تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے
تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے کہیں تو کوئی دعا مانگتا ہے میرے لیے تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے میں جانتا ہوں ترا در کھلا ہے میرے لیے مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو مگر سفر کا تقاضا جدا ہے میرے لیے وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا تمام عمر کا اب سلسلہ ہے ...