قومی زبان

دنیا کو کیا خبر؟ مری دنیا پھر آ گئی

دنیا کو کیا خبر؟ مری دنیا پھر آ گئی وہ روح ناز و جان تمنا پھر آ گئی اے روح قیس! تہنیت شوق دے مجھے لیلیٰ پھر آ گئی مری لیلیٰ پھر آ گئی اب اور کیا ہے چشم تماشا کی آرزو وہ آرزوئے چشم تماشا پھر آ گئی کہتے ہوئے کہ آپ کے صرف آپ کے لئے سب سے بچھڑ کے آپ کی عذرا پھر آ گئی روٹھے ہوئے تھے آپ ...

مزید پڑھیے

گرد میں اٹ رہے ہیں احساسات

گرد میں اٹ رہے ہیں احساسات دھیمے دھیمے برس رہی ہے رات جل اٹھا اک چراغ شام تو کیا بجھ گئے بے شمار امکانات ہائے ماضی کی دل نشیں یادیں ہائے خونخوار بھیڑیوں کی برات چیونٹیاں جیسے ذہن پر رینگیں اف یہ میرے لطیف احساسات بھوت بن کر مجھے ڈراتی رہیں میری نا آفریدہ تخلیقات کون آیا ...

مزید پڑھیے

رقصاں ہے منڈیر پر کبوتر

رقصاں ہے منڈیر پر کبوتر دیوار سی گر رہی ہے دل پر ٹہنی پہ خموش اک پرندہ ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر اڑتے ہیں ہوا کی سمت ذرے یادوں کے چلے ہیں لاؤ لشکر پیڑوں کے گھنے مہیب سائے یہ کون ہے مجھ پہ حملہ آور پتوں میں جھپک رہی ہیں آنکھیں شاخوں میں چمک رہے ہیں خنجر یہ کون قریب آ رہا ہے خود ...

مزید پڑھیے

یہ شہر شہر بلا بھی ہے کینہ ساز کے ساتھ

یہ شہر شہر بلا بھی ہے کینہ ساز کے ساتھ نکل چلو کسی محبوب دل نواز کے ساتھ یہی نوائے عدم ہے یہی نوازش کن خوشا حکایت‌ نے حرف نے نواز کے ساتھ سوئے‌ نگار و سوئے شہر زر نگار چلیں قلندران ہوسناک و پاک باز کے ساتھ سلام ہم نفسو الفراق ہم سفرو سفر ہے دور کا وہ بھی رہ دراز کے ساتھ یہ ...

مزید پڑھیے

یہ فقط شورش ہوا تو نہیں

یہ فقط شورش ہوا تو نہیں کوئی مجھ کو پکارتا تو نہیں بول اے اختر غنودۂ‌ صبح کوئی راتوں کو جاگتا تو نہیں سن کہ یہ مدد و جزر‌ ساحل بحر ماجراؤں کا ماجرا تو نہیں ذہن پر ایک کھردری سی لکیر کنکھجورے کا راستا تو نہیں ریت پر چڑھ رہی ہے ریت کی تہہ بابل و مصر و نینوا تو نہیں نوک ہر خار و ...

مزید پڑھیے

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے کتنی مغرور ہے نسیم سحر شاید اس آستاں سے آتی ہے خود وہی میر کارواں تو نہیں بوئے خوش کارواں سے آتی ہے ان کے قاصد کا منتظر ہوں میں اے اجل! تو کہاں سے آتی ہے شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوست! جانتا ہوں جہاں سے آتی ہے ہو چکیں آزمائشیں ...

مزید پڑھیے

سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں گدا کے لئے

سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں گدا کے لئے کھلا ہوا ہے ہر اک راستہ ہوا کے لئے یہ پوچھتی ہے ہر اک صبح آ کے موج نسیم کوئی پیام کسی یار آشنا کے لئے طواف دیر و حرم سے تو ہو چکے فارغ چلو زیارت یاران با صفا کے لئے میں کیوں نہ با سر عریاں پھروں تہ افلاک کہ فخر ہے سر عریاں برہنہ پا کے لئے یہ شہر ...

مزید پڑھیے

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم ذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیر درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم صبح ازل سے ...

مزید پڑھیے

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تم

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تم ناموس قافلہ پہ فدا ہم ہوئے کہ تم کیوں دجلہ و فرات کے دعوے کہ نہر پر تشنہ دہن شہید جفا ہم ہوئے کہ تم مانا کہ سب اجل کے مقابل تھے سر بکف لیکن شکار تیر قضا ہم ہوئے کہ تم تم بھی فریب خوردہ سہی پر بصد خلوص مقتول مکر و صید دغا ہم ہوئے کہ تم تم شاخ گل سے ...

مزید پڑھیے

میں جو تنہا رہ طلب میں چلا

میں جو تنہا رہ طلب میں چلا میرا سایہ مرے عقب میں چلا صبح کے قافلوں سے نبھ نہ سکی میں اکیلا سواد شب میں چلا جب گھنے جنگلوں کی صف آئی ایک تارا مرے عقب میں چلا آگے آگے کوئی بگولا سا عالم مستی و طرب میں چلا میں کبھی حیرت طلب میں رکا اور کبھی شدت غضب میں چلا نہیں کھلتا کہ کون شخص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1730 سے 6203