اٹھنے میں درد متصل ہوں میں
اٹھنے میں درد متصل ہوں میں گرد باد غبار دل ہوں میں کعبے تک ساتھ آیا شوق صنم ہائے بت خانہ کیا خجل ہوں میں حیف کس مدعی کی جاں ہے تو ہائے کس آشنا کا دل ہوں میں تجھ کو دوں کیا جواب اے داور اپنے ہی آپ منفعل ہوں میں تیری نازک تنی پہ غور نہ کی اپنی امید سے خجل ہوں میں نہ ہلا اس کے در سے ...