دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی
دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی منزل کو میری قرب سے نسبت ہے دور کی فرقت نے اس کی وصل کی تشویش دور کی تسکیں نہیں ہے یوں بھی دل ناصبور کی موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی کہتا ہے انجمن کو تری خلد مدعی اس بوالہوس کے دل میں تمنا ہے حور کی واعظ نے ...