قومی زبان

اے دل شریک‌ طائفۂ وجد و حال ہو

اے دل شریک‌ طائفۂ وجد و حال ہو پیارے یہ عیب ہے تو بہ حد کمال ہو شبلیؔ و بایزیدؔ و گرونانکؔ و کبیرؔ ہنگامۂ جلال میں رقص جمال ہو سب کی زباں پہ مست قلندر ہو دم بدم پھر اس کے بعد رات میں ڈٹ کر دھمال ہو پھر ہم سفر کریں طرف سمت لا جہت نے شرق و غرب ہو نہ جنوب و شمال ہو آساں رجوع شمس ہے ...

مزید پڑھیے

شمیم گیسوئے مشکین یار لائی ہے

شمیم گیسوئے مشکین یار لائی ہے صبا اڑا کے پیام بہار لائی ہے کسی عروس شبستان الف لیلیٰ کا چرا کے اک نفس مشکبار لائی ہے جو رہروان طریق طلب ہیں ان کے لئے غبار منزل شہر نگار لائی ہے کہو کہ دیدہ و دل کے لئے نسیم سحر پیام غمزۂ عالم شکار لائی ہے کہو کہ خرمن جاں کے لئے شمیم بہار سلام ...

مزید پڑھیے

سیاہ ہے دل گیتی سیاہ تر ہو جائے

سیاہ ہے دل گیتی سیاہ تر ہو جائے خدا کرے کہ ہر اک شام بے سحر ہو جائے کچھ اس روش سے چلے باد برگ ریز خزاں کہ دور تک صف اشجار بے ثمر ہو جائے بجائے رنگ رگ غنچہ سے لہو ٹپکے کھلے جو پھول تو ہر برگ گل شرر ہو جائے زمانہ پی تو رہا ہے شراب دانش کو خدا کرے کہ یہی زہر کارگر ہو جائے کوئی قدم نہ ...

مزید پڑھیے

جہاں معبود ٹھہرایا گیا ہوں

جہاں معبود ٹھہرایا گیا ہوں وہیں سولی پہ لٹکایا گیا ہوں سنا ہر بار میرا کلمۂ صدق مگر ہر بار جھٹلایا گیا ہوں کبھی ماضی کا جیسے تذکرہ ہو زباں پر اس طرح لایا گیا ہوں ابھی تدفین باقی ہے ابھی تو لہو سے اپنے نہلایا گیا ہوں دوامی عظمتوں کے مقبرے میں ہزاروں بار دفنایا گیا ہوں ترس ...

مزید پڑھیے

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی ...

مزید پڑھیے

میں خاک ہوں سو یہی تجربہ رہا ہے مجھے

میں خاک ہوں سو یہی تجربہ رہا ہے مجھے وہ شکل نو کے لئے روندتا رہا ہے مجھے اسے جو چاہیے میں ہوں اسی کے جیسا کوئی وہ میرے جیسے کی ضد میں گنوا رہا ہے مجھے میں وہ ہی خواب سحر جو فضول تھا دن بھر طویل شب میں مگر دیکھا جا رہا ہے مجھے ادھر یہ فردا خفا ہے مرے تغافل سے ادھر خلوص سے ماضی بلا ...

مزید پڑھیے

وصل کے مرحلے سے ہجر کی منزل کی طرف

وصل کے مرحلے سے ہجر کی منزل کی طرف عشق میں بڑھ رہے ہیں آخری مشکل کی طرف لاکھ سمجھاتا ہوں میں اس کو مگر ہوتے ہی شام ایک حسرت چلی آتی ہے مرے دل کی طرف بے نیازانہ تری اور چلے تو تھے پر اب غور سے دیکھتے ہیں حسرت حائل کی طرف شہر کا شہر ہے آشوب کی زد میں سو یہاں کس کو فرصت ہے کہ دیکھے حق ...

مزید پڑھیے

ساتھ الفت کے ملے تھوڑی سی رسوائی بھی

ساتھ الفت کے ملے تھوڑی سی رسوائی بھی وصل کے باد مجھے چاہیے تنہائی بھی تنگ ہو میرے جنوں سے کہیں چھپ بیٹھی تھی عقل اور اسے ڈھونڈھنے میں کھو گئی دانائی بھی عمر جب روٹھی تو اپنا دیا سب کچھ لے چلی زور بھی ضبط بھی رفتار بھی رعنائی بھی میں نے چاہا تھا کہ بالکل ہی اکیلا ہو جاؤں سو گیا ...

مزید پڑھیے

ہم نے اے دوست رفاقت سے بھلا کیا پایا

ہم نے اے دوست رفاقت سے بھلا کیا پایا جوئے بے آب ہے تو میں شجر بے سایہ درد جو عقل کے اسراف سے بچ رہتا ہے عشق کے قحط زدوں کا ہے وہی سرمایا دیدہ و دل سے گزرتا ہے کوئی شخص اکثر جیسے آہوئے رمیدہ کا گریزاں سایا کل فقط گیسوئے برہم تھے نشان تشویش آج دیکھا تو انہیں اور پریشاں پایا حسن ...

مزید پڑھیے

راز گرفتگی نہ اسیر لحن سے پوچھ

راز گرفتگی نہ اسیر لحن سے پوچھ یہ بات اپنی زلف شکن در شکن سے پوچھ آوارگی کے لطف نہ سرو و سمن سے پوچھ وحشت میں کیا مزا ہے ہوائے چمن سے پوچھ مردان حق کا عزم شہیدان حق کا جرم دلدادگان شیوۂ دار و رسن سے پوچھ کیا شام غم میں دیدہ و دل پر گزر گئی ان تازہ واردان بساط کہن سے پوچھ لذت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1731 سے 6203