قومی زبان

اٹھنے میں درد متصل ہوں میں

اٹھنے میں درد متصل ہوں میں گرد باد غبار دل ہوں میں کعبے تک ساتھ آیا شوق صنم ہائے بت خانہ کیا خجل ہوں میں حیف کس مدعی کی جاں ہے تو ہائے کس آشنا کا دل ہوں میں تجھ کو دوں کیا جواب اے داور اپنے ہی آپ منفعل ہوں میں تیری نازک تنی پہ غور نہ کی اپنی امید سے خجل ہوں میں نہ ہلا اس کے در سے ...

مزید پڑھیے

ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں

ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں اے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیں تم کو فریاد ستم کش کا خطر کچھ بھی نہیں کچھ تو الفت کا اثر ہے کہ اثر کچھ بھی نہیں عافیت ایک اور آزار ہزاروں اس میں جس کو کچھ سود نہیں اس کو ضرر کچھ بھی نہیں خلوت راز میں کیا کام ہے ہنگامے کا ہے ...

مزید پڑھیے

اے ستم آزما جفا کب تک

اے ستم آزما جفا کب تک کشتۂ زندگی وفا کب تک گرمیٔ کوشش جفا کب تک دعویٔ شہرت وفا کب تک اے دل زہد خو ریا کب تک نامرادانہ مدعا کب تک ایک میں مل گیا خدا مارا یوں نباہے گا دوسرا کب تک امتحاں پر یہ امتحاں تا چند آزما آزمائے گا کب تک حسرت آئے گی دم میں سو سو بار اے ہوس شور مرحبا کب ...

مزید پڑھیے

خود دیکھ خودی کو او خود آرا

خود دیکھ خودی کو او خود آرا پہچان خدا کو بھی خدا را ترچھی یہ نگاہ ہے کہ آرا ہر جزو جگر ہے پارا پارا دیکھیں گے بتوں کی ہم کجی کو سیدھا ہے اگر خدا ہمارا کیوں موت کے آسرے پہ جیتے اے زیست ہمیں تو تو نے مارا اللہ رے دل کی بے قراری کھاتا ہی نہیں کہیں سہارا جاں دینی ہے میری آزمائش دل ...

مزید پڑھیے

تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق

تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق تری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلقؔ ہوا دل کے جانے کا اب یقیں کہ وہ درد بر میں مرے نہیں نہ وہ اضطراب قضا کہیں نہ وہ حشر خیز بلا قلقؔ مجھے حشر کر دیا بیٹھنا مجھے قہر ہو گیا ٹھہرنا ہے بسان صبر گریز پا نہیں غم گسار مرا ...

مزید پڑھیے

نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا

نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا ہو کے دشمن بھی آشنا نہ رہا بے وفا جان و مال بے صرفہ کیا رہا جب کہ دل ربا نہ رہا سبھی اغیار ہیں سبھی عاشق اعتماد اس کا ایک جا نہ رہا خاک تھا جس چمن کی رنگ ارم پتے پتے کا واں پتا نہ رہا وصل میں کیا وصال مشکل تھا یاد پر روز ہجر کا نہ رہا خط مرا واں گیا گیا نہ ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے

کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے سوچ کچھ دل میں پوچھتا کیا ہے دل ہے یہ یا کہ آبلہ کیا ہے کیوں ہے اتنا بھرا ہوا کیا ہے کیسے کیسے جواں کیے برباد عشق کیا شے ہے یہ بلا کیا ہے دل کو دینا تھا دے دیا ظالم اور ہم نے ترا لیا کیا ہے گر رقابت تمہیں نہیں مجھ سے پھر یہ آئینہ دیکھنا کیا ہے پہلے ...

مزید پڑھیے

راز دل دوست کو سنا بیٹھے

راز دل دوست کو سنا بیٹھے مفت میں مدعی بنا بیٹھے انجمن ہے تری طلسم رشک آشنا ہیں جدا جدا بیٹھے کثرت سجدہ سے پشیماں ہیں کہ ترا نقش پا مٹا بیٹھے کل جو تاج و حشم کو چھوڑ اٹھے آج وہ تیرے در پہ آ بیٹھے کی ہے آخر کو ناشتا شکنی داغ پر داغ ہم تو کھا بیٹھے طرز ساقی سے دیر کے سب لوگ کر رہے ...

مزید پڑھیے

پی بھی اے مایۂ شباب شراب

پی بھی اے مایۂ شباب شراب گرم جوشی سے ہے کباب شراب مریمی اڑ گئی مسیحا کی لب نازک پہ ہے شراب شراب اس سے ہم جا بھڑے عدو کے گھر ہے پڑی خانماں خراب شراب کیوں کہ مطلق حرام ہی کہیے پیجئے گا ملا کے آب شراب بہر ہر ظرف امتحاں ساغر ہر تمنا کا انتخاب شراب بعد ازیں محتسب قسم لے لے توبہ ...

مزید پڑھیے

تیرے وعدے کا اختتام نہیں

تیرے وعدے کا اختتام نہیں کہ قیامت پہ بھی قیام نہیں بے وفائی تمہاری عام ہوئی اب کسی کو کسی سے کام نہیں کس لیے دعویٔ زلیخائی غیر یوسف نہیں غلام نہیں وصل کے بعد ہجر کا کیا کام دور گردوں کا انتظام نہیں کون سنتا ہے نالہ و فریاد چرخ کو خوف انتقام نہیں خال لب دیکھ کر ہوا معلوم کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1891 سے 6203