قومی زبان

یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی

یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی کہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لی شب غم کبھی در کو اٹھ اٹھ کے دیکھا کبھی ان کی تصویر سے بات کر لی ہم اہل جنوں کا ٹھکانا نہ پوچھو کہیں دن نکالا کہیں رات کر لی چلے آئے موسیٰ کو جلوہ دکھانے قیامت سے پہلے ملاقات کر لی قمرؔ اپنے گھر ان کو مہماں بلا کر بلا ...

مزید پڑھیے

بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں

بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں کہ جیسے سارے زمانے سے بول چال نہیں یہ سوچتا ہوں کہ تو کیوں نظر نہیں آتا مری نگاہ نہیں یا ترا جمال نہیں تجاہل اپنی جفاؤں پہ اور محشر میں خدا کے سامنے کہتے ہو تم خیال نہیں یہ کہہ کے جلوے سے بے ہوش ہو گئے موسیٰ نگاہ اس سے ملاؤں مری مجال نہیں میں ہر ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم

دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے مے خانے کو ہم لے کے اپنے ساتھ اک خاموش دیوانے کو ہم جا رہے ہیں حضرت ناصح کو سمجھانے کو ہم یاد رکھیں گے تمہاری بزم میں آنے کو ہم بیٹھنے کے واسطے اغیار اٹھ جانے کو ہم حسن مجبور ستم ہے عشق مجبور وفا شمع کو سمجھائیں یا ...

مزید پڑھیے

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں جفاؤں کے گلے تم سے خدا جانے بہت سے ہیں مگر محشر کا دن ہے اپنے بیگانے بہت سے ہیں بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں دھری رہ جائے گی پابندیٔ زنداں جو اب ...

مزید پڑھیے

لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے

لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے کہ بلوائے ہوئے مہمان اٹھوائے نہیں جاتے زمیں پر پاؤں رکھنے دے انہیں اے ناز یکتائی کہ اب نقش قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے تجھے اے دیدۂ تر فکر کیوں ہے دل کے ...

مزید پڑھیے

سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئے

سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئے بس تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لئے موجیں ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرت دیدار میں

چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرت دیدار میں اک تماشہ بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں دم نکل جائے گا حسرت سے نہ دیکھ اے ناخدا اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں فصل گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا میں نے جب ...

مزید پڑھیے

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے دل کو ہے درد درد کو ہے دل لئے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کے کشتی کو ناخدا جیسے خود آ گیا کوئی ساحل لئے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لئے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں اور تم اٹھے تھے رونق محفل لئے ...

مزید پڑھیے

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا ...

مزید پڑھیے

یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئے

یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئے خدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئے الٰہی وقت بدل دے مری قضا کے لئے جو کوستے تھے وہ بیٹھے ہیں اب دعا کے لئے بھنور سے ناؤ بچے تیرے بس کی بات نہیں خدا پہ چھوڑ دے اے ناخدا خدا کے لئے ہمارے واسطے مرنا تو کوئی بات نہیں مگر تمہیں نہ ملے گا کوئی وفا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1884 سے 6203