قومی زبان

رموز غم سے بیگانے خوشی کا راز کیا جانیں

رموز غم سے بیگانے خوشی کا راز کیا جانیں قضا سے ڈرنے والے زندگی کا راز کیا جانیں کھلا جن پر نہ راز‌ گریۂ شبنم گلستاں میں وہ ناداں غنچہ و گل کی ہنسی کا راز کیا جانیں ہنسی آتی ہے ہم کو حضرت واعظ کی باتوں پر جو خود میکش نہیں وہ مے کشی کا راز کیا جانیں جو ہو کے رہ گئے غم روز روشن کے ...

مزید پڑھیے

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر راستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کر ٹوٹ کر بکھری ہوئی تلوار کے ٹکڑے سمیٹ اور اپنے ہار جانے کا سبب معلوم کر جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو غزل کا نام دے رات بھر کی کروٹوں کا ذائقہ منظوم کر شام تک لوٹ آؤں گا ہاتھوں کا خالی پن لیے آج پھر نکلا ہوں میں گھر ...

مزید پڑھیے

ہم نے خود اپنی رہنمائی کی

ہم نے خود اپنی رہنمائی کی اور شہرت ہوئی خدائی کی میں نے دنیا سے مجھ سے دنیا نے سیکڑوں بار بے وفائی کی کھلے رہتے ہیں سارے دروازے کوئی صورت نہیں رہائی کی ٹوٹ کر ہم ملے ہیں پہلی بار یہ شروعات ہے جدائی کی سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کو اب ضرورت نہیں رضائی کی منزلیں چومتی ہیں میرے ...

مزید پڑھیے

وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھا

وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھا سمندر آبرو کھونے لگا تھا لگے رہتے تھے سب دروازے پھر بھی میں آنکھیں کھول کر سونے لگا تھا چراتا ہوں اب آنکھیں آئنوں سے خدا کا سامنا ہونے لگا تھا وہ اب آئینے دھوتا پھر رہا ہے اسے چہرے پہ شک ہونے لگا تھا مجھے اب دیکھ کر ہنستی ہے دنیا میں سب کے سامنے ...

مزید پڑھیے

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے وہ کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں اگر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو ان دیکھی بلندی میں سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مرے ...

مزید پڑھیے

اسے اب کے وفاؤں سے گزر جانے کی جلدی تھی

اسے اب کے وفاؤں سے گزر جانے کی جلدی تھی مگر اس بار مجھ کو اپنے گھر جانے کی جلدی تھی ارادہ تھا کہ میں کچھ دیر طوفاں کا مزہ لیتا مگر بے چارے دریا کو اتر جانے کی جلدی تھی میں اپنی مٹھیوں میں قید کر لیتا زمینوں کو مگر میرے قبیلے کو بکھر جانے کی جلدی تھی میں آخر کون سا موسم تمہارے ...

مزید پڑھیے

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے میں اندھیروں سے بچا لایا تھا اپنے آپ کو میرا دکھ یہ ہے مرے پیچھے اجالے پڑ گئے جن زمینوں کے قبالے ہیں مرے پرکھوں کے نام ان زمینوں پر مرے جینے کے لالے پڑ گئے طاق میں بیٹھا ہوا بوڑھا کبوتر رو دیا جس میں ...

مزید پڑھیے

میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیا

میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیا ایک پاگل نے بہت لوگوں کو پاگل کر دیا اپنی پلکوں پر سجا کر میرے آنسو آپ نے راستے کی دھول کو آنکھوں کا کاجل کر دیا میں نے دل دے کر اسے کی تھی وفا کی ابتدا اس نے دھوکہ دے کے یہ قصہ مکمل کر دیا یہ ہوائیں کب نگاہیں پھیر لیں کس کو خبر شہرتوں کا ...

مزید پڑھیے

میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں

میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں مگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میں عجیب لوگ ہیں میری تلاش میں مجھ کو وہاں پہ ڈھونڈ رہے ہیں جہاں نہیں ہوں میں میں آئنوں سے تو مایوس لوٹ آیا تھا مگر کسی نے بتایا بہت حسیں ہوں میں وہ ذرے ذرے میں موجود ہے مگر میں بھی کہیں کہیں ہوں کہاں ہوں ...

مزید پڑھیے

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا میں جانتا تھا کہ زہریلا سانپ بن بن کر ترا خلوص مری آستیں سے نکلے گا اسی گلی میں وہ بھوکا فقیر رہتا تھا تلاش کیجے خزانہ یہیں سے نکلے گا بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دن جہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1749 سے 6203