قومی زبان

چھن گئے خود سے تمہارے ہو گئے

چھن گئے خود سے تمہارے ہو گئے تم پہ عاشق دل کے مارے ہو گئے کچھ دن آوارہ پھرے سیارہ وار رہ گئے تم پر ستارے ہو گئے تجھ پہ قرباں اے جمال عہد سوز جس کے بیاہے بھی کنوارے ہو گئے کیا اسی کو کہتے ہیں ربط دلی چور دل کے جاں سے پیارے ہو گئے ہم تھے تیرے خاکساروں میں شمار حاسدوں میں چاند تارے ...

مزید پڑھیے

دل کے افسانے کو افسانہ سمجھنے والے

دل کے افسانے کو افسانہ سمجھنے والے خوب سمجھے مجھے دیوانہ سمجھنے والے دیکھ کر بھی نہ کبھی جان سکے حسن کا راز عشق کو علم سے بیگانہ سمجھنے والے آ تجھے ضبط کے اسراف سے آگاہ کروں آہ کو درد کا پیمانہ سمجھنے والے شیخ جاگیر سمجھتا ہے خدائی کو بھی ہم خدا کو بھی کسی کا نہ سمجھنے ...

مزید پڑھیے

کس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیں

میری لکھنے میں عمر گزری ہے تیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکی تیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھے مجھ پہ یہ وقت آ کے بیت چکا میں بھی خود سے سوال کرتا تھا کس کی غزلوں میں کس کے جلوے ہیں کس کا چہرہ ہے کس کی نظموں میں کون روتا ہے کس کے لہجے میں کس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیں پھر جوابات مل گئے مجھ کو اب ...

مزید پڑھیے

کون زنجیر توڑ سکتا ہے

کون زنجیر توڑ سکتا ہے کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی کس میں جرأت ہے سر اٹھانے کی کون باغی تمہاری ذات سے ہو کس ستم گر کو جان پیاری نہیں جان ہے تو جہان ہے پیارے لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں کہ کسی روز وقت آئے گا ایک لشکر مسرتوں کا لیے اور تہ تیغ کر کے رکھ دے گا غم کی فوجوں کو قہر کے دل کو اور ...

مزید پڑھیے

غم

رات ویران ہے بہت ویران آسماں لاش ہے جلی ہوئی لاش جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح ایک انبوہ ہے ستاروں کا رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں خامشی سے گزرتے جاتے ہیں ہائے یہ رات ہائے ہائے یہ رات کب بسر ہوگی کیسے گزرے گی کوئی دیکھے مری نظر سے اسے کوئی چارہ مجھے بتائے مرا کچھ علاج اس نظر کا کوئی ...

مزید پڑھیے

حریم دل میں اترتی ہیں آیتیں اس کی

حریم دل میں اترتی ہیں آیتیں اس کی لہو بھی کرنے لگا ہے تلاوتیں اس کی قریب تھا تو رگ جاں سے بھی قریب رہا بچھڑ کے تا بہ فلک ہیں مسافتیں اس کی ہوئی ہے شاخ دل و جاں پہ خواہشوں کی نمو لہو کے پھول کھلائیں گی قربتیں اس کی اسی امید پہ خوابوں کی فصل بوئی ہے کہ کشت دل میں اگیں گی بشارتیں اس ...

مزید پڑھیے

ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے

ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے نیت تو باندھ سکتے ہیں پیچھے امام کے قدموں میں دیں جگہ ہمیں اہل کرم کہیں ہم راندگاں ہیں سجدہ‌ گہ خاص و عام کے آنکھوں کی بات چھڑ گئی باتوں کے درمیان مے خانہ والے رہ گئے پیمانے تھام کے واعظ کو اونچ نیچ محبت کی کیا پتا یہ مسئلے نہیں علمائے کرام ...

مزید پڑھیے

با وفا کوئی کوئی ہوتا ہے

با وفا کوئی کوئی ہوتا ہے میں بھی تھا کوئی کوئی ہوتا ہے قدر کر میری قدر کر ظالم دل‌ جلا کوئی کوئی ہوتا ہے ابن آدم کے روگ بہتیرے لا دوا کوئی کوئی ہوتا ہے کون ظالم نہیں زمانے میں آپ سا کوئی کوئی ہوتا ہے دل میں کاہے نہ چور گھر کرتے در بھی وا کوئی کوئی ہوتا ہے جس طرح ہم ہیں آپ کے ...

مزید پڑھیے

تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے

تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے خود کو ہم یاد آ کے بھول گئے زخم خنداں ہیں آج بھی میرے آپ تو مسکرا کے بھول گئے بحث گو ناصحوں نے اچھی کی مدعا سٹپٹا کے بھول گئے جو بھلائے نہ بھولتے تھے ستم سامنے ان کو پا کے بھول گئے کون تھے کیا تھے ہم کہاں کے تھے جانے کس کو بتا کے بھول گئے ہم تو خیر ...

مزید پڑھیے

کوئی دن ہوگا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم

کوئی دن ہوگا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم تیری گلیوں سے گئے بھی تو کہاں جائیں گے ہم آنسوؤں کا تو تکلف ہی کیا آنکھوں نے خون کے گھونٹ سے کیا شوق نہ فرمائیں گے ہم زندگی پہلے ہی جینے کی طرح کب جی ہے اب ترے نام پہ مرنے کی سزا پائیں گے ہم کب تک اے عہد کرم باندھنے والے کب تک دل کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1737 سے 6203