قومی زبان

اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلط

اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلط کیا جانے کیا سہی ہے واقع میں کیا غلط دیکھا ہے میں رباعیٔ ہستی کو غور سے پر لفظ نادرست ہیں حد مدعا غلط اظہار عشق ڈول ہی اپنا نہیں ہے شوخ جن نے کہا یہ تجھ سے ہے محض افترا غلط اس مارپیچ کوچہ میں کاکل کے دل ہے غم جس میں کہ راہ خضر نے اکثر کیا ...

مزید پڑھیے

پاس اخلاص سخت ہے تکلیف

پاس اخلاص سخت ہے تکلیف تاکجا خاطر وضیع و شریف چشم و دل سے نہ تھی یہ چشم ہمیں کہ نہ گریہ کے ہو سکیں گے حریف صبح تک تھا وہیں یہ مخلص بھی آپ رکھتے تھے شب جہاں تشریف مجھ سے تجھ بن گیا جو فصل ربیع کب یہ اشجار سے کرے ہے خریف یوں کبھو تو نے مے نہ دی ساقی نائے حلقوم کو سمجھتے قیف اپنے ...

مزید پڑھیے

مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے

مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے پر اتنا بھی تو ناکارا نہیں ہے ہیں اکثر خوب رو اوباش لیکن کوئی تجھ سا تو آوارا نہیں ہے جو دل لے کر ہوئے منکر تم اس طرح میاں ہم نے بھی کچھ ہارا نہیں ہے ہزاروں آرزو دل میں گرہ ہے پہ کہنے کا ہمیں یارا نہیں ہے نہ مرنے دیتے ہیں قائمؔ کو لیکن خداوندی سے کچھ ...

مزید پڑھیے

خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں

خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں درد جاگے تو سلانے میں زمانے لگ جائیں ہم وہ نادان ہواؤں سے وفا کی خاطر اپنے آنگن کے چراغوں کو بجھانے لگ جائیں تھوڑے گیہوں ابھی مٹی پہ رکھے رہنے دو وہ پرندے کہ کبھی لوٹ کے آنے لگ جائیں آس مہکے جو کسی کھوئے جزیرے کی کبھی تیری بانہیں مجھے ساحل ...

مزید پڑھیے

آوازوں کی دھند سے ڈرتا رہتا ہوں

آوازوں کی دھند سے ڈرتا رہتا ہوں تنہائی میں چپ کو اوڑھ کے بیٹھا ہوں اپنی خواہش اپنی سوچ کے بیج لیے اک ان دیکھی خواب زمیں کو ڈھونڈھتا ہوں سامنے رکھ کر گئے دنوں کا آئینہ اپنے دھندلے مستقبل کو دیکھتا ہوں ساحل ساحل بھیگی ریت پہ چلتا تھا صحراؤں میں ٹانگیں توڑ کے بیٹھا ہوں میری ...

مزید پڑھیے

دکھائے گرد کے خیمے پہ گھر نہیں لکھا

دکھائے گرد کے خیمے پہ گھر نہیں لکھا سفر تو سونپ گیا وہ شجر نہیں لکھا وہ آشنا مجھے پانی سے کر کے لوٹ گیا کسی بھی لہر میں جس نے گہر نہیں لکھا بشارتیں تھیں کہ پوروں کی سمت آتی تھیں مگر یہ ہاتھ کہ جن میں ہنر نہیں لکھا عجب گمان تھے قوس نگاہ میں اس کی کھنڈر سے شہر کو اس نے کھنڈر نہیں ...

مزید پڑھیے

ہوا میں نوحے گھلے درد مشعلوں میں رہا

ہوا میں نوحے گھلے درد مشعلوں میں رہا بہت عجیب سا دکھ تھا کہ بستیوں میں رہا تمام پیڑ تھے ساحل پہ آگ کی زد میں مرے قبیلے کا ہر فرد پانیوں میں رہا بہت دلاسے دئے ہم نے شب گزیدہ کو مگر وہ شخص کہ دن میں بھی وسوسوں میں رہا وہی تھا آخری نقطہ مری لکیروں کا ہر ایک قوس میں وہ سارے زاویوں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رنگ ہر اک خواب کے حصار میں تو

ہر ایک رنگ ہر اک خواب کے حصار میں تو کہ آنسوؤں کی طرح چشم انتظار میں تو اداس راکھ سے منظر کے ایک شہر میں میں نئے جہان کی اک صبح زر نگار میں تو میں اتنے دور افق سے پرے بھی دیکھ آیا ملا تو جسم پر بکھرے ہوئے غبار میں تو میں زخم زخم خزاؤں کے بیچ زندہ ہوں نمو پزیر بہاروں کے رنگ زار میں ...

مزید پڑھیے

یار بن گھر میں عجب صحبت ہے

یار بن گھر میں عجب صحبت ہے در و دیوار سے اب صحبت ہے دل ہمارا اسے کرتا ہے رات غیر سے جو سر شب صحبت ہے درد دل اس سے جو ہم نے نہ کہا ایسی حاصل ہوئی کب صحبت ہے دہر میں پاس نفس لازم ہے شیشہ و سنگ یہ سب صحبت ہے دست اغیار ہے زیر سر یار آج امیدؔ کڈھب صحبت ہے

مزید پڑھیے

جان دیتے ہیں مگر اظہار ہم کرتے نہیں

جان دیتے ہیں مگر اظہار ہم کرتے نہیں یعنی تشہیر صلیب و دار ہم کرتے نہیں اپنے دشمن کو بھی للکاریں گے آ کر سامنے پشت سے چونکہ کسی پر وار ہم کرتے نہیں ہو رہا ہے ہر طرف طرفہ تماشہ روز و شب عمر کو اب بر سر پیکار ہم کرتے نہیں جب تمہارے شہر کا ہر ذرہ ذرہ ہے عزیز کون کہتا ہے کہ تم سے پیار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1854 سے 6203