قومی زبان

لہو آنکھوں میں روشن ہے یہ منظر دیکھنا اب کے

لہو آنکھوں میں روشن ہے یہ منظر دیکھنا اب کے دیار غم میں کیا گزری ہے ہم پر دیکھنا اب کے اندھیرا ہے وہی لیکن روایت وہ نہیں باقی چراغوں کی جگہ ہاتھوں میں خنجر دیکھنا اب کے سلگتے گھر کی چنگاری بھی بدلہ لینے والی ہے یہ منظر دیکھنا لیکن سنبھل کر دیکھنا اب کے شکست و فتح کی تاریخ لکھی ...

مزید پڑھیے

پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی

پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی باقی ہے زخم زخم کی گہرائی کم ہوئی سلگا ہوا ہے زیست کا صحرا افق افق چہروں کی دل کشی گئی زیبائی کم ہوئی دوری کا دشت جس کے لیے سازگار تھا آنگن میں قرب کے وہ شناسائی کم ہوئی اب شہر شہر عام ہے گویائی کا سکوت جب سے لب سکوت کی گویائی کم ہوئی کچھ ہو نہ ...

مزید پڑھیے

تباہی بستیوں کی ہے نگہبانوں سے وابستہ

تباہی بستیوں کی ہے نگہبانوں سے وابستہ گھروں کا رنج ویرانی ہے مہمانوں سے وابستہ سفر قدموں سے وابستہ ہے لیکن راستہ اپنا گلستانوں سے وابستہ نہ ویرانوں سے وابستہ صداقت بھی تو ہو جاتی ہے مقتول فریب آخر حقیقت بھی تو ہو جاتی ہے افسانوں سے وابستہ سپرد خاک ہم نے ہی کیا کتنے عزیزوں ...

مزید پڑھیے

ذوق سجود لے گیا مجھ کو کہاں کہاں

ذوق سجود لے گیا مجھ کو کہاں کہاں لیکن مرے نصیب میں وہ آستاں کہاں بخشا ہے تیرے نقش قدم نے جو خاک کو وہ حسن دل نواز سر کہکشاں کہاں میں سوچتا ہوں عارض و گیسو کو دیکھ کر ٹھہرے گا صبح و شام کا یہ کارواں کہاں خود سے بھی ہو سکی نہ ملاقات عمر بھر اپنی تلاش لے گئی مجھ کو کہاں کہاں ایجاد ...

مزید پڑھیے

نخل امید و آرزو بے برگ و بار ہے

نخل امید و آرزو بے برگ و بار ہے ناکامئ حیات پہ دل شرمسار ہے دامان صبر ہجر میں گو تار تار ہے وعدے کا ان کے پھر بھی ہمیں اعتبار ہے فکر جہاں مجھے نہ غم روزگار ہے پھر بھی نہ جانے کس لئے دل بیقرار ہے شام فراق شدت غم بے شمار ہے مشتاق دید آنکھ بھی اب اشک بار ہے گلشن میں ان کو دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

اپنی آشفتہ طبیعت کا مزہ لیتا ہوں

اپنی آشفتہ طبیعت کا مزہ لیتا ہوں کش لگاتا ہوں اذیت کا مزہ لیتا ہوں آنکھ بھی سامنے ہونے پہ یقیں رکھتی ہے خواب در خواب سہولت کا مزہ لیتا ہوں تو مرے حصے کی وحشت کا مزہ لیتا ہے اور میں تیری مشیت کا مزہ لیتا ہوں چاندنی سرد ہوا پھول پرندے خوشبو رات بھر تیری ضرورت کا مزہ لیتا ...

مزید پڑھیے

در و دیوار پر سایہ پڑا ہے

در و دیوار پر سایہ پڑا ہے ہواؤں میں نمی کا ذائقہ ہے کوئی طوفان ہے کچا گھڑا ہے نگاہ شوق منزل آشنا ہے وہی کنج قفس ہے اور ہم ہیں وہی امید کا جلتا دیا ہے میں آئینے میں خود کو کھوجتا ہوں یہ گاؤں کب کا خالی ہو چکا ہے دسمبر کی کہانی اور کچھ تھی مرے دل کا اجڑنا حادثہ ہے غم عقبیٰ غم ...

مزید پڑھیے

جا بیٹھے ندی کنارے رات اور میں

جا بیٹھے ندی کنارے رات اور میں دونوں اک دوجے کے سہارے رات اور میں اک جیسے حالات کے مارے ہیں سارے رستے پتے چاند ستارے رات اور میں جاگ کئی دن بعد تجھے ملنے آئے آج پرانے دوست تمہارے رات اور میں کچھ گھر دیر سے آنے والوں کے سائے اور کئی بے در بے چارے رات اور میں چپ کی تاریکی کے سینے ...

مزید پڑھیے

ذکر شبیر سے نکل آیا

ذکر شبیر سے نکل آیا خون تحریر سے نکل آیا ہے غریبی کی فصل گل کہ ثمر چھت کے شہتیر سے نکل آیا رقص میں یوں لگے مجھے جیسے جسم زنجیر سے نکل آیا میری قسمت تو دیکھیے صاحب خواب تعبیر سے نکل آیا لے کے اپنی کمان و تیغ و سپر سایۂ پیر سے نکل آیا عذر تخریب گر پس پردہ شوق تعمیر سے نکل ...

مزید پڑھیے

بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے

بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے چٹان میں بھی اگر ہو خبر نکلتی ہے مری طرف سے اجازت ہے دیکھ لو خود ہی کہیں جدائی کی صورت اگر نکلتی ہے وہ تیرگی ہے کہ خود راہ ڈھونڈنے کے لیے چراغ ہاتھ میں لے کر سحر نکلتی ہے غرور اتنا بھی کیا اپنی شان شوکت پر یہ خوش گمانی تو کٹوا کے سر نکلتی ہے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1744 سے 6203