اے دل شریک طائفۂ وجد و حال ہو
اے دل شریک طائفۂ وجد و حال ہو پیارے یہ عیب ہے تو بہ حد کمال ہو شبلیؔ و بایزیدؔ و گرونانکؔ و کبیرؔ ہنگامۂ جلال میں رقص جمال ہو سب کی زباں پہ مست قلندر ہو دم بدم پھر اس کے بعد رات میں ڈٹ کر دھمال ہو پھر ہم سفر کریں طرف سمت لا جہت نے شرق و غرب ہو نہ جنوب و شمال ہو آساں رجوع شمس ہے ...