدۂ سنگیں سے درد بن کے بہے یہ تیری تیرہ شبی بجلیوں کے ناز سہے یوں ہی سلگتی رہے تیرے دل میں ...

مزید پڑھیے

بڑا شہر

کراچی کسی دیو قد کیکڑے کی طرح سمندر کے ساحل پہ پاؤں پسارے پڑا ہے نسیں اس کی فولاد و آہن بدن ریت سیمنٹ پتھر بسیں ٹیکسیاں کاریں رکشا رگوں میں لہو کی بجائے رواں جسم پر جا بجا داغ دلدل نما جہاں عنکبوت اپنے تاروں سے بنتے ہیں بنکوں کے جال کہ ان میں شمال اور مشرق سے آئے ہوئے اشتہا اور ...

مزید پڑھیے

تسلسل

بزم خواہش کے نو واردو تم نہیں جانتے کیسے آہستہ آہستہ جسموں کے اندر رگوں تک پہنچتے ہیں پت جھڑ کے ہاتھ کیسے سرما کی شام ڈھانپ لیتی ہے کہرے کی چادر میں منظر تمام کیسے گزری ہوئی زندگی دستکیں دیتی رہتی ہے دل پر مگر جب پکاریں تو رم خوردہ رویا کے مانند دوری کی سرحد کے اس پار آتی ...

مزید پڑھیے

ہم

1 بچھی ہوئی ہے بساط کب سے زمانہ شاطر ہے اور ہم اس بساط کے زشت و خوب خانوں میں دست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیں بچھی ہوئی ہے بساط ازل سے بچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہے بساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہے کرشمۂ کائنات کیا ہے بساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 193 سے 6203