قومی زبان

چاہے جنت نہ ملے چاہے خدائی نہ ملے

چاہے جنت نہ ملے چاہے خدائی نہ ملے ہے دعا میری یہی تجھ سے جدائی نہ ملے کون سی راہ چنی تم نے محبت کے لئے چل کے آ جاؤ مگر آبلہ پائی نہ ملے ساتھ تیرا ہو اگر موت بھی آئے ہمدم زیست جو مجھ کو ملے تجھ سے پرائی نہ ملے اجنبی اپنے ہی بن جاتے ہیں جن سے یارو نام کو میرے کبھی ایسی برائی نہ ...

مزید پڑھیے

اے خدا تو ہی مجھے چاہنے والا دینا

اے خدا تو ہی مجھے چاہنے والا دینا ایک فن کار ہوں شہرت کے اجالے دینا چپ رہوں لوگوں کی دشنام طرازی پر میں بخشنا نطق مجھے ضبط کے تالے دینا اے جہاں والو سنو وقت کا سقراط ہے وہ اب ضروری ہے اسے زہر کے پیالے دینا بھیجنا نوری پرندوں کو جہاں میں یا رب دور کر دینا اندھیرے کو اجالے ...

مزید پڑھیے

مجھے ملی ہے اگر انفرادیت کی سند

مجھے ملی ہے اگر انفرادیت کی سند بچا کے لایا ہوں اپنی صلاحیت کی سند بھلا دئیے ہیں الف لیلوی سبھی قصے غزل نے جب سے مجھے دی جدیدیت کی سند پریشاں حال ہے ہر شخص اس زمانے میں ملی ہے کس کو یہاں خیر و عافیت کی سند تھا اپنے شہر میں مدت سے اجنبی کی طرح جناب مجھ کو ملی آج شہریت کی سند تم ...

مزید پڑھیے

جینا ہے مجھے

پھر خیال آیا کہ جینا ہے مجھے جس طرح ایک تھکا ماندہ پرندہ لاکھ ہو برف بہ جاں لاکھ ہو آہستہ سفر اک بلندی پہ تو ہوتا ہے ضرور زیر پرواز کوئی گہرا سمندر ہے تو کیا اسے اوپر سے گزر جانا ہے

مزید پڑھیے

آخری موسم

زماں مکاں کے ہزار ہنگامے قلب خستہ کو اس طرح ڈھیر کر گئے ہیں کہ جیسے اک خشک خشک پتے کی کپکپاتی ہوئی رگوں سے چپک رہی ہو تمام ماحول کے مناظر کی ماندگی بھی ہر ایک جھونکے کی خستگی بھی یہ خشک پتہ ہوا کے مبہوت دائروں میں زمین سے سر پٹک کے اپنی تمام رنگت بدل چکا ہے اب ایک پتھر کے یخ زدہ اور ...

مزید پڑھیے

رقص

ناچ ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر پھیل جائے تری جھن جھن کا حسیں پیراہن ناچ ہاں ناچ کہ سینے میں ترے ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے بازوؤں کو کبھی ہونے دے دراز جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو فرش آواز پہ رکھ اپنے پر اسرار قدم اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جادو پی ...

مزید پڑھیے

کوئی خواب خواب سا فاصلہ

لب زرد پر کوئی حمد ہے کہ گلہ کہو مری پیلی آنکھ میں بجھتے خوں کا الاؤ ہے کہ طلا کہو مرے دست و بازو میں آج بھی کوئی لمس قید ہے اور سینے کی بے وقاری کے اندروں کوئی حرف اپنا ہی صید ہے کہ جسے رسائی نہ مل سکی یہ مری جھجھک کی برید ہے کہ صلہ کہو کبھی ایک بات نہ کہہ سکوں کبھی اب کہ چیخ مجھے ...

مزید پڑھیے

ادھر کی آواز اس طرف ہے

اجاڑ سی دھوپ آدھی ساعت کہ نا مکمل علامتیں داغ داغ آنکھیں یہ ٹیلہ ٹیلہ اترتی بھیڑیں کہاں ہے جو ان کے ساتھ ہوتا تھا اک فرشتہ کٹی پھٹی زرد شام سے کون بڑھ کے پوچھے کہ ایک اک برگ آگہی کا ہوا کے پیلے لرزتے ہاتھوں سے گر رہا ہے تمام موسم بکھر رہا ہے کہ دھیمے دھیمے سے آتی شب کا یہ آبی ...

مزید پڑھیے

معمول

ایک بڑھیا شب گئے دہلیز پر بیٹھی ہوئی تک رہی ہے اپنے اکلوتے جواں بچے کی راہ سو چکا سارا محلہ اور گلی کے موڑ پر بجھ چکا ہے لیمپ بھی سرد تاریکی کھڑی ہے جیسے دیوار مہیب بوڑھی ماں کے جسم کے اندر مگر جگمگاتی ہیں ہزاروں مشعلیں آنے والا لاکھ بے ہوشی کی حالت میں ہو لیکن راستہ گھر کا کبھی ...

مزید پڑھیے

نہ قائل ہوتے ہیں نہ زائل

بنجر چہرے جن پر نہ بارش کی پہلی بوند کا اظہار اگتا ہے نہ آتے جاتے لمحوں کا کوئی اقرار انکار نہ اطمینان نہ ڈر آنکھیں جن میں کوئی نگاہ پلکوں سے نہیں الجھتی باقی حواس بھی خوشبو اور خوشبو کی شہرت سے آواز اور آواز کی قوت سے یکسر عاری ہیں کون ہیں یہ لوگ کس موج فضولیت کی زد میں آ گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1685 سے 6203