قومی زبان

خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا

خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کا نہ شوق مجھ کو ہے حور عیں کا نہ پاس واعظ ہے اپنے دیں کا جو ذکر کرنا ہے گر یہیں کا سنا نہ جھگڑا کہیں کہیں کا خراب کوئے بتاں ہے خلقت یہیں سے پاتے ہیں رنج و راحت سپہر گردش میں کر نہ ...

مزید پڑھیے

جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیز

جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیز سب سے سوا ہے وصل ترا فتنہ گر عزیز آئی خبر جو اس کی تو جائے گی اپنی جان اب تو برابر اپنے ہوا نامہ بر عزیز لے جائیں اپنی بے ہنروں پاس التجا رکھتے ہیں لوگ اس لیے کسب ہنر عزیز رہنے نہ دے جو وحشت دل ہی تو کیا کروں وہ کون ہے کہ جس کو نہیں اپنا گھر ...

مزید پڑھیے

دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے

دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے دل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھے اشک خونیں بہے تو ہم دل کو ہدف ناوک نظر سمجھے نالۂ غیر آتش افشاں ہے شب وصلت کی تم سحر سمجھے نہ اٹھا اپنے آستاں سے ہمیں ہم تو بیٹھے ہیں اپنا گھر سمجھے نامہ دے کر نظارہ ہے منظور ہم تقاضائے نامہ بر سمجھے غیر سے پوچھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

انتہا صبر آزمائی کی

انتہا صبر آزمائی کی ہے درازی شب جدائی کی ہے برائی نصیب کی کہ مجھے تم سے امید ہے بھلائی کی نقش ہے سنگ آستاں پہ ترے داستاں اپنی جبہ سائی کی تم سے کچھ مل کے خوش ہوا ہوں کہ ہوں دہر میں حسرت آشنائی کی ہے فغاں بعد امتحان فغاں پھر شکایت ہے نارسائی کی کیا نہ کرتا وصال شادیٔ مرگ تم نے ...

مزید پڑھیے

دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں

دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں سب کو دیکھے دکھائے بیٹھے ہیں چاک دامن یہ کہہ رہا ہے کہ ہم دل کے ٹکڑے اڑائے بیٹھے ہیں وہ سر بزم حال کیا پوچھیں میرے مطلب کو پائے بیٹھے ہیں اب اجل کیوں کہ آئے گی دیکھوں وہ عیادت کو آئے بیٹھے ہیں کرتے ہیں یوں دعا کہ ہم گویا ہاتھ اثر سے اٹھائے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

وہ زیب‌ شبستاں ہوا چاہتا ہے

وہ زیب‌ شبستاں ہوا چاہتا ہے یہ مجمع پریشاں ہوا چاہتا ہے بری ہو گئی شہرت کوئے جاناں کوئی خانہ ویراں ہوا چاہتا ہے ترے غم نے سب کام آساں کئے ہیں کہ مرنا بھی آساں ہوا چاہتا ہے چلے آتے ہیں سیر کرتے ہوئے وہ گلستاں گلستاں ہوا چاہتا ہے نہ دیکھا کرو تم کہ اب آئنہ بھی مری چشم حیراں ہوا ...

مزید پڑھیے

میں ہوا زینت مکان‌ قفس

میں ہوا زینت مکان‌ قفس دود افغاں ہے سائبان قفس لو اسیرو کرو بیان چمن اور مجھ سے سنو بیان قفس ضعف سے میں نظر نہیں آتا جانے صیاد مجھ کو جان قفس تو سمجھتا نہیں مری صیاد میں سمجھتا نہیں زبان قفس آ گئی لب تک آہ آتش بار اب خدا ہے نگاہ بان قفس نہیں آتی خبر رہائی کی طالع بد ہے پاسبان ...

مزید پڑھیے

بھول کر بھی ادھر نہیں آتا

بھول کر بھی ادھر نہیں آتا وہ کبھی راہ پر نہیں آتا کس کا جلوہ نظر سے گزرا ہے کہ مجھے کچھ نظر نہیں آتا چرخ گردش سے تھک گیا شب ہجر دن نکلتا نظر نہیں آتا بہہ گیا دل تو غم نہیں اے چشم کام میں کیا جگر نہیں آتا ہوں شب وصل اس قدر بے خود بیم مرگ سحر نہیں آتا کس گلی میں چلا ہوں مرنے کو شوق ...

مزید پڑھیے

آں سے ظالم کا امتحاں اور میں

آں سے ظالم کا امتحاں اور میں یہ ستم تیرے آسماں اور میں کبھی کہتا ہوں اب وہ آتے ہیں کبھی کہتا ہوں وہ کہاں اور میں بے قراری دلا رہی ہے یاد ہائے وہ تیری شوخیاں اور میں نہیں سنتا کوئی کسی کی جہاں غم ہجراں کی داستاں اور میں آخر آ ہی گئی فغاں لب پر ضبط راز غم نہاں اور میں چرخ بھولا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے

ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے قتل کرنا ہے تو بس کر بیٹھیے بار در تک بھی نہیں اور شوق یہ بزم میں ان کے برابر بیٹھیے اٹھیے اے شور فغاں پر اس طرح نقش کی مانند دل پر بیٹھیے ہو چکی تعظیم دشمن کی کہیں اے زیارت گاہ محشر بیٹھیے ضعف طاری ہو تو کیوں کر لوٹیے جان مضطر ہو تو کیوں کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1826 سے 6203