قومی زبان

وقت قریب ہے پھر منظر کے بدلنے کا

وقت قریب ہے پھر منظر کے بدلنے کا سورج کی ضد دیکھو یہ نہیں ڈھلنے کا میں بھی تلاش آب ہوس میں نکلا ہوں شور سنا تھا اک چشمے کے ابلنے کا اہل جنوں کیوں دشت میں آنا چھوڑ دیا بھول گئے فن نوک خار پہ چلنے کا صبح تلک اس شہر میں جانے کیا ہو جائے رشتہ ڈھونڈھو راتوں رات نکلنے کا یاد یار کا آ ...

مزید پڑھیے

خشک ہو جائے نہ جھرنے والا

خشک ہو جائے نہ جھرنے والا اب کے تالاب ہے بھرنے والا جسم پر نام نہ لکھنا اپنا یہ ہے مٹی میں اترنے والا مار کر دیکھ لیا ہے اس کو ہم سے مرتا نہیں مرنے والا اب تو آہٹ بھی نہیں آتی ہے یوں گزرتا ہے گزرنے والا اس لیے جھیل میں ہلچل ہے بہت اک جزیرہ ہے ابھرنے والا ہو رہا ہے پس دیوار بھی ...

مزید پڑھیے

میرا پسندیدہ منظر

مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی مجھے ان دھند کی چادر میں اب لپٹے نہیں رہنا مجھے اس عالم یخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا مجھے موہوم لفظوں کا شناسائی نہیں بننا مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے ...

مزید پڑھیے

نظم

وہ جوانی کے نشے میں لڑکھڑاتی ڈولتی جاتی حسینہ میں ہوں اک پژمردہ و پامال سا درماندگی کے قہر کا مارا ہوا بے حس مسافر جس کی نظروں میں فقط اس کے تعاقب کی سکت باقی بچی ہے پھر بھی میرے جسم کے اک زندہ اور جاوید حصے میں یہ دھڑکنے کی صدا ان کی شاکی ہے جو کہتے ہیں کہ میرا جسم خاکی ہے

مزید پڑھیے

صبح دم

صبح دم اس کی آنکھوں میں ڈھلتی ہوئی رات کا نشۂ وصل ہے جسم جیسے کہ اک لہلہاتی ہوئی فصل ہے

مزید پڑھیے

محبت کے اس بے کراں سفر میں

عورت! تیرے کتنے روپ، تیرے کتنے نام محبت کے اس بے کراں سفر میں کتنے پڑاؤ، کتنے مقام کبھی کلی، کبھی پھول اور کبھی مرجھائی ہوئی پنکھڑی کبھی انار، کبھی ماہتاب اور کبھی پھلجھڑی تخلیق کا منبع، شکتی کا خزینہ تیری ذات محور لامتناہی سلسلۂ حیات و ممات شفقت، محبت، ایثار و وفا سب تیرے ...

مزید پڑھیے

میری رامائن ادھوری ہے ابھی

میری رامائن ادھوری ہے ابھی میری سیتا اور مجھ میں حائل دوری ہے ابھی میری سیتا اداس ہے رشتوں کا پھیلا بن باس ہے پھرنا ہے مجھے ابھی جنگل جنگل صحرا صحرا ساگر ساگر میرا حمزہ وہی میرا لچھمن ہے ابھی زمانہ تو عیار ہے سو بھیس بدل لیتا ہے سادھوؤں کے بہروپ میں ہیں پوشیدہ ابھی نہ جانے راکشش ...

مزید پڑھیے

شاعر کا خواب

میرے پوتے نے آکسیجن کا بستہ اپنی پیٹھ پر باندھ کر اجازت مانگی خلا کے سفر کے لیے میرے بیٹے نے جو روشنی کو گن رہا تھا میز پر اپنی نگاہوں کے دو سوالیہ شانوں کو اچھال دیا میری طرف میں نے دوا کی گولیوں کے رکھتے ہوئے ایک مریضہ کے نحیف ہاتھ میں اپنی جھریوں کے بھنور سے پھینک دیا دو نگاہوں ...

مزید پڑھیے

آنے والا انقلاب آیا نہیں

آنے والا انقلاب آیا نہیں کیا کوئی اہل کتاب آیا نہیں اسم اعظم بھی پڑھا ہے بار بار غار سے لیکن جواب آیا نہیں ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ زیر زمیں کونپلیں پھوٹیں گلاب آیا نہیں رات بھر پھر ہجر کا موسم رہا جس کو آنا تھا وہ خواب آیا نہیں خشک لب لوٹے ہیں کیوں صحرا نورد راستے میں کیا سراب ...

مزید پڑھیے

کھا جائے گا یہ جان کو آزار دیکھنا

کھا جائے گا یہ جان کو آزار دیکھنا پہروں کسی کو صورت دیوار دیکھنا آہٹ سی ایک پانا در جاں کے آس پاس سایہ سا اک فصیل کے اس پار دیکھنا میرے لباس میں کبھی پھر کر گلی گلی میری نظر سے شہر کا کردار دیکھنا

مزید پڑھیے
صفحہ 1933 سے 6203