قومی زبان

محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی

محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی یقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کی محبت ماسوا اللہ کی ہر کفر سے بد تر فقیروں نے قناعت تب تو برسیلی لنگوٹی کی قناعت کا خزینہ گر کسی کے ہاتھ لگ جاوے نہیں پرواہ رکھتا ہے کسی صراف سوٹی کی دل قانع کے تئیں نان جویں خوشتر ز تر حلوہ نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسے

ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسے جیسے مسرور ہیں پینے ستے مے سے ایسے نہ ہمیں کام ہے حشمت ستے جمشید کے کچھ بوریا بس ہے بہ از مسند کے سے ایسے چھوڑ دنیا کو بہ دنیا ز‌‌ حقیقت‌ دنیا خوب واقف ہوں رگ و ریشہ و پے سے ایسے دین دنیا کی محبت میں اگر غور کرو ہے تنفر مجھے جس طرح سے کے سے ...

مزید پڑھیے

مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داد

مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داد دیکھ لے منصور نے جی دار پر استاد داد عشق ہے اے دل کٹھن کچھ خانۂ خالہ نہیں رکھ دلیرانہ قدم تا تجھ کو ہو امداد داد ہو نہیں سکتی ہے جس کی گوش زد فریاد داد جس نے آباداں میرے دل کا نگر برباد داد رشک دنیا ہے کسی نے کیوں برائے چند روز زندگی اپنے تئیں ...

مزید پڑھیے

پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرور

پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرور میں اگر بندہ ہوں عاصی پر مرا مولیٰ غفور ماسوا دیدار خواہش ہے مجھے کس چیز کی تو پڑا پھرتا ہے جنت ڈھونڈھتا حور و قصور میں اگرچہ رند ہوں تو آپ کو میں آپ کو زہد سے تیرے مجھے مطلب نہ کچھ کار‌ ضرور تیرے تئیں غرہ ہے اپنی پارسائی زہد کا میرے تئیں ...

مزید پڑھیے

عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز

عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز دین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیز یا ہو شاگرد مرا یا مجھے تلمیذ کرے ورنہ اس کوچۂ عشاق سے کر جاوے گریز مکتب عشق سے نا خواندہ اٹھا جو محروم دونو عالم میں وہ کچھ چیز نہیں ہے ناچیز مرد کیوں کر کہوں بے عشق جو ہووے کوئی فرقہ عشاق میں اس کے ...

مزید پڑھیے

اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہم

اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہم جو پروانہ ہوئے تو جل گئے ہم پڑے آ کر فلک کے آسیا میں مثال دانہ ہائے دل گئے ہم کسی صورت نہ پایا ہم نے آرام یہاں سے واں کے تئیں بے کل گئے ہم نہ یاں سے لے گئے نہ واں سے لائے کف افسوس ناحق مل گئے ہم طلسمات‌ جہاں کا دیکھ ظاہر طرف معنی کے اب اوجھل گئے ہم چلے ...

مزید پڑھیے

کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا

کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا شمع نہیں شرمندہ اور مہ دیکھ رخ کو دنگ تھا کیوں نہ رکھوں داغ دل پر جیسے لالہ در چمن خال غیر فام اس رخسار پر گل رنگ تھا شرمگیں آنکھوں سے جس جانب کو پڑتی ہے نظر نازکی شمشیر سے بسمل پہ عرصہ تنگ تھا قتل میں عاشق کے شب کو کیا تجھے تاخیر ہے شور غل ...

مزید پڑھیے

ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم

ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم کر سکے پر کشت الفت کا نہیں شاداب ہم ہجر کی آتش نے ایسا قرب‌ دل پیدا کیا بے‌ قرارانہ تڑپتے اب ہیں جوں سیماب ہم چھا گئیں زلفیں کسی مکھڑے پہ جوں آکاس پوں خود بخود کھاتے ہیں پیچ و تاب جوں لیلاب ہم گرد باد آسا پڑے پھرتے ہیں باغ و راغ میں مسکن و ...

مزید پڑھیے

بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا

بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا بندہ خانہ پہ کبھی آئیے گا یاد کیجے گا محبت اگلی غیر کے ملنے سے شرمائیے گا بوسہ دیجے گا گلے لگ لگ کر زیادہ اور مجھ کو نہ بکوائیے گا میرے غماز کو اپنے در سے دھکے یکبار تو دلوائیے گا حسن کے صدقے مری خاطر سے کدر دل ذرا دھلوائیے گا ستم و جور و جفا کا ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی

ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی دنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھی صورت پہ خیال اپنی آیا جس دم یک لحظہ حباب وار پستی دیکھی کتنوں کے معاش کی درستی دیکھی کتنوں کی بہ خانہ فاقہ مستی دیکھی دنیا ہے بسان قحبہ خوش دل غمگیں روتی ہے کبھی کبھی تو ہنستی دیکھی جس دست کی میں دراز دستی دیکھی اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1858 سے 6203