مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج
مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج کل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آج پھر صبح سے آشوب قیامت ہے جہاں میں چہرہ پہ ترے کن نے بنایا ہے یہ تل آج اے گریہ تو خاطر سے مری کیجو نہ صرفہ میں خون دل خستہ کیا تجھ پہ بحل آج چاہے ہے اگر کل کو تری نشو و نما ہو دل کھول کے دانہ کی طرح خاک میں رل ...