قومی زبان

مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج

مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج کل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آج پھر صبح سے آشوب قیامت ہے جہاں میں چہرہ پہ ترے کن نے بنایا ہے یہ تل آج اے گریہ تو خاطر سے مری کیجو نہ صرفہ میں خون دل خستہ کیا تجھ پہ بحل آج چاہے ہے اگر کل کو تری نشو و نما ہو دل کھول کے دانہ کی طرح خاک میں رل ...

مزید پڑھیے

صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں

صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں کھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میں اس برق کی طرح سے کہ ہو وہ سحاب میں آتش دی بخت بد نے مجھے عین آب میں دیکھی تھی زلف رات کسی کی میں خواب میں اب تک ہے بال بال مرا پیچ و تاب میں ٹک غور کر تو بو قلموں کا فلک کے ڈول اک رنگ ہے نیا ہی ہر اک انقلاب ...

مزید پڑھیے

میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا

میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا ہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گا ہم نشیں کیجیو تقریب تو شب باشی کی آج کر نشہ کا حیلہ میں مچل جاؤں گا دل مرے ضعف پہ کیا رحم تو کھاتا ہے کہ میں جان سے اب کی بچا ہوں تو سنبھل جاؤں گا سیر اس کوچہ کی کرتا ہوں کہ جبریل جہاں جا کے بولا کہ بس اب ...

مزید پڑھیے

آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں

آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں کہئے ہم اعتبار کرتے ہیں یہ کہ یاں میں ہوں وائے ان کا حال مجھ پہ جو افتخار کرتے ہیں پر فرشتے کے اس جگہ جل جائیں جس طرف ہم گزار کرتے ہیں گو کہن دام ہیں ہم اے صیاد لیک عنقا شکار کرتے ہیں سی تو لینے دو جیب ناصح کو اب کی ہم تار تار کرتے ہیں دل کی دل جانے ہم تو ...

مزید پڑھیے

معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں

معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں ایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیں عالم میں ہیں اسیر محبت کے ہر کہیں لیکن ستم کسو پہ نہیں اس قدر کہیں کھولی تھی چشم دید کو تیری پہ جوں حباب اپنے تئیں میں آپ نہ آیا نظر کہیں جوں غنچہ فکر جمع نہ کر ٹک تو گل کو دیکھ قسمت کی کھو سکے ہے پریشانی زر ...

مزید پڑھیے

پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا

پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا کیا کہا پھر کہہ بت نامہرباں نے کیا کہا غیر سے ملنا تمہارا سن کے گو ہم چپ رہے پر سنا ہوگا کہ تم کو اک جہاں نے کیا کہا گالیوں کی جھاڑ باندھی قصد سرگوشی میں رات کیا کہا چاہے تھا میں اس بد گماں نے کیا کہا سب خراج مصر دے کر تھا زلیخا کو یہ ...

مزید پڑھیے

یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخ

یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخ پر جو کچھ آپ میں فن ہیں وہ کسے یاد ہیں شیخ سب ہی بندے تو خدا کے ہیں پر اتنا ہے فرق تو گرفتار تعین ہے ہم آزاد ہیں شیخ ہم تو مر جائیں جو اک دم یہ کریں صوم و صلٰوۃ کیوں کہ جیتے ہیں وہ جو آپ کے مقتاد ہیں شیخ دختر رز تو ہے بیٹی سی ترے اوپر ...

مزید پڑھیے

دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف

دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف کرتا رہا تو اپنی ہی بیداد کی طرف جس گل نے سن کے نالۂ بلبل اڑا دیا رکھتا ہے گوش کب مری فریاد کی طرف موند اے پر شکستہ نہ چاک قفس کہ ہم ٹک یاں کو دیکھ لیتے ہیں صیاد کی طرف کہتے ہیں گریہ خانۂ دل کر چکا خراب آتا ہے چشم اب تری بنیاد کی طرف خسرو سے کچھ ...

مزید پڑھیے

لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں

لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں لیک تم دیکھتے پھرتے ہو خریدار نہیں گو کہ مشرف بہ ہلاکت ہوں میں اس بار پہ شوخ تو عیادت کو گر آوے تو کچھ آزار نہیں تنگ تو ہم کو تو اے جیب کرے ہے لیکن اٹھ گیا ہاتھ گر اپنا تو پھر اک تار نہیں گو سبک مجھ کو زمانے نے کیا ہے لیکن یہ بھی ہے شکر کسی دل کا ...

مزید پڑھیے

میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا

میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا پر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھا ہمیشہ منع تو کرتا تھا باغ سے ہم کو کچھ حال اب گل و گلشن کا باغباں دیکھا طلب کمال کی کوئی نہ کیجیو زنہار کہ میں یہ کر کے فضولی بہت زیاں دیکھا نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1852 سے 6203