قومی زبان

مقید ذات کے اندر نہیں میں

مقید ذات کے اندر نہیں میں چراغ گنبد بے در نہیں میں مجھے بھی راستہ دے بحر خلقت کسی فرعون کا لشکر نہیں میں تو سستانے کو ٹھہرا ہے یقیناً تری پرواز کا محور نہیں میں رہے کیسے مسلسل ایک موسم کسی تصویر کا منظر نہیں میں تو جب چاہے مجھے تسخیر کر لے ترے امکان سے باہر نہیں میں وہ پھر ...

مزید پڑھیے

بتان خشت و سنگ سے کلام کر کے آ گیا

بتان خشت و سنگ سے کلام کر کے آ گیا کہ میں تمہارے شہر میں بھی شام کر کے آ گیا وہاں کسی کو یاد بھی نہیں تھا میرا نام تک جہاں میں اپنی زندگی تمام کر کے آ گیا گلی میں کھیلتا ہوا ملا تھا اپنا بچپنا جسے میں حسرتوں بھرا سلام کر کے آ گیا تمہارا نام پھر کرید کر اداس پیڑ پر خزاں میں فصل گل ...

مزید پڑھیے

جہاں کہیں بھی ترے نام کی دہائی دی

جہاں کہیں بھی ترے نام کی دہائی دی مجھے پلٹ کے خود اپنی صدا سنائی دی نگل رہی تھی مرے آئنوں کی تاریکی کہ پھر کہیں سے اچانک کرن دکھائی دی ترے جمال نے بخشی نگاہ مٹی کو ترے خیال نے توفیق لب کشائی دی عطا ہے اس کی دیا دل مجھے سمندر کا بنا کے چاند تجھے جس نے دل ربائی دی سنا ہے پھر کہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے ایک منظر ہے

زندگی کیا ہے ایک منظر ہے ریت ہے تشنگی ہے کیکر ہے آپ بے حد حسین ہیں لیکن دل تو یاقوت کا بھی پتھر ہے ایک تصویر میری آنکھوں کی ایک تصویر میں سمندر ہے سایۂ عاطفت میں رہتا ہوں غم ترا راحتوں سے بڑھ کر ہے آپ کیوں دیر سے کھڑے ہیں یہاں آئیے پاس ہی مرا گھر ہے کوچۂ ذات میں بھٹکتا ہوں آپ ...

مزید پڑھیے

میرے حصے میں ازل سے کوئی گھر تھا ہی نہیں

میرے حصے میں ازل سے کوئی گھر تھا ہی نہیں مجھ سے پہلے کوئی آشفتہ سفر تھا ہی نہیں میں تری یاد کے سائے میں بسر کرتا رہا اس خرابے میں کوئی اور شجر تھا ہی نہیں کوئی دم کوئی گھڑی رو دیا کرتے تھے میاں تیری فرقت میں قرینے کا ہنر تھا ہی نہیں ایک دروازہ جہاں نور بچھا رہتا تھا ایک آنگن کہ ...

مزید پڑھیے

دل کتنا فریبی ہے اداکار نہ ہو جائے

دل کتنا فریبی ہے اداکار نہ ہو جائے یہ روزن در روزن دیوار نہ ہو جائے اک خواب ترے وصل کی خوشبو سے رچا خواب یہ خواب مجھے باعث آزار نہ ہو جائے یہ ہنستے ہوئے لوگ یہ مہکے ہوئے منظر یہ بھیڑ کہیں واقف اسرار نہ ہو جائے دل ہے کسی امید کے سائے میں فروزاں یک طرفہ تسلی کا سزا وار نہ ہو ...

مزید پڑھیے

آنکھ کا منظر نامہ بانٹ لیا جائے

آنکھ کا منظر نامہ بانٹ لیا جائے یعنی خواب کا رقبہ بانٹ لیا جائے ایک چراغ کو محرم راز کیا جائے اور اندھیرا کونا بانٹ لیا جائے تیرے میرے بیچ مزاج کا پردہ ہے کیا کہتے ہو پردہ بانٹ لیا جائے بٹوارا مقدور ہوا تو گھر ہی کیوں بہتر ہوگا رستہ بانٹ لیا جائے یار کتابیں مجھ کو کھائے ...

مزید پڑھیے

یہ کس نے دشت بلا سے مجھے پکارا ہے

یہ کس نے دشت بلا سے مجھے پکارا ہے ابھی ابھی تو مجھے زندگی نے ہارا ہے تصور رخ جاناں کیے ہوئے ہم لوگ ہماری آنکھ میں آنسو نہیں ستارا ہے کوئی چراغ نہ جگنو نہ آئنہ نہ کتاب یہ کیسا خواب مری آنکھ پر اتارا ہے بس اک امید ہے جس نے سنبھال رکھا ہے بس ایک نام ہے جس کا ہمیں سہارا ہے ابھی میں ...

مزید پڑھیے

بے اماں شب کا دھواں ڈر کی طرف کھینچتا ہے

بے اماں شب کا دھواں ڈر کی طرف کھینچتا ہے ایک نادیدہ سمندر کی طرف کھینچتا ہے دل کہیں دور بہت دور نکل جاتا ہے وقت تصویر کے اندر کی طرف کھینچتا ہے میں کھرچتا ہوں ہتھیلی سے لکیروں کا عذاب اک ستارا مجھے محور کی طرف کھینچتا ہے دشت احساس کی شدت سے نکلنا ہے محال درد بیتے ہوئے منظر کی ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہے آئنہ ہے مشعل ہے

آنکھ ہے آئنہ ہے مشعل ہے کوئی تصویر تو مکمل ہے اس جگہ شہر ہونا چاہیے تھا سامنے دیکھیے تو جنگل ہے میں بھی ایڑی پہ گھوم جاؤں گا اور یہ بے کلی بھی دو پل ہے بس مجھے درمیان میں رکھنا آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے یہ تو منظر پہ منحصر ہوگا مدعا دشت ہے کہ بادل ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1745 سے 6203