قومی زبان

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے اسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہے پتنگا شمع پہ مرتا ہے کیا برائی ہے اسے کسی نے بھی روکا ہے جس کی آئی ہے ہنسے ہیں گل نہ کلی کوئی مسکرائی ہے حضور کیسے یہ کہہ دوں بہار آئی ہے ضرور کوئی علامت قضا کی پائی ہے مجھے عزیزوں نے صورت تری دکھائی ہے نہ جانے ...

مزید پڑھیے

شوق سحر

کب تک تیری بجھتی آنکھیں نیندوں سے بوجھل چوکھٹ میں ٹوٹتے تاروں گرتے چناروں کا اجڑا منظر دیکھیں گی یہ چوکھٹ تو گزرے پل کا روپ دکھا کر اس آفاق کی دور افتادہ سیڑھی میں گم ہو جائے گی جس کی آخری کھڑکی پھٹے پرانے کپڑوں کی ٹوٹی دوکان میں کھلتی ہے اس چوکھٹ سے باہر آ کر گھاس پہ ننگے پاؤں ...

مزید پڑھیے

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب ...

مزید پڑھیے

راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے

راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے وہ بھی کیا دور تھے ساقی ترے مستانوں کے راستے راہ تکا کرتے تھے مے خانوں کے بادلوں پر یہ اشارے ترے دیوانوں کے ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اڑ کے گریبانوں کے راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے ڈھیر لگ جائیں گے بستی ...

مزید پڑھیے

ابرو تو دکھا دیجئے شمشیر سے پہلے

ابرو تو دکھا دیجئے شمشیر سے پہلے تقصیر تو کچھ ہو مری تعزیر سے پہلے معلوم ہوا اب مری قسمت میں نہیں تم ملنا تھا مجھے کاتب تقدیر سے پہلے اے دست جنوں توڑ نہ دروازۂ زنداں میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے اچھا ہوا آخر مری قسمت میں ستم تھے تم مل گئے مجھ کو فلک پیر سے پہلے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملے

کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملے دشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملے بلبل پہ ایسی برق گری آندھیوں کے ساتھ گھر کا پتہ چلا نہ کہیں بال و پر ملے ان سے ہمیں نگاہ کرم کی امید کیا آنکھیں نکال لیں جو نظر سے نظر ملے وعدہ غلط پتے بھی بتائے ہوئے غلط تم اپنے گھر ملے نہ رقیبوں کے گھر ...

مزید پڑھیے

ان کے جاتے ہی یہ وحشت کا اثر دیکھا کئے

ان کے جاتے ہی یہ وحشت کا اثر دیکھا کئے سوئے در دیکھا تو پہروں سوئے در دیکھا کئے دل کو وہ کیا دیکھتے سوز جگر دیکھا کئے لگ رہی تھی آگ جس گھر میں وہ گھر دیکھا کئے ان کی محفل میں انہیں سب رات بھر دیکھا کئے ایک ہم ہی تھے کہ اک اک کی نظر دیکھا کئے تم سرہانے سے گھڑی بھر کے لئے منہ پھیر ...

مزید پڑھیے

ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ

ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ عیاں سورج ہوا وقت سحر آہستہ آہستہ چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخ گل کی جنبش پر یہ گلشن ہے ذرا باد سحر آہستہ آہستہ قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں بہار گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ کوئی چھپ جائے گا بیمار شام ہجر کا مرنا پہنچ جائے گی ...

مزید پڑھیے

یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلے

یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلے کھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے چھوڑ کر بیمار کو یہ کیا قیامت کر چلے دم نکلنے بھی نہ پایا آپ اپنے گھر چلے ہو گیا صیاد برہم اے اسیران قفس بند اب یہ نالہ و فریاد ورنہ پر چلے کس طرح طے کی ہے منزل عشق کی ہم نے نہ پوچھ تھک گئے جب پاؤں تیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1885 سے 6203