قومی زبان

پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا

پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا ہائے رے گردش ایام کہ اب کے تو نے شکوۂ گردش ایام بھی رہنے نہ دیا آخر کار پکارا اسے ظالم کہہ کر درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا کوئی کیوں آئے گا دوبارہ تری جنت میں دانہ بھی چھین لیا دام بھی رہنے نہ ...

مزید پڑھیے

تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے

تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے کہ لکھنے والے تو مدت سے ہوش کھو بیٹھے ترس گئی ہیں نگاہیں زیادہ کیا کہیے صنم صنم رہے بہتر خدا نہ ہو بیٹھے خدا کے فضل سے تعلیم وہ ہوئی ہے عام خرد تو خیر جنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے برا کیا کہ تلاطم میں نا خدائی کی کنارہ بھی نہ ملا ناؤ بھی ڈبو ...

مزید پڑھیے

تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح

تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح ایسی وحشت کا برا ہو کہ ہم اپنے گھر سے غم ہوئے خود بھی محبت کی نشانی کی طرح ننگے سچ قابل برداشت کہاں ہوتے ہیں واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی ...

مزید پڑھیے

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں عشق فرمائیں جوئے شیر کہاں سے لائیں خواب ہی خواب ہیں تعبیر کہاں سے لائیں لائیں پر خوبیٔ تقدیر کہاں سے لائیں مرہم‌ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے ...

مزید پڑھیے

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے یہ آئینہ تری تمثال کے مساوی ہے گئے دنوں میں جسے بدترین کہتے تھے اب اچھا حال بھی اس حال کے مساوی ہے نظر جھکائے پڑا ہوں میں اپنے پاؤں میں یہ جا مرے لیے پاتال کے مساوی ہے قسم خدا کی کسی اور پر اگر گزرے یہ کیفیت کسی بھونچال کے مساوی ہے سمجھ سکیں تو یہ ...

مزید پڑھیے

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں بڑھتی چلی گئی ہے نفاست بیان میں یوں کھو گیا ہوں مثنوی سحر البیان میں شامل ہوں جیسے میں بھی اسی داستان میں اک پیر چھو گیا ہے کسی مہ جمال کا اب جشن کا سماں سا ہے کپڑے کے تھان میں تجھ تک تو میں پہنچ ہی گیا ہوں مگر یہ کیا دل صرف ہو چکا ہے کہیں ...

مزید پڑھیے

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا میں رستہ تھا مگر سیدھا نہیں تھا مجھے سورج پہ یہ بھی برتری تھی میں روشن تھا مگر جلتا نہیں تھا سفر کی آرزو کچھ دیدنی تھی میں قطرہ تھا مگر رکتا نہیں تھا جڑیں تھیں سایہ تھا پھل پھول بھی تھے میں جتنا تھا فقط اتنا نہیں تھا وہ لگتا تھا مگر ایسا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں

ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں اس قدر پاس نہ آ دور نہ ہو جائیں کہیں ہمیں آئینہ بنا لے کہ یہ ساحر آنکھیں اپنے ہی سحر سے مسحور نہ ہو جائیں کہیں سینہ تابوت نہ بن جائے کسی بلبل کا خوشبوئیں باغ کی کافور نہ ہو جائیں کہیں مت ہنسا اس قدر اے نوبت حالات ہمیں جو فقط زخم ہیں ناسور نہ ...

مزید پڑھیے

میں ہوں وہ آنکھ جسے خون جگر لے ڈوبے

میں ہوں وہ آنکھ جسے خون جگر لے ڈوبے میں وہ نالہ ہوں جسے اس کا اثر لے ڈوبے میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں میں ہوں وہ بزم جسے رقص شرر لے ڈوبے وہ مئے تند ہوں میں جس سے جگر چر جائے میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے میں وہ آزر ہوں جسے مشق ...

مزید پڑھیے

محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو

محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو اے رات اے فراق خدارا کوئی تو ہو یہ بد دعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا کوئی تو ہو نصیب کا مارا کوئی تو ہو تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار اچھا ہے ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو سرکار ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب اس نا مراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1738 سے 6203