قومی زبان

دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے

دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے شمع کا کس پہ دل پگھلتا ہے ہم نشیں ذکر یار کر کہ کچھ آج اس حکایت سے جی بہلتا ہے دل مژہ تک پہنچ چکا جوں اشک اب سنبھالے سے کب سنبھلتا ہے ساقیا دور کیا کرے ہے تمام آپ ہی اب یہ دور چلتا ہے گندمی رنگ جو ہے دنیا میں میری چھاتی پہ مونگ دلتا ہے ہے تواضع ضرور دولت ...

مزید پڑھیے

ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں

ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں ہے عجب حال مرا صبح کہیں شام کہیں چشم نے جو یمنی لخت جگر کے کھو دے ان نگیں کا تو نہیں سنتے ہم اب نام کہیں اپنی قسمت میں مئے صاف تو ساقی معلوم کاش پھینکے تو ادھر درد تہ جام کہیں اے فلک طرح سے مکڑی کی تو جالوں کو نہ پور وہ جو شہباز ہیں آتے ہیں تہہ ...

مزید پڑھیے

کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں

کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں کون اس تیغ کا ہلاک نہیں مثل آئینہ آبرو ہے تو دیکھ ورنہ گھر میں تو اپنے خاک نہیں دے ہے ہم چشمی اس سے پھر خورشید کیا بھلا اس کے منہ پہ ناک نہیں چاہیں توبہ کی چھاؤں ہم زاہد کیا کہیں دار بست تاک نہیں خبر غیب خطرۂ دل ہے ورنہ تا عرش اپنی ڈاک نہیں جس مصلے ...

مزید پڑھیے

ترک وفا گرچہ صداقت نہیں

ترک وفا گرچہ صداقت نہیں پر یہ ستم سہنے کی طاقت نہیں ترک کر اپنا بھی کہ اس راہ میں ہر کوئی شایان رفاقت نہیں کوئی دوا مجھ سے کی کرتا ہے لیک اب کے طبیبوں میں حذاقت نہیں کسب ہنر کر نہ کہ اس وقت میں اس سے بڑی اور حماقت نہیں نام ہی قائمؔ کا گیا ہے نکل ورنہ کچھ اتنی تو لیاقت نہیں

مزید پڑھیے

اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا

اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا دریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کا کیوں چھوڑتے ہو درد تہ جام مے کشو ذرہ ہے یہ بھی آخر اسی آفتاب کا ایسی ہوا میں پاس نہ ساقی نہ جام مے رونا بجا ہے حال پہ میرے سحاب کا ہونا تھا زندگی ہی میں منہ شیخ کا سیاہ اس عمر میں ہے ورنہ مزا کیا خضاب کا اس دشت ...

مزید پڑھیے

کل اے آشوب نالہ آج نہیں

کل اے آشوب نالہ آج نہیں آج ہنگامہ پر مزاج نہیں غیر اس کے کہ خوب روئیے اور غم دل کا کوئی علاج نہیں اب بھی قیمت ہے دل کی گوشۂ چشم اتنی یہ جنس بے رواج نہیں شہ کو بھی چاہئے ہے گور و کفن کون ہے جس کو احتیاج نہیں دل سے بس ہاتھ اٹھا تو اب اے عشق دہ ویران پر خراج نہیں دو جہاں بھی ملیں تو ...

مزید پڑھیے

دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا

دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا بندہ خانہ میں پھر کب آئیے گا لگ چلی ہی سی ہے ابھی تو خیال ڈھب چڑھے گا تو کچھ ڈھبائیے گا ایک بوسہ پہ دین و دل تو لیا اور کتنا مجھے دبائیے گا جا چکے ہم جب آپ سے پیارے کیوں نہ اس راہ سے اب آئیے گا ہم بھی ملا سے کچھ کریں گے شروع آپ کس وقت مکتب آئیے ...

مزید پڑھیے

ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے

ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے لیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہے آشفتہ سر ہیں یاں دل صد چاک بھی کئی تنہا نہ تیری زلف سے شانے کو عشق ہے افلاک بیٹھے جائیں تھے جس بوجھ کے تلے آدم کے ویسے بار اٹھانے کو عشق ہے وحشت کو اپنی شہر و بیاباں میں جا نہیں عاقل کو اب دعا و دوانے کو عشق ...

مزید پڑھیے

نہیں بند قبا میں تن ہمارا

نہیں بند قبا میں تن ہمارا ہے عریانی ہی پیراہن ہمارا رکھیں اپنے تئیں ہم کس طرح دوست ہو تجھ سا شخص جب دشمن ہمارا ہیں یہ کاہیدہ ہم غم سے کہ جوں شمع ہے ایک اب جیب اور دامن ہمارا نظر میں کعبہ کیا ٹھہرے کہ یاں دیر رہا ہے مدتوں مسکن ہمارا چمن میں گر ہے تو بلبل تو من بعد ہیں ہم اور گوشۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1850 سے 6203