قومی زبان

نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں

نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں کبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میں میں مر چکا ہوں پہ تیرے ہی دیکھنے کے لیے حباب وار تنک دم رہا ہے آنکھوں میں موافقت کی بہت شہریوں سے میں لیکن وہی غزال ابھی رم رہا ہے آنکھوں میں وہ محو ہوں کہ مثال حباب آئینہ جگر سے اشک نکل تھم رہا ہے ...

مزید پڑھیے

شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا

شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا کسی کا انتظار تھا کیا تھا چشم در پر تھی صبح تک شاید کچھ کسی سے قرار تھا کیا تھا مدت عمر جس کا نام ہے آہ برق تھی یا شرار تھا کیا تھا دیکھ مجھ کو جو بزم سے تو اٹھا کچھ تجھے مجھ سے عار تھا کیا تھا پھر گئی وہ نگہ جو یوں محرم سیل تھی یا کٹار تھا کیا تھا رات ...

مزید پڑھیے

لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں

لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں جتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میں جا ہے کہ ہوں یہ لوگ ترے پاس اس جگہ کب قابل عنایت و مہر و وفا ہوں میں مجھ کو بتاں کی دید سے مت منع کر کہ شیخ کیا جانے اس لباس میں کیا دیکھتا ہوں میں آگے مرے نہ غیر سے گو تم نے بات کی سرکار کی نظر کو تو ...

مزید پڑھیے

آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں

آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں غنچہ کرے گلوں کو صبا گر میں بو کروں آزردہ اس چمن میں ہوں مانند برگ خشک چھیڑے جو ٹک نسیم مجھے سو غلو کروں آنکھوں سے جائے اشک گریں گل چمن چمن منظور گریہ گر میں ترا رنگ و بو کروں آیا ہوں پارہ دوزئی دل سے نپٹ بتنگ ایسے پھٹے ہوئے کو میں کب تک رفو ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے

نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے کچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہے جو بیٹھے تو ہے روئے قالیں کا نقش کھڑا ہو تو کاغذ کی تمثال ہے کھٹکتا ہے پہلو میں یوں ہم نشیں کہے تو یہ دل تیر کی بھال ہے گرفتار ہے جو تری زلف کا وہ ہر قید سے فارغ البال ہے اٹھا روند ڈالے اک عالم کے دل بھلا شوخ یہ بھی ...

مزید پڑھیے

سوچتے رہنا یہی غم خوار سے ہو کر الگ

سوچتے رہنا یہی غم خوار سے ہو کر الگ کوئی تنہا رہ گیا انصارؔ سے ہو کر الگ کاتب تقدیر نے لکھنا تھا جو وہ لکھ دیا اب کہاں جاؤں صلیب و دار سے ہو کر الگ ایک لمحے میں اتر جائے گا برسوں کا خمار کیا کرو گے اپنے ہی کردار سے ہو کر الگ سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں میں عمارت کے قریب گر پڑی کیوں چھت ...

مزید پڑھیے

بے شغل نہ زندگی بسر کر

بے شغل نہ زندگی بسر کر گر اشک نہیں تو آہ سر کر دے طول امل نہ وقت پیری ہوئی صبح فسانہ مختصر کر کچھ طرفہ مرض ہے زندگی بھی اس سے جو کوئی چھٹا سو مر کر کعبہ کے سفر میں کیا ہے زاہد بن جائے تو آپ سے سفر کر کیا دیکھے ہے آئینہ کو پیارے ایدھر بھی تو ایک دم نظر کر وہ باعث زیست شاید آ ...

مزید پڑھیے

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا درویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا جھگڑے میں ہم مبادی کے یاں تک پھنسے کہ آہ مقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا ناپختگی کا اپنی سبب اس ثمر سے پوچھ جلدی سے باغباں کی وہ جو خام رہ گیا صیاد تو تو جا، ہے پر اس کی بھی کچھ خبر جو مرغ ناتواں کہ تہ دام رہ ...

مزید پڑھیے

ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہت

ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہت تم سلامت رہو بندے کے خریدار بہت ہم دگر جب خفگی آئی تو جھگڑا کیا ہے تم کو خواہندہ بہت ہم کو طرح دار بہت آج کے رونے میں جی ڈوب چلا تھا لیکن نالۂ دل نے رکھا مجھ کو خبردار بہت شیخ مجھ کو نہ ڈرا گور کے اندھیارے سے ہجر کی کاٹی ہیں میں نے تو شب تار ...

مزید پڑھیے

آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو

آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو سب خیریت ہے اس سے کچھ اظہار مت کرو جانے دو جو نصیب میں ہونا تھا سو ہوا یارو خدا کے واسطے تکرار مت کرو آئینہ لے کے پہلے تنک سج تو دیکھ لو ملنے کا غیر کے ابھی انکار مت کرو سر چڑھ رہا ہے کال یوں ہی عاشقوں کے یاں پٹی سے تم یہ بال نمودار مت کرو اے آہ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1853 سے 6203