قومی زبان

تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے کہیں تو کوئی دعا مانگتا ہے میرے لیے تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے میں جانتا ہوں ترا در کھلا ہے میرے لیے مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو مگر سفر کا تقاضا جدا ہے میرے لیے وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا تمام عمر کا اب سلسلہ ہے ...

مزید پڑھیے

فضا کہ پھر آسمان بھر تھی

فضا کہ پھر آسمان بھر تھی خوشی سفر کی اڑان بھر تھی وہ کیا بدن بھر خفا تھا مجھ سے کہ آنکھ بھی چپ گمان بھر تھی افق کہ پھر ہو گیا منور لکیر سی اک کہ دھیان بھر تھی وہ موج کیا ٹوٹ کر گری ہے تو کیا یہ بس امتحان بھر تھی وہ اک فسانہ زبان بھر تھا یہ اک سماعت کہ کان بھر تھی سبب کہ اب تک وہ ...

مزید پڑھیے

سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے

سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے تلوار کی طرح ہے ہوا بھی مرے لئے میرے لئے ہیں منظر و معنی ہزار رنگ لفظوں کے درمیاں ہے خلا بھی مرے لئے شامل ہوں قافلے میں مگر سر میں دھند ہے شاید ہے کوئی راہ جدا بھی مرے لئے میں خوش ہوا کہ مژدہ سفر کا مجھے ملا پھیلا ہوا ہے دشت‌ سزا بھی مرے ...

مزید پڑھیے

موڑ تھا کیسا تجھے تھا کھونے والا میں

موڑ تھا کیسا تجھے تھا کھونے والا میں رو ہی پڑا ہوں کبھی نہ رونے والا میں کیا جھونکا تھا چمک گیا تن من سارا پتہ نہ تھا پھر راکھ تھا ہونے والا میں لہر تھی کیسی مجھے بھنور میں لے آئی ندی کنارے ہاتھ بھگونے والا میں رنگ کہاں تھا پھول کی پتی پتی میں کرن کرن سی دھوپ پرونے والا ...

مزید پڑھیے

مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا

مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا میں اس سے مل کے نہ تھا خوش جدا بھی ہونا تھا چلو کہ جذبۂ اظہار چیخ میں تو ڈھلا کسی طرح اسے آخر ادا بھی ہونا تھا بنا رہی تھی عجب چتر ڈوبتی ہوئی شام لہو کہیں کہیں شامل مرا بھی ہونا تھا عجب سفر تھا کہ ہم راستوں سے کٹتے گئے پھر اس کے بعد ہمیں ...

مزید پڑھیے

بجائے ہم سفری اتنا رابطہ ہے بہت

بجائے ہم سفری اتنا رابطہ ہے بہت کہ میرے حق میں تری بے ضرر دعا ہے بہت تھی پاؤں میں کوئی زنجیر بچ گئے ورنہ رم ہوا کا تماشا یہاں رہا ہے بہت یہ موڑ کاٹ کے منزل کا عکس دیکھو گے اسی جگہ مگر امکان حادثہ ہے بہت بس ایک چیخ ہی یوں تو ہمیں ادا کر دے معاملہ ہنر حرف کا جدا ہے بہت مری خوشی کا ...

مزید پڑھیے

وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا

وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا الجھ کے رہ گیا ڈوری کو کھولنے والا لو سارے شہر کے پتھر سمیٹ لائے ہیں ہم کہاں ہے ہم کو شب و روز تولنے والا ہمارا دل کہ سمندر تھا اس نے دیکھ لیا بہت اداس ہوا زہر گھولنے والا کسی کی موج فراواں سے کھا گیا کیا مات وہ اک نظر میں دلوں کو ٹٹولنے ...

مزید پڑھیے

دیکھیے کیا کیا ستم موسم کی من مانی کے ہیں

دیکھیے کیا کیا ستم موسم کی من مانی کے ہیں کیسے کیسے خشک خطے منتظر پانی کے ہیں کیا تماشا ہے کہ ہم سے اک قدم اٹھتا نہیں اور جتنے مرحلے باقی ہیں آسانی کے ہیں وہ بہت سفاک سی دھومیں مچا کر چل دیا اور اب جھگڑے یہاں اس شخص طوفانی کے ہیں اک عدم تاثیر لہجہ ہے مری ہر بات کا اور جانے کتنے ...

مزید پڑھیے

پیہم موج امکانی میں

پیہم موج امکانی میں اگلا پاؤں نئے پانی میں صف شفق سے مرے بستر تک ساتوں رنگ فراوانی میں بدن وصال آہنگ ہوا سا قبا عجیب پریشانی میں کیا سالم پہچان ہے اس کی وہ کہ نہیں اپنے ثانی میں ٹوک کے جانے کیا کہتا وہ اس نے سنا سب بے دھیانی میں یاد تری جیسے کہ سر شام دھند اتر جائے پانی ...

مزید پڑھیے

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا آنکھ کھلتی جائے گی منظر بدلتا جائے گا پھیلتی جائے گی چاروں سمت اک خوش رونقی ایک موسم میرے اندر سے نکلتا جائے گا میری راہوں میں حسیں کرنیں بکھرتی جائیں گی آخری تارا پس کہسار ڈھلتا جائے گا بھولتا جاؤں گا گزری ساعتوں کے حادثے قہر آئندہ بھی میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1689 سے 6203