قومی زبان

شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر

شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر لوٹا ہے سدا جس نے ہمیں دوست بنا کر ہم خوش ہیں اسی شخص سے پھر ہاتھ ملا کر ڈر ہے کہ نہ لے جائے وہ ہم کو بھی چرا کر ہم لائے ہیں گھر میں جسے مہمان بنا کر اک موج دبے پاؤں تعاقب میں چلی آئی ہم خوش تھے بہت ریت کی ...

مزید پڑھیے

تڑپتی ہیں تمنائیں کسی آرام سے پہلے

تڑپتی ہیں تمنائیں کسی آرام سے پہلے لٹا ہوگا نہ یوں کوئی دل ناکام سے پہلے یہ عالم دیکھ کر تو نے بھی آنکھیں پھیر لیں ورنہ کوئی گردش نہیں تھی گردش ایام سے پہلے گرا ہے ٹوٹ کر شاید مری تقدیر کا تارا کوئی آواز آئی تھی شکست جام سے پہلے کوئی کیسے کرے دل میں چھپے طوفاں کا اندازہ سکوت ...

مزید پڑھیے

کیا اس کا گلا کیجے اسے پیار ہی کب تھا

کیا اس کا گلا کیجے اسے پیار ہی کب تھا وہ عہد فراموش وفادار ہی کب تھا اس نے تو سدا پوجے ہیں اڑتے ہوئے جگنو وہ چاند ستاروں کا پرستار ہی کب تھا ہم ڈوب گئے جاگتی راتوں کے بھنور میں ہاتھ اس کا ہمارے لیے پتوار ہی کب تھا آموں کی حسیں رت کے سوا بھی تو وہ کوکے لیکن کسی کوئل کا یہ کردار ہی ...

مزید پڑھیے

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی یہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جی جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب تم سے پیار کریں کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشاؔ جی کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی یہ کیسر کیاری چاہت کی تم جن کو ہنسانے آئے تھے ان کو نہ رلاؤ ...

مزید پڑھیے

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا آئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سے روشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا ڈالی ہے اس خوش فہمی نے عادت مجھ کو سونے کی نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا لوگو میرے ساتھ چلو تم جو ...

مزید پڑھیے

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں چوروں کو مگر کوئی ملامت ...

مزید پڑھیے

اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا

اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا وہ سامنے آئے بھی تو اس کو صدا نہ دینا خلوص کو جو خوشامدوں میں شمار کر لیں تم ایسے لوگوں کو تحفتاً بھی وفا نہ دینا وہ جس کی ٹھوکر میں ہو سنبھلنے کا درس شامل تم ایسے پتھر کو راستے سے ہٹا نہ دینا سزا گناہوں کی دینا اس کو ضرور لیکن وہ آدمی ہے تم اس ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے بھید چھپے ہیں پیار بھرے اقرار کے پیچھے

کیسے کیسے بھید چھپے ہیں پیار بھرے اقرار کے پیچھے کوئی پتھر تان رہا ہے شیشے کی دیوار کے پیچھے دل میں آگ لگا جاتا ہے یہ بن یار بہار کا موسم ایک تپش بھی ہوتی ہے اس ٹھنڈی سی پھوار کے پیچھے سوچ ابھی سے پھر کیا ہوگا بیت گئی جب رات ملن کی ایک اداسی رہ جائے گی پائل کی جھنکار کے ...

مزید پڑھیے

ذکر مرا اور تیرے لب پر یاد مری اور تیرے دل میں

ذکر مرا اور تیرے لب پر یاد مری اور تیرے دل میں جھوٹی آس دلانے والے آگ نہ بھڑکا میرے دل میں مجھ سے آنکھیں پھیر کے تو نے یہ مشکل بھی آساں کر دی ورنہ تیرے غم کے بدلے لیتا کون بسیرے دل میں پیار بھری امیدوں پر اغیار کی وہ زر پوش نگاہیں کانٹوں کے پیوند لگا کر تو نے پھول بکھیرے دل ...

مزید پڑھیے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1842 سے 6203