قومی زبان

بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں

بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں ہم چھپنے نہ پائے کہ چھپا آپ وہ ہم میں کچھ علم و خرد پر نہیں تقدیر کی مقدار اندازۂ پیماں نہ زیادہ میں نہ کم میں ہے طرز محبت ہی دل آشوب وگرنہ کچھ بات عداوت کی نہ تم میں ہے نہ ہم میں ہر قافلۂ درد رسیدہ کی ہے منزل کیا جانیے آرام ہے کیا ملک عدم میں یا ...

مزید پڑھیے

غیر شایان رسم و راہ نہیں

غیر شایان رسم و راہ نہیں کب وہ عاشق ہے جو تباہ نہیں اے فلک دور حسن میں اس کے تجھ کو کچھ فکر مہر و ماہ نہیں ربط دشمن سے بھی وہ بد بر ہے اب کسی طرح سے نباہ نہیں کم نگاہی کو ان کی دیکھتے ہیں ان پہ بھی اب ہمیں نگاہ نہیں پردہ کب تک رہے گا اے ظالم اختر مدعی سیاہ نہیں ظلم کی قدر کے لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1890 سے 6203