قومی زبان

مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے

مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے عفو کیجے بے خودی کی بات ہے سیکڑوں عشاق کے توڑے ہیں دل کیا تمہاری نازکی کی بات ہے کیا عجب پوچھے نہ کوئی حشر میں ایک یہ بھی بے کسی کی بات ہے جس فغاں سے مانگتے تھے سب پناہ اب وہ اک بے طاقتی کی بات ہے مدتیں گزریں وصال یار کو میری نظروں میں ابھی کی بات ...

مزید پڑھیے

ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارض

ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارض مگر سمجھتے نہیں ابھی تک تم اپنا جلوہ حجاب عارض نہ دشت ایمن میں ذکر اس کا نہ طور ہی پر کبھی یہ چمکا نہ ہو نظر میں جو تیرا جلوہ تو مہر کو دوں خطاب عارض تصور ان کا ہے مجھ کو ہر دم نہ شب کو تسکیں نہ چین دن کو ہوئی ہیں اوقات میرے بالکل ...

مزید پڑھیے

اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے

اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے یا خفا ہو کے یا خفا کر کے اس کی رفتار سے غنیمت ہے کہ رہے حشر ہی بپا کر کے اس صنم کی گلی میں جاتا ہوں پھر نظر جانب خدا کر کے غیر تک اپنی بات پہنچائی اس سے اظہار مدعا کر کے کر تو لیں ترک عشق ہم ناصح پر گزاریں گے عمر کیا کر کے مجھ پہ جو چاہیے ستم کیجے پر نہ ...

مزید پڑھیے

واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب

واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب پانی کے بدلے پیتے ہیں اے بے خبر شراب آمد میں اس کی مست ہوئے کچھ خبر نہیں ساقی ہے کون جام کہاں اور کدھر شراب اس قلزم گناہ میں ڈوبا ہوا ہوں میں جس میں ہے ایک موجۂ دامان تر شراب مستی میں ان کو لگ گئی لو اور غیر کی دینی شب وصال نہ تھی اس قدر ...

مزید پڑھیے

یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا

یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا زمیں رہ گئی آسماں رہ گیا ابھی نامہ بر کو روانہ کیا ابھی کہہ رہا ہوں کہاں رہ گیا ترے لطف نے کی یہاں تک کمی جو پہلے یقیں تھا گماں رہ گیا ملے خاک میں یوں کہ مشہور ہے مٹے یوں کہ مٹنا نشاں رہ گیا وہی گردشیں ہیں وہی چال ہے ستم کون سا آسماں رہ گیا رہی آشنائی ...

مزید پڑھیے

دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ

دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ یہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھ ایک دم بھر کے لیے ہم نہ لگایا تھا گلے عمر ہی کٹ گئی قاتل تری تلوار کے ساتھ طعنۂ ظلم و ستم لیلیٰ و شیریں پہ عبث کیا کیا آپ نے عشق دل افگار کے ساتھ تیغ چل نکلی دم قتل گلے پر میرے میں نے تشبیہ جو دی ...

مزید پڑھیے

چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا

چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا یوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتا سہتا ہوں ستم اس کے احسان ہے دنیا پر گر میں نہ وفا کرتا کیا جانیے کیا ہوتا تم اور عدو دونوں اک جان دو قالب ہو میں تم سے اگر ملتا وہ کیوں کہ جدا ہوتا محرومیٔ طالع سے ہوگا نہ یہ دن ورنہ میں تم کو دکھا دیتا گر روز جزا ...

مزید پڑھیے

مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی

مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی کہ اسے غیر نے ملامت کی تم کو اپنے خرام سے مطلب ٹھوکریں کھائے کوئی قسمت کی وعدۂ وصل صبح اس سے کرو کٹ سکے جس سے رات فرقت کی اپنی بیداد کو نہیں کہتے میری فریاد کی شکایت کی اب کہاں حور خلد میں واعظ تو نے برباد یوں ہی محنت کی ہیں جو دنیا کی یہ پری ...

مزید پڑھیے

اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ

اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ اب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھ جب سے وہ سن چکے ہیں کہ ہم خواب میں چلے نیچی نگاہ بھی نہیں کرتے حیا کے ساتھ یوں گمرہان عشق ہیں رہزن کے ساتھ خوش گویا کہ ہو لیے ہیں کسی رہنما کے ساتھ مانگوں دعائے مرگ تو آمیں کہے عدو اب ان کی بد دعا ہے مرے مدعا کے ...

مزید پڑھیے

یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم

یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم کہ نہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم نہیں وادید ماسوا درکار بے نشاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم غیر کی واں نظر نہیں جاتی اب جہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم دیدنی کچھ نہیں زمانے میں جاوداں تجھ کو دیکھتے ہیں جان دینے پہ کیوں نہ ہوں راضی جاں ستاں تجھ کو دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1825 سے 6203