قومی زبان

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں میں چاہتا تھا چراغوں کو آفتاب کروں مجھے بتوں سے اجازت اگر کبھی مل جائے تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں اس آدمی کو بس اک دھن سوار رہتی ہے بہت حسین ہے دنیا اسے خراب کروں ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بحروں کی کسے خطیب بناؤں کسے خطاب ...

مزید پڑھیے

سبب وہ پوچھ رہے ہیں اداس ہونے کا

سبب وہ پوچھ رہے ہیں اداس ہونے کا مرا مزاج نہیں بے لباس ہونے کا نیا بہانہ ہے ہر پل اداس ہونے کا یہ فائدہ ہے ترے گھر کے پاس ہونے کا مہکتی رات کے لمحو نظر رکھو مجھ پر بہانا ڈھونڈ رہا ہوں اداس ہونے کا میں تیرے پاس بتا کس غرض سے آیا ہوں ثبوت دے مجھے چہرہ شناس ہونے کا مری غزل سے بنا ...

مزید پڑھیے

تمہارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی

تمہارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی نظر شعلوں پہ رکھی تھی زباں پتھر پہ رکھی تھی ہمارے خواب تو شہروں کی سڑکوں پر بھٹکتے تھے تمہاری یاد تھی جو رات بھر بستر پہ رکھی تھی میں اپنا عزم لے کر منزلوں کی سمت نکلا تھا مشقت ہاتھ پہ رکھی تھی قسمت گھر پہ رکھی تھی انہیں سانسوں کے چکر ...

مزید پڑھیے

سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گا

سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گا میں اس بہار میں سب کا حساب کر دوں گا میں انتظار میں ہوں تو کوئی سوال تو کر یقین رکھ میں تجھے لا جواب کر دوں گا ہزار پردوں میں خود کو چھپا کے بیٹھ مگر تجھے کبھی نہ کبھی بے نقاب کر دوں گا مجھے بھروسہ ہے اپنے لہو کے قطروں پر میں نیزے نیزے کو شاخ گلاب ...

مزید پڑھیے

زندگی کی ہر کہانی بے اثر ہو جائے گی

زندگی کی ہر کہانی بے اثر ہو جائے گی ہم نہ ہوں گے تو یہ دنیا در بدر ہو جائے گی پاؤں پتھر کر کے چھوڑے گی اگر رک جائیے چلتے رہیے تو زمیں بھی ہم سفر ہو جائے گی جگنوؤں کو ساتھ لے کر رات روشن کیجیے راستہ سورج کا دیکھا تو سحر ہو جائے گی زندگی بھی کاش میرے ساتھ رہتی عمر بھر خیر اب جیسے ...

مزید پڑھیے

کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نے

کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نے تیری ہر بات پہ آمین کہا ہے میں نے تیری دستار پہ تنقید کی ہمت تو نہیں اپنی پاپوش کو قالین کہا ہے میں نے مصلحت کہیے اسے یا کہ سیاست کہیے چیل کوؤں کو بھی شاہین کہا ہے میں نے ذائقے بارہا آنکھوں میں مزا دیتے ہیں بعض چہروں کو بھی نمکین کہا ہے میں ...

مزید پڑھیے

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے نشہ ایسا تھا کہ مے خانے کو دنیا سمجھا ہوش آیا تو خیال آیا ...

مزید پڑھیے

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو یہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہو جلا نہ لو کہیں ہمدردیوں میں اپنا وجود گلی میں آگ لگی ہو تو اپنے گھر میں رہو تمہیں پتہ یہ چلے گھر کی راحتیں کیا ہیں ہماری طرح اگر چار دن سفر میں رہو ہے اب یہ حال کہ در در بھٹکتے پھرتے ہیں غموں سے میں نے ...

مزید پڑھیے

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ...

مزید پڑھیے

مجھے ڈبو کے بہت شرمسار رہتی ہے

مجھے ڈبو کے بہت شرمسار رہتی ہے وہ ایک موج جو دریا کے پار رہتی ہے ہمارے طاق بھی بیزار ہیں اجالوں سے دیے کی لو بھی ہوا پر سوار رہتی ہے پھر اس کے بعد وہی باسی منظروں کے جلوس بہار چند ہی لمحے بہار رہتی ہے اسی سے قرض چکائے ہیں میں نے صدیوں کے یہ زندگی جو ہمیشہ ادھار رہتی ہے ہماری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1750 سے 6203