مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے
مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے عفو کیجے بے خودی کی بات ہے سیکڑوں عشاق کے توڑے ہیں دل کیا تمہاری نازکی کی بات ہے کیا عجب پوچھے نہ کوئی حشر میں ایک یہ بھی بے کسی کی بات ہے جس فغاں سے مانگتے تھے سب پناہ اب وہ اک بے طاقتی کی بات ہے مدتیں گزریں وصال یار کو میری نظروں میں ابھی کی بات ...