خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا
خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کا نہ شوق مجھ کو ہے حور عیں کا نہ پاس واعظ ہے اپنے دیں کا جو ذکر کرنا ہے گر یہیں کا سنا نہ جھگڑا کہیں کہیں کا خراب کوئے بتاں ہے خلقت یہیں سے پاتے ہیں رنج و راحت سپہر گردش میں کر نہ ...