قومی زبان

حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا

حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا زمانہ لوٹ سکتا ہے تو لوٹے کارواں اپنا نسیم صبح سے کیا ٹوٹتا خواب گراں اپنا کوئی نادان بجلی چھو گئی ہے آشیاں اپنا ہمیں بھی دیکھ لو آثار منزل دیکھنے والو کبھی ہم نے بھی دیکھا تھا غبار کارواں اپنا مزاج حسن پر کیا کیا گزرتا ہے گراں پھر بھی کسی ...

مزید پڑھیے

عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو

عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو ذرے ذرے کو شریک کارواں کرتے چلو کتنے روشن ہیں وہ عارض کتنے شیریں ہیں وہ لب راستہ کٹ جائے گا ذکر بتاں کرتے چلو شام غم کی ظلمتیں ہیں اور صحرائے حیات دیدۂ بیدار کو انجم فشاں کرتے چلو راستے میں بجھ نہ جائیں آرزؤں کے چراغ ذکر منزل کارواں در کارواں ...

مزید پڑھیے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا ...

مزید پڑھیے

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں اب تری یاد کے حوالے ہیں زندگی کے حسین چہرے پر غم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں کچھ غم زیست کا شکار ہوئے کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں رہ گزار حیات میں ہم نے خود نئے راستے نکالے ہیں اے شب غم ذرا سنبھال کے رکھ ہم تری صبح کے اجالے ہیں ذوق خود آگہی نے اے قابلؔ کتنے ...

مزید پڑھیے

حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں

حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں اے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیں تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں کوئے محبوب سے چپ چاپ گزرنے والے عرصۂ زیست میں اک حشر اٹھا دیتے ہیں ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا ...

مزید پڑھیے

بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا

بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا وہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیا کوئی جواب ہے اس طرز دلربائی کا سکوں بھی لوٹ لیا بے قرار بھی نہ کیا دل خراب سر کوئے یار لے آیا خیال گردش لیل و نہار بھی نہ کیا گزر گیا یونہی چپ چاپ کاروان بہار نوید گل بھی نہ دی دل فگار بھی نہ کیا خیال خاطر احباب ...

مزید پڑھیے

محبت کی صہبا پلانے چلا ہوں

محبت کی صہبا پلانے چلا ہوں زمانے کو انساں بنانے چلا ہوں خوشی اہل گلشن کو یہ سن کے ہوگی مسرت کے نغمے سنانے چلا ہوں چراغ رخ مہر و انجم کو لے کر زمانے کی ظلمت مٹانے چلا ہوں مرا حوصلہ کوئی دیکھے تو آ کر حریفوں سے نظریں ملانے چلا ہوں ترے در پہ ذوق جبیں سائی لے کر مقدر کو پھر آزمانے ...

مزید پڑھیے

تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہے

تری نظر کے اشاروں کو نیند آئی ہے حیات بخش سہاروں کو نیند آئی ہے ترے بغیر تیرے انتظار سے تھک کر شب فراق کے ماروں کو نیند آئی ہے سحر قریب ہے ارماں اداس دل غمگیں فلک پہ چاند ستاروں کو نیند آئی ہے ترے جمال سے تعبیر تھے جو الفت میں اب ان حسین نظاروں کو نیند آئی ہے ہر ایک موج ہے ساکت ...

مزید پڑھیے

تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشی

تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشی نظر نواز نظاروں کو تازگی بخشی خزاں کی زد میں ہی اب تک ترا گلستاں تھا ہمیں نے آ کے بہاروں کو زندگی بخشی چمن کو ہم نے ہی اپنے لہو سے سینچا ہے کلی کو ہم نے ہی اک طرز دلکشی بخشی تری ادا بھی ادا ہے وہ اک قیامت کی یہ اور بات ہے تاروں کو دلکشی بخشی ہے زعم ...

مزید پڑھیے

تجھے بھی چین نہ آئے قرار کو ترسے

تجھے بھی چین نہ آئے قرار کو ترسے چمن میں رہ کے چمن کی بہار کو ترسے الٰہی برق وہ ٹوٹے جمال پر تیرے کلی کی طرح سے تو بھی نکھار کو ترسے تمام عمر رہے میرا منتظر تو بھی تمام عمر مرے انتظار کو ترسے نہ ہو نصیب محبت کی زندگی تجھ کو سکون زیست کو ڈھونڈے قرار کو ترسے دعا ہے قیصرؔ مہجور کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1878 سے 6203