احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہے
احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہے
افراط بندگی نے دیوانہ کر دیا ہے
جو راز اتفاقاً منہ سے نکل گیا تھا
وہ راز احتیاطاً افسانہ کر دیا ہے
میں نے قدم قدم پر کعبہ بنا بنا کر
کعبے میں اہتماماً بت خانہ کر دیا ہے
لازم ہے احتیاط اب ہر لفظ گفتگو میں
دنیا نے رازؔ کس کو رسوا نہ کر دیا ہے