پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا ہائے رے گردش ایام کہ اب کے تو نے شکوۂ گردش ایام بھی رہنے نہ دیا آخر کار پکارا اسے ظالم کہہ کر درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا کوئی کیوں آئے گا دوبارہ تری جنت میں دانہ بھی چھین لیا دام بھی رہنے نہ ...