قومی زبان

سانولی

سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو رقص کرتی ہے ترے حسن کی رعنائی میں وادیٔ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو یہ ترے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زلفیں جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دھواں جیسے مغموم مصور کے سیہ پوش خیال جیسے موہوم جزیروں کی چھبیلی ...

مزید پڑھیے

لمحوں کی پرستار

میں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیے آج وہ جان کا آزار بنی بیٹھی ہے میری آنکھوں نے جسے پھول سے نازک سمجھا اب وہ چلتی ہوئی تلوار بنی بیٹھی ہے ہم سفر بن کے جسے ناز تھا ہم راہی پر رہزنوں کی وہ طرفدار بنی بیٹھی ہے کسی افسانے کا کردار بنی بیٹھی ہے اس کی معصومیت دل پہ بھروسہ تھا ...

مزید پڑھیے

زندگی یا طوائف

مطمئن کوئی نہیں ہے اس سے کوئی برہم ہے تو خائف کوئی نہیں کرتی یہ کسی سے بھی وفا زندگی ہے کہ طوائف کوئی

مزید پڑھیے

انوکھی تصویر

کہا ماسٹر جی نے منے سے اک دن کرو کام پورا جو ہم نے کہا ہے بنا لاؤ تصویر اس نام کی تم کہ بھینسا چراگاہ میں چر رہا ہے نہ گزرے تھے اس بات کو دو منٹ بھی کہ منے نے تصویر تیار کر دی وہ تصویر کیا تھی فقط سادہ کاغذ نہ تھی جس پہ سرخی نہ سبزی نہ زردی جو پوچھا گیا بھئی کہاں ہے چراگاہ تو فرمایا ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

مینہ برستا ہے تو دھرتی کی نظر جھومتی ہے پھول کھلتے ہیں تو گلشن پہ نکھار آتا ہے لیکن اے جشن بہاراں کے نئے منتظمو خود فریبی سے کہیں دل کو قرار آتا ہے تم اگر جشن بہاراں بھی کہو گے اس کو موت کے گھاٹ یہ دھوکہ بھی اتر جائے گا باد صرصر کو اگر تم نے کہا موج نسیم اس سے موسم میں کوئی فرق ...

مزید پڑھیے

مری نظر سے نہ ہو دور ایک پل کے لیے

مری نظر سے نہ ہو دور ایک پل کے لیے ترا وجود ہے لازم مری غزل کے لیے کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں چراغ سا وہ بدن ترس گئی ہیں نگاہیں کنول کنول کے لیے کسی کسی کے نصیبوں میں عشق لکھا ہے ہر اک دماغ بھلا کب ہے اس خلل کے لیے ہوئی نہ جرأت گفتار تو سبب یہ تھا ملے نہ لفظ ترے حسن بے بدل کے لیے سدا ...

مزید پڑھیے

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں نہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا بنام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر میں کیا ایک بھی ...

مزید پڑھیے

یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میں

یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میں دو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میں دل تو جلا کیا ہے وہ شعلہ سا آدمی اب کس کو چھو کے ہاتھ بھی اپنا جلاؤں میں سنتا ہوں اب کسی سے وفا کر رہا ہے وہ اے زندگی خوشی سے کہیں مر نہ جاؤں میں اک شب بھی وصل کی نہ مرا ساتھ دے سکی عہد فراق آ کہ تجھے آزماؤں ...

مزید پڑھیے

حالات سے خوف کھا رہا ہوں

حالات سے خوف کھا رہا ہوں شیشے کے محل بنا رہا ہوں سینے میں مرے ہے موم کا دل سورج سے بدن چھپا رہا ہوں محروم نظر ہے جو زمانہ آئینہ اسے دکھا رہا ہوں احباب کو دے رہا ہوں دھوکا چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں دریائے فرات ہے یہ دنیا پیاسا ہی پلٹ کے جا رہا ہوں ہے شہر میں قحط پتھروں کا جذبات ...

مزید پڑھیے

اگرچہ مجھ کو جدائی تری گوارا نہیں

اگرچہ مجھ کو جدائی تری گوارا نہیں سوائے اس کے مگر اور کوئی چارہ نہیں خوشی سے کون بھلاتا ہے اپنے پیاروں کو قصور اس میں زمانے کا ہے تمہارا نہیں تمہارے ذکر سے یاد آئے کیا گھٹا کے سوا ہمارے پاس کوئی اور استعارا نہیں یہ التفات کی بھیک اپنے پاس رہنے دے ترے فقیر نے دامن کبھی پسارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1841 سے 6203