شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر
شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر لوٹا ہے سدا جس نے ہمیں دوست بنا کر ہم خوش ہیں اسی شخص سے پھر ہاتھ ملا کر ڈر ہے کہ نہ لے جائے وہ ہم کو بھی چرا کر ہم لائے ہیں گھر میں جسے مہمان بنا کر اک موج دبے پاؤں تعاقب میں چلی آئی ہم خوش تھے بہت ریت کی ...