قومی زبان

کوئے جاناں مجھ سے ہرگز اتنی بیگانہ نہ ہو

کوئے جاناں مجھ سے ہرگز اتنی بیگانہ نہ ہو عین ممکن ہے کہ پھر تیری طرف آنا نہ ہو عین ممکن ہے کہ دہراؤں حدیث دیگراں آج جو میری زباں پر ہے وہ افسانہ نہ ہو عین ممکن ہے کہ جا پہنچوں کسی مریخ پر اس زمیں سے کوئی رشتہ کوئی یارانہ نہ ہو پیر مے خانہ یہ ممکن ہے کہ میرا جانشیں رند ہو پر واقف ...

مزید پڑھیے

بتا کیا کیا تجھے اے شوق حیراں یاد آتا ہے

بتا کیا کیا تجھے اے شوق حیراں یاد آتا ہے وہ جان آرزو وہ راحت جاں یاد آتا ہے پریشاں خاطری حد سے گزرتی ہے تو وحشت کو کسی کا عالم زلف پریشاں یاد آتا ہے گزرتا ہے کبھی جب چودھویں کا چاند بدلی سے مہین آنچل میں ان کا روئے تاباں یاد آتا ہے اندھیری رات میں جگنو چمکتے ہیں تو رہ رہ ...

مزید پڑھیے

مقربین میں رمز آشنا کہاں نکلے

مقربین میں رمز آشنا کہاں نکلے جو اجنبی تھے وہی اپنے رازداں نکلے حرم سے بھاگ کے پہنچے جو دیر راہب میں تو اہل دیر ہمارے مزاج داں نکلے بہت قریب سے دیکھا جو فوج اعدا کو تو ہر قطار میں یاران مہرباں نکلے قلندروں سے ملا مژدۂ سبک روحی جو بزم ہوش سے نکلے تو سر گراں نکلے قبیلۂ حرم و ...

مزید پڑھیے

رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے

رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے ہمارے ساتھ ہزاروں بلا نصیب چلے رفاقتوں کی سعادت لئے رفیق آئے رقابتوں کی نحوست لئے رقیب چلے جو قافلے کہ ہماری طلب میں نکلے تھے کبھی بعید سے گزرے کبھی قریب چلے عقب میں حادثۂ صبح و شام کے عفریت جلو میں گردش ایام کے نقیب چلے جہاں کو جن کے نصیبے پہ ...

مزید پڑھیے

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں تم لوگ ہو آندھیوں کی زد میں میں قحط ہوا سے مر رہا ہوں خود اپنے ہی قلب خونچکاں میں خنجر کی طرح اتر رہا ہوں اے شہر خیال کے مسافر کیا میں ترا ہم سفر رہا ہوں دیوار پہ دائرے ہیں کیسے یہ کون ہے کس سے ڈر رہا ہوں میں شبنم چشم تر سے اے ...

مزید پڑھیے

سیاہ ہے دل گیتی سیاہ تر ہو جائے

سیاہ ہے دل گیتی سیاہ تر ہو جائے خدا کرے کہ ہر اک شام بے سحر ہو جائے کچھ اس ادا سے چلے باد برگ ریز خزاں کہ دور تک صف اشجار بے ثمر ہو جائے بجائے رنگ رگ غنچہ سے لہو ٹپکے کھلے جو پھول تو ہر برگ گل شرر ہو جائے پڑے جو ہاتھ چمن میں بہ قصد گل چینی مثال پنجۂ قصاب خوں میں تر ہو جائے فروغ ...

مزید پڑھیے

دیدنی ہے بہار کا منظر

دیدنی ہے بہار کا منظر زہر چھڑکا گیا درختوں پر بن رہے ہیں عروس گل کا کفن مگس برگ‌ و عنکبوت شجر چیل کوؤں کو تاکتے رہئے چاند تاروں سے تھک گئی ہے نظر جو مرا تکیہ جوانی تھا اسی برگد کی جھک گئی ہے کمر ہاتھ پھیلا کے چیختے ہیں درخت صرصر حادثہ کا رخ ہے کدھر سرخ پھولوں کے لال ...

مزید پڑھیے

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے پہلے بھی خراب تھی یہ دنیا اب اور خراب ہو گئی ہے اس بحر میں کتنی کشتیوں کو ساحل کی ہوا ڈبو گئی ہے گل جن کی ہنسی اڑا چکے تھے! شبنم بھی انہیں کو رو گئی ہے کل سے وہ اداس اداس ہیں کچھ شاید کوئی بات ہو گئی ہے شاداب ہے جس سے کشت ہستی وہ ...

مزید پڑھیے

زمیں پر روشنی ہی روشنی ہے

زمیں پر روشنی ہی روشنی ہے خلا میں اک کرن گم ہو گئی ہے میں تنہا جا رہا ہوں سوئے منزل یہ پرچھائیں کہاں سے آ رہی ہے یہ شام اور روشنی کی یہ قطاریں اداسی اور گہری ہو گئی ہے عروج ماہ ہے اور مقبروں پر ابد کی چاندنی چٹکی ہوئی ہے ابھار اے موج طوفاں خیز مجھ کو یہ کشتی ریت میں ڈوبی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اہرمن ہے نہ خدا ہے مرا دل

اہرمن ہے نہ خدا ہے مرا دل حجرۂ ہفت بلا ہے مرا دل مہبط روح ازل میرا دماغ اور آسیب زدہ ہے مرا دل سر جھکا کر مرے سینے سے سنو کتنی صدیوں کی صدا ہے مرا دل اجنبی زاد ہوں اس شہر میں میں اجنبی مجھ سے سوا ہے مرا دل آؤ قصد سفر نجد کریں راہ ہے راہنما ہے مرا دل چند بے نام و نشاں قبروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1729 سے 6203