قومی زبان

چاند کی بڑھیا

سنا ہے چاند ہے سونے کا انڈا سنا ہے چاند کا موسم ہے ٹھنڈا سنا ہے چاند میں ہیں خاک پتھر سنا ہے چاند میں ہیں لعل و گوہر مگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ہے سنا ہے چاند کے لب سرخ سنہرے سنا ہے چاند میں ہیں غار گہرے سنا ہے چاند میں چاندی کے دریا بہت سندر بہت انمول بڑھیا مگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ...

مزید پڑھیے

فارسی اردو سبق

آؤ بچو سبق پڑھائیں فارسی اور اردو گائے کو بولو گاؤ ہمیشہ ہرنی کو آہو گھاس گیاہ اور آب ہے پانی اور ندی ہے جو منشی جی نے سبق پڑھایا فارسی اور اردو ہو ہا ہو ہا ہو ہو ہو ہو ہو ہو ہو آؤ بچو سبق پڑھائیں فارسی اور اردو آنکھ کو دیدہ کان کو گوش اور آنکھ کی بھوں ابرو خال ہے تل اور گال ہے عارض ...

مزید پڑھیے

چاند

باجی یہ کچھ جھوٹ نہیں ہے جگ مگ جگ مگ جگ مگ تارے باجی دنیائیں ہیں سارے ہر تارے کی ایک فضا ہے ان میں پانی اور ہوا ہے ان میں خشکی اور زمیں ہے باجی یہ کچھ جھوٹ نہیں ہے باجی یہ کچھ جھوٹ نہیں ہے باجی ان تاروں کے اندر ریت چٹانیں اور سمندر کیسے کیسے روپ ہیں ان کے ان کے دن ہیں سو سو دن کے روشن ...

مزید پڑھیے

بلند و پست میں منزل ہمیں کہیں نہ ملی

بلند و پست میں منزل ہمیں کہیں نہ ملی جو آسمان سے نازل ہوئے زمیں نہ ملی گلہ نہیں کہ ترا سنگ آستاں نہ ملا! یہ ہے کہ دیدۂ تر کو وہ آستیں نہ ملی کبھی جو شانۂ عقدہ کشا نصیب ہوا تو اس کی زلف گرہ گیر و عنبریں نہ ملی بجا کہ جان زلیخا تھے مصر میں یوسف مگر جو بات تھی کنعاں میں وہ کہیں نہ ...

مزید پڑھیے

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا حضور دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا جدائی میں یہ شرط ضبط غم تو مار ڈالے گی ہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھا بہاروں سے نہیں جن کو توقع لالہ و گل کی وہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو اچھا تھا ابھی تو نصف شب ہے انتظار صبح نو ...

مزید پڑھیے

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے اور ہوں گے جو ہلاک شب ہجراں ہوں گے صدمۂ زیست کے شکوے نہ کر اے جان رئیسؔ بخدا یہ نہ ترے درد کا درماں ہوں گے میری وحشت میں ابھی اور ترقی ہوگی تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے آزمائے گا بہرحال ہمیں جبر حیات ہم ابھی اور اسیر غم دوراں ہوں ...

مزید پڑھیے

کہیں سے ساز شکستہ کی پھر صدا آئی

کہیں سے ساز شکستہ کی پھر صدا آئی بہت دنوں میں اک آواز آشنا آئی چلی کچھ آج اس انداز سے نسیم سحر کہ بار بار کسی کی صدائے پا آئی تمہاری طلعت زیبا کو کر لیا سجدہ نظر جہاں بھی کوئی شکل دل ربا آئی عجیب لطف ہوا ان کی یاد سے محسوس کہ جیسے دل کے دریچے کھلے ہوا آئی رہ حیات میں کانٹے ...

مزید پڑھیے

حبس کے عالم میں محبس کی فضا بھی کم نہیں

حبس کے عالم میں محبس کی فضا بھی کم نہیں روزن دیوار زنداں کی ہوا بھی کم نہیں شورش زنجیر پا پر ہیں اگر پابندیاں ہلکے ہلکے جنبش زنجیر پا بھی کم نہیں گر سر مقتل نہ ہو ذکر بتاں کا حوصلہ حجرۂ تاریک میں یاد خدا بھی کم نہیں رہرو شب کیوں چراغ مہ سے دریوزہ گری رات اندھیری ہو تو جگنو کی ...

مزید پڑھیے

ترا خیال کہ خوابوں میں جن سے ہے خوشبو

ترا خیال کہ خوابوں میں جن سے ہے خوشبو وہ خواب جن میں مرا پیکر خیال ہے تو ستا رہی ہیں مجھے بچپنے کی کچھ یادیں وہ گرمیوں کے شب و روز دوپہر کی وہ لو پچاس سال کی یادوں کے نقش اور نقشے وہ کوئی نصف صدی قبل کا زمانہ ہو وہ گرم و خشک مہینے وہ جیٹھ وہ بیساکھ کہ حافظے میں کبھی آہ ہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

تم اے رئیس! اب نہ اگر اور مگر کرو

تم اے رئیس! اب نہ اگر اور مگر کرو کچھ دیر اپنے ساتھ بھی پیارے! بسر کرو ممکن ہے ذات کا اسی لمحے میں ہو ظہور اک لمحہ کائنات سے قطع نظر کرو طیارہ ہائے عہد رواں ہیں صدا شگاف مثل شعاع نور خلا میں سفر کرو کب تک معاملہ یہ دماغوں سے شہد کا؟ تاثیر زہر بن کے دلوں میں گزر کرو کب تک خود اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1728 سے 6203