قومی زبان

موج ہوا کی زنجیریں پہنیں گے دھوم مچائیں گے

موج ہوا کی زنجیریں پہنیں گے دھوم مچائیں گے تنہائی کو گیت میں ڈھالیں گے گیتوں کو گائیں گے کندھے ٹوٹ رہے ہیں صحرا کی یہ وسعت بھاری ہے گھر جائیں تو اپنی نظر میں اور سبک ہو جائیں گے پرچھائیں کے اس جنگل میں کیا کوئی موجود نہیں اس دشت تنہائی سے کب لوگ رہائی پائیں گے زمزم اور گنگا جل ...

مزید پڑھیے

شکوہ کرنے سے کوئی شخص خفا ہوتا ہے

شکوہ کرنے سے کوئی شخص خفا ہوتا ہے اور شکوہ نہیں کرتا تو گلہ ہوتا ہے حشر جس سے دل مطرب میں بپا ہوتا ہے صرف اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوتا ہے نیند آتی نہیں جس رات تجھے اے دل زار شاید اس رات کوئی جاگ رہا ہوتا ہے یوں ہے وحشت کدۂ دل میں تری یاد اے دوست جیسے صحرا میں کوئی پھول کھلا ہوتا ...

مزید پڑھیے

ہجر سے وصل اس قدر بھاری

ہجر سے وصل اس قدر بھاری صبح سے دل پہ ہول ہے طاری اپنی افتاد طبع کیا کہیے! وہی دیرینہ دل کی بیماری ان کے چہرے پہ فتح کے با وصف انفعال شکست ہے طاری دل کئی روز سے دھڑکتا ہے ہے کسی حادثے کی تیاری بعض اوقات عزم ترک وفا عین من جملۂ وفاداری ان کو تکلیف ناز دیتا ہوں ہائے یہ خوئے دوست ...

مزید پڑھیے

دیار شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوں

دیار شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوں میں اک فقیر ہوں شہر سبا سے آیا ہوں جہان نو کی طلب اور اس خرابے میں سواد اصطخر و نینوا سے آیا ہوں شب سیاہ خزاں کے سموم و صرصر تک نگار خانۂ صبح و صبا سے آیا ہوں ابھی کہاں ہے مجھے نوحہ‌ و نوا کا شعور کہ ایک ناحیۂ بے نوا سے آیا ہوں مرے رموز کا عرفاں ...

مزید پڑھیے

مانا کہ تو سوار ہے اور میں پیادہ ہوں

مانا کہ تو سوار ہے اور میں پیادہ ہوں مجھ سے حذر نہ کر کہ شناسائے جادہ ہوں باطن میں سخت کافر و پر پیچ و تہہ بہ تہہ ظاہر میں ایک ہم سفر سہل و سادہ ہوں اک شہر زر نگار ہے اقلیم شرق میں اس شہر زر نگار کا میں شاہزادہ ہوں وا ہیں دریچہ ہائے خرد میری روح پر کس نے کہا خراب خرابات و بادہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1727 سے 6203