قومی زبان

سب کو رسوا باری باری کیا کرو

سب کو رسوا باری باری کیا کرو ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا اپنے گھر کی پہرے داری کیا کرو قطرہ قطرہ شبنم گن کر کیا ہوگا دریاؤں کی دعوے داری کیا کرو روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے فرصت ہو تو یہ بے گاری کیا کرو شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو دن بھر ...

مزید پڑھیے

ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں

ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں اجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میں یہ کوئی اور ہی کردار ہے تمہاری طرح تمہارا ذکر نہیں ہے مری کہانی میں اب اتنی ساری شبوں کا حساب کون رکھے بڑے ثواب کمائے گئے جوانی میں چمکتا رہتا ہے سورج مکھی میں کوئی اور مہک رہا ہے کوئی اور رات رانی میں یہ ...

مزید پڑھیے

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے جب سے تو نے ہلکی ہلکی باتیں کیں یار طبیعت بھاری بھاری رہتی ہے پاؤں کمر تک دھنس جاتے ہیں دھرتی میں ہاتھ پسارے جب خودداری رہتی ہے وہ منزل پر اکثر دیر سے پہنچے ہیں جن لوگوں کے پاس سواری رہتی ہے چھت سے اس کی دھوپ کے نیزے ...

مزید پڑھیے

چراغوں کا گھرانا چل رہا ہے

چراغوں کا گھرانا چل رہا ہے ہوا سے دوستانہ چل رہا ہے جوانی کی ہوائیں چل رہی ہیں بزرگوں کا خزانہ چل رہا ہے مری گم گشتگی پر ہنسنے والو مرے پیچھے زمانہ چل رہا ہے ابھی ہم زندگی سے مل نہ پائے تعارف غائبانہ چل رہا ہے نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے وہی دنیا وہی ...

مزید پڑھیے

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میں ہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیں دنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامنا تجھ کو بھی اب نقاب اٹھا دینی چاہیے میں ...

مزید پڑھیے

دوستی جب کسی سے کی جائے

دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے موت کا زہر ہے فضاؤں میں اب کہاں جا کے سانس لی جائے بس اسی سوچ میں ہوں ڈوبا ہوا یہ ندی کیسے پار کی جائے اگلے وقتوں کے زخم بھرنے لگے آج پھر کوئی بھول کی جائے لفظ دھرتی پہ سر پٹکتے ہیں گنبدوں میں صدا نہ دی جائے کہہ دو اس عہد کے ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے کوئی خیال آیا

بیٹھے بیٹھے کوئی خیال آیا زندہ رہنے کا پھر سوال آیا کون دریاؤں کا حساب رکھے نیکیاں نیکیوں میں ڈال آیا زندگی کس طرح گزارتے ہیں زندگی بھر نہ یہ کمال آیا جھوٹ بولا ہے کوئی آئینہ ورنہ پتھر میں کیسے بال آیا وہ جو دو گز زمیں تھی میرے نام آسماں کی طرف اچھال آیا کیوں یہ سیلاب سا ہے ...

مزید پڑھیے

دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں

دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں سب اپنے چہروں پہ دوہری نقاب رکھتے ہیں ہمیں چراغ سمجھ کر بجھا نہ پاؤ گے ہم اپنے گھر میں کئی آفتاب رکھتے ہیں بہت سے لوگ کہ جو حرف آشنا بھی نہیں اسی میں خوش ہیں کہ تیری کتاب رکھتے ہیں یہ مے کدہ ہے وہ مسجد ہے وہ ہے بت خانہ کہیں بھی جاؤ فرشتے حساب ...

مزید پڑھیے

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہو چکیں شاہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہئے میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے میرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہئے میری قیمت کون دے سکتا ہے اس بازار میں تم زلیخا ہو ...

مزید پڑھیے

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے لہو لہان پڑا تھا زمیں پر اک سورج پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے زمیں پر آ گئے آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو بری خبر ہے فرشتے خطائیں کرنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1751 سے 6203