قومی زبان

دہائی ہے تری تو لے خبر او لا مکاں والے

دہائی ہے تری تو لے خبر او لا مکاں والے چمن میں رو رہے ہیں آشیاں کو آشیاں والے بھٹک سکتے نہیں اب کارواں سے کارواں والے نشانی ہر قدم پر دیتے جاتے ہیں نشاں والے قیامت ہے ہمارا گھر ہمارے ہی لئے زنداں رہیں پابند ہو کر آشیاں میں آشیاں والے مرے صیاد کا اللہ اکبر رعب کتنا ہے قفس میں ...

مزید پڑھیے

اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا

اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا اے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا اب تو چپ ہو باغ میں نالوں سے محشر ہو گیا یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہو گیا التماس قتل پر کہتے ہو فرصت ہی نہیں اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہو گیا محفل دشمن میں جو گزری وہ میرے دل سے پوچھ ہر اشارہ ...

مزید پڑھیے

کبھی جو آنکھ پہ گیسوئے یار ہوتا ہے

کبھی جو آنکھ پہ گیسوئے یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہو مرے دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غم روزگار ہوتا ہے الٰہی خیر ہو ان بے زباں اسیروں کی قفس کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن میں ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو موسم گل ناگوار ہوتا ہے سوال جام ترے ...

مزید پڑھیے

دیکھیے ہو گئی بد نام مسیحائی بھی

دیکھیے ہو گئی بد نام مسیحائی بھی ہم نہ کہتے تھے کہ ٹلتی ہے کہیں آئی بھی حسن خوددار ہو تو باعث شہرت ہے ضرور لیکن ان باتوں میں ہو جاتی ہے رسوائی بھی سینکڑوں رنج و الم درد و مصیبت شب غم کتنی ہنگامہ طلب ہے مری تنہائی بھی تم بھی دیوانے کے کہنے کا برا مان گئے ہوش کی بات کہیں کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ختم شب قصۂ مختصر نہ ہوئی

ختم شب قصۂ مختصر نہ ہوئی شمع گل ہو گئی سحر نہ ہوئی روئے شبنم جلا جو گھر میرا پھول کی کم ہنسی مگر نہ ہوئی حشر میں بھی وہ کیا ملیں گے ہمیں جب ملاقات عمر بھر نہ ہوئی آئینہ دیکھ کر یہ کیجیے شکر آپ کو آپ کی نظر نہ ہوئی سب تھے محفل میں ان کی محو جمال ایک کو ایک کی خبر نہ ہوئی سینکڑوں ...

مزید پڑھیے

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں اور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیں نا خدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیں یہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں ناز و انداز و ادا ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی تیری تصویر میں سب کچھ ہے تکلم تو نہیں دیکھ انجام محبت کا برا ہوتا ہے مجھ سے دنیا یہی ...

مزید پڑھیے

مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی

مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی کہ ہے نخل گل کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا ترے جام خالی نہ ہو سکے مری چشم تر نہ بھری رہی میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھے رات دن یہ خیال ہے یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں

تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں ادھر تو کھائے جاتا ہے ادھر وہ کھائے جاتے ہیں چمن والوں سے جا کر اے نسیم صبح کہہ دینا اسیران قفس کے آج پر کٹوائے جاتے ہیں کہیں بیڑی اٹکتی ہے کہیں زنجیر الجھتی ہے بڑی مشکل سے دیوانے ترے دفنائے جاتے ہیں انہیں غیروں کے گھر دیکھا ہے اور ...

مزید پڑھیے

ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے

ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے کہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نے یہ دل میں سوچ کے توبہ بھی توڑ دی میں نے نہ جانے کیا کہے ساقی اگر نہ پی میں نے کوئی بلا مرے سر پر ضرور آئے گی کہ تیری زلف پریشاں سنوار دی میں نے سحر ہوئی شب وعدہ کا اضطراب گیا ستارے چھپ گئے گل کر دی روشنی میں ...

مزید پڑھیے

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1883 سے 6203