قومی زبان

دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی

دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی منزل کو میری قرب سے نسبت ہے دور کی فرقت نے اس کی وصل کی تشویش دور کی تسکیں نہیں ہے یوں بھی دل ناصبور کی موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی کہتا ہے انجمن کو تری خلد مدعی اس بوالہوس کے دل میں تمنا ہے حور کی واعظ نے ...

مزید پڑھیے

خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹ

خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹ درد سر کاٹنا ہے تو سر کاٹ گر لکھوں اس کو نامۂ الفت حرف مطلب کو دے مقدر کاٹ قتل سے میرے گر پھرے قاتل دانت سے لوں زبان خنجر کاٹ گر ہے بیداد ہی پسند تجھے گردن غیر اے ستم گر کاٹ غم برق و تگرگ کو نہ خرید کشت امید کو سراسر کاٹ وقت دے زیر خار زار گزار موسم ...

مزید پڑھیے

خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں

خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں زمین و آسماں کا طرز داں ہوں میں اپنی بے نشانی کا نشاں ہوں ہجوم ماتم عمر رواں ہوں ترے جاتے ہی میری زیست تہمت نہیں ملتا پتا اپنا کہاں ہوں غبار کاروان مور ہے زیست یہ خط یار سے آشفتہ جاں ہوں نہیں کچھ کام بخت و آسماں سے میں ناکامی میں اپنی کامراں ...

مزید پڑھیے

آئے کیا تیرا تصور دھیان میں

آئے کیا تیرا تصور دھیان میں کچھ سے کچھ ہے آن ہی کی آن میں یاں اشارات غلط پر زندگی واں ادا ہے اور ہی سامان میں تیغ قاتل ہے رگ گردن مری آب پیکاں دم تن بے جان میں یا تو قاتل ہو گیا رحم آشنا یا پڑے ہوں گے کہیں میدان میں اشک اپنے پھر پھرا کر ہر طرف آئے آخر تیرے ہی دامان میں ہائے کیسے ...

مزید پڑھیے

کہیے کیا اور فیصلے کی بات

کہیے کیا اور فیصلے کی بات وصل ہے اک معاملے کی بات اس کے کوچے میں لاکھ سر گرداں ایک یوسف کے قافلے کی بات گیسوئے حور اور زاہد بس ذکر کاکل ہے سلسلے کی بات غیر سے ہم کو رشک صل علیٰ کہیے کچھ اپنے حوصلے کی بات ایک عالم کو کر دیا پامال یہ بھی ہے کوئی مشغلے کی بات کیا بگڑنا انہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی مرگ کی مہلت ہی سہی

زندگی مرگ کی مہلت ہی سہی بہر واماندہ اقامت ہی سہی دوستی وجہ عداوت ہی سہی دشمنی بہر رفاقت ہی سہی طول دیتے ہو عداوت کو کیوں مختصر قصۂ الفت ہی سہی رکھ کسی وضع سے احسان کی خو مجھ کو آزار سے راحت ہی سہی آپ کا بھی نہیں چھٹتا دامن میرے در پہ مری شامت ہی سہی عاقبت حشر کو آنا اک ...

مزید پڑھیے

نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام

نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام اس خانماں خراب کا کیا نام کیا مقام ہر روز تازہ منزل و ہر شب نیا مقام مہلت نہیں قیام کی دنیا ہے کیا مقام جا مل گئی جسے تری دیوار کے تلے ہے اس کو گور تنگ بھی اک دل کشا مقام ڈرتے ہیں ہم تو نام بھی لیتے ہوئے ترا تو ہی بتا کہ پوچھیے کیوں کر ترا مقام انسان ...

مزید پڑھیے

اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں

اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں کہ پردہ دری ہے شعار گریباں ہر اک تار ہے دست گیر تماشا کیا ضعف نے شرمسار گریباں کتان و گل و سینۂ اہل حسرت بہت چیز ہیں یادگار گریباں اگر دشمنی بخیہ گر کو نہیں تو کیوں اس قدر دوست دار گریباں یہیں قید رسم خلائق پسند ہر اک سانس ہے خار خار گریباں وفا ...

مزید پڑھیے

جو دل بر کی محبت دل سے بدلے

جو دل بر کی محبت دل سے بدلے تو لوں امید لا حاصل سے بدلے محال عقل کوئی شے نہیں ہے جو آسانی مری مشکل سے بدلے جہاں ہے کور اور خورشید محجوب کہاں تک شمع ہر محفل سے بدلے تہی دست محبت تو بھی سمجھو جو جم ساغر کو جام گل سے بدلے ہر اک کو جان دینے کی خوشی ہو اجل گر ناوک قاتل سے بدلے اگر ہو ...

مزید پڑھیے

ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق

ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق بے وصال اچھا ہوا بھی کوئی بیمار فراق شوخیٔ پردہ نشیں کی عشوہ سازی دیکھنا دل ہے بدمست وصال اور دیدہ بیدار فراق ایک نالے میں پھرے گا مہر و مہ کو ڈھونڈھتا اے فلک مت چھیڑ مجھ کو ہوں عزا دار فراق وصل تھی میری سزا ہجر انتقام غیر تھا کب ہوا خو کردۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1892 سے 6203