دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے
دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے شمع کا کس پہ دل پگھلتا ہے ہم نشیں ذکر یار کر کہ کچھ آج اس حکایت سے جی بہلتا ہے دل مژہ تک پہنچ چکا جوں اشک اب سنبھالے سے کب سنبھلتا ہے ساقیا دور کیا کرے ہے تمام آپ ہی اب یہ دور چلتا ہے گندمی رنگ جو ہے دنیا میں میری چھاتی پہ مونگ دلتا ہے ہے تواضع ضرور دولت ...