قومی زبان

واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں

واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں جز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیں تکلیف بزم اہل جہاں تاکجا کہ دل مطلق میں واں کے رنگ سے آگاہ ہی نہیں آ اے اثرؔ ملازم سرکار گریہ ہو یاں جز گہر خزانے میں تنخواہ ہی نہیں لازم تھے ہم بکارت دنیا کو اے فلک تیں دی یہ دخت ان کو جنہیں باہ ہی نہیں قائمؔ ...

مزید پڑھیے

کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف

کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف میں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرف انصاف ہے کہ غیر سے صحبت رکھے تو گرم بیٹھا رہوں میں مثل گنہ گار یک طرف سیکھے ہو کس سے سچ کہو پیارے یہ چال ڈھال تم یک طرف چلو ہو تو تلوار یک طرف ناز و کرشمہ عشوہ و انداز اور ادا میں یک طرف ہوں اتنے ستم گار یک ...

مزید پڑھیے

ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو

ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو اپنی ہی کہتے ہو میری بھی میاں سنتے ہو سنگ کو آب کریں پل میں ہماری باتیں لیکن افسوس یہی ہے کہ کہاں سنتے ہو خشک و تر پھونکتی پھرتی ہے سدا آتش عشق بچیو اس آنچ سے اے پیر و جواں سنتے ہو دم قدم تک تھی ہمارے ہی جنوں کی رونق اب بھی کوچوں میں کہیں شور ...

مزید پڑھیے

چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت

چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت پر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبت آ عشق اگر قصد تجارت ہے کہ اس جا ہیں تودہ ہر اک گھر دو سہ افلاک محبت ناصح تو عبث سی کے نہ رسوا ہو کہ ظالم رکھتا ہے گریباں سے مرے چاک محبت اپنے تو لئے زہر کی تاثیر تھی اس میں گو واسطے عالم کے ہو تریاک محبت بلبل ...

مزید پڑھیے

پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں

پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں کس کام ہے وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیں منعم ہے کیا کہ جس سے کوئی بہرہ ور نہیں کس کام کا وہ نخل کہ جس میں ثمر نہیں بندہ ہوں بے خودی کا میں اس مست کی جسے آشوب روز حشر سے اصلاً خبر نہیں یارب خلش سے آہ کی ہو جو نہ بہرہ مند جس دل کا تکیہ گاہ سر نیشتر ...

مزید پڑھیے

نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں

نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں قلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیں کہاں کا غرۂ شوال کیسا عشرہ ذی حجہ ہمیں ہاتھ آئے مے جس دن ہم اس دن عید کرتے ہیں مزاج خس ہے اہل عشق کا جلنے کے عالم میں جلاتا ہے جو ان کو اس کی یہ تائید کرتے ہیں ارادہ تو نہ تھا اپنا بھی جانے کا ترے ...

مزید پڑھیے

واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہتر

واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہتر جز یہ کہ تری رضا ہے بہتر دیتا ہے وہی طبیب حاذق بیمار کو جو دوا ہے بہتر کس سے کہوں حال بد کہ وہ آپ کچھ مجھ سے بھی جانتا ہے بہتر آئینہ ہو یا تو آب لیکن ہر شکل میں اک صفا ہے بہتر چرچے سے اگر ہو صحبت غم شادی سے ہزار جا ہے بہتر لے نالہ خبر کہ زخم دل کا پھر ...

مزید پڑھیے

ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں

ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں ہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیں ہے قادر تو خدا لیکن بتاں بھی وہ کر چکتے ہیں جو کچھ ٹھانتے ہیں تو ناصح مان یا مت مان لیکن تری باتیں کوئی ہم جانتے ہیں گئے گوہر کے تاجر جس طرف سے ہم ان رستوں کی ماٹی چھانتے ہیں نہ سنبھلا آسماں سے عشق کا بوجھ ہمیں ہیں جو یہ ...

مزید پڑھیے

دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا

دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا صدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھا چھوٹا ترا مریض اگر مر گیا کہ شوخ جو دم تھا زندگی کا سو اس پر وبال تھا ناخن ترے کی مہندی سے تنہا نہیں ہیں داغ چندے شفق سے نعل در آتش ہلال تھا اس سوچ سے کھلی ہے حقیقت کہ ایک عمر مکھی کی فرج و شیخ کی داڑھی کا ...

مزید پڑھیے

زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے

زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے جی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نے جانے دے بس اب یار کہ یہ بھی نہیں کچھ کم اعمال کی دل کے جو مکافات کی تو نے ایدھر تو میں نالاں ہوں ادھر غیر نہ جانے اب کس سے مری جان ملاقات کی تو نے اللہ ری محبت تری تعلیم کہ جو بات دشوار تھی مجھ پر سو مساوات کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1851 سے 6203