قومی زبان

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو جھلک جھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب دوریوں کی آگ دلوں کو جلائے گی جسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم بن کر ہر ایک بزم کا موضوع گفتگو شعروں میں تیرے غم کو سمویا کریں گے ...

مزید پڑھیے

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ ہر روز ...

مزید پڑھیے

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال ہر آنگن میں آئے تیرے اجلے روپ کی دھوپ چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال بھر بھر نظریں دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ دیکھ تجھے بدنام نہ کر دے یہ ہرنی سی چال کتنی سندر نار ہو کوئی میں آواز نہ دوں تجھ سا ...

مزید پڑھیے

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی ...

مزید پڑھیے

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دل ناداں تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں ...

مزید پڑھیے

دل کو غم حیات گوارا ہے ان دنوں

دل کو غم حیات گوارا ہے ان دنوں پہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوں ہر سیل اشک ساحل تسکیں ہے آج کل دریا کی موج موج کنارا ہے ان دنوں یہ دل ذرا سا دل تری یادوں میں کھو گیا ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں شمعوں میں اب نہیں ہے وہ پہلی سی روشنی کیا واقعی وہ انجمن آرا ہے ان دنوں تم آ ...

مزید پڑھیے

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش بوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہو دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج بٹ نہ جائے ترا ...

مزید پڑھیے

اک جام کھنکتا جام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

اک جام کھنکتا جام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے اک ہوش ربا انعام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے وہ دیکھ ستاروں کے موتی ہر آن بکھرتے جاتے ہیں افلاک پہ ہے کہرام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے گو دیکھ چکا ہوں پہلے بھی نظارہ دریا نوشی کا ایک اور صلائے عام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے یہ وقت نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے اٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دے یہ وصل کی رات ہے خدارا نقاب چہرے سے مت ہٹاؤ تمہارے چہرے کا یہ اجالا سحر سے پہلے سحر نہ کر دے قسم جسے ضبط غم کی دے کر اٹھا دیا اپنے در سے تو نے کہیں وہ دیوانہ عمر اپنی بغیر تیرے بسر ...

مزید پڑھیے

مرحلہ رات کا جب آئے گا

مرحلہ رات کا جب آئے گا جسم سائے کو ترس جائے گا چل پڑی رسم جو کج فہمی کی بات کیا پھر کوئی کر پائے گا سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں لفظ مفہوم سے کترائے گا اعتبار اس کا ہمیشہ کرنا وہ تو جھوٹی بھی قسم کھائے گا تو نہ ہوگی تو پھر اے شام فراق کون آ کر ہمیں بہلائے گا ہم اسے یاد بہت آئیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1843 سے 6203