اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں
اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں میں چاہتا تھا چراغوں کو آفتاب کروں مجھے بتوں سے اجازت اگر کبھی مل جائے تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں اس آدمی کو بس اک دھن سوار رہتی ہے بہت حسین ہے دنیا اسے خراب کروں ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بحروں کی کسے خطیب بناؤں کسے خطاب ...