قومی زبان

ہوتا ہے مہربان کہاں پر خدائے عشق

ہوتا ہے مہربان کہاں پر خدائے عشق لگتی ہے پھر بھی شہر میں کھل کے صدائے عشق نکتہ یہی ازل سے پڑھایا گیا ہمیں حوا برائے حسن ہے آدم برائے عشق دنیا ہمارے ہاتھ میں ہے گیند کی طرح ہم کر رہے ہیں زندگی جب سے برائے عشق بیٹھے ہیں مثل یار ہوئے خود کے روبرو ملتی نہیں ہر ایک کو ایسی عطائے ...

مزید پڑھیے

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں گاؤں کے لوگ ہیں نقصان کہاں دیکھتے ہیں جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ! پھول باغیچہ و گلدان کہاں دیکھتے ہیں قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں مجھ کو افلاک سے ہجرت کی صدا آتی ہے، آدمی عشق میں زندان ...

مزید پڑھیے

اگرچہ روز مرا صبر آزماتا ہے

اگرچہ روز مرا صبر آزماتا ہے مگر یہ دریا مجھے تیرنا سکھاتا ہے یہ کیا گھٹن ہے محبت کی پہرے داری میں وہ کاغذوں پہ کھلی کھڑکیاں بناتا ہے اسے پتا ہے کہاں ہاتھ تھامنا ہے مرا اسے پتا ہے کہاں پیڑ سوکھ جاتا ہے میں اس کی نظروں کا کچھ اس لئے بھی ہوں قائل وہ جس کو چاہے اسے دیکھنا سکھاتا ...

مزید پڑھیے

جیسا چاہا ویسا منظر دیکھا ہے

جیسا چاہا ویسا منظر دیکھا ہے یعنی ہم نے اپنے اندر دیکھا ہے ان آنکھوں کو دیکھنے والے کہتے ہیں اس دنیا کو ہم نے بہتر دیکھا ہے جانے والے تجھ کو اتنا یاد رہے ہم نے تیرا ہاتھ پکڑ کر دیکھا ہے تیری کیسے بن جاتی ہے دنیا سے میں نے اپنا آپ بدل کر دیکھا ہے

مزید پڑھیے

اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا

اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا یہاں کے دشت مزاجوں کا حوصلہ رہے گا ہم ایسے ایسے زمانوں سے ہو کے آئے ہیں کہ خواب والوں کو خوابوں سے اک گلہ رہے گا میں چاہتا ہوں محبت میں زخم آئے مجھے میں بچ گیا تو محبت میں کیا مزہ رہے گا گلے کرو کہ محبت میں جان پڑ جائے گلے لگو کہ یوں رونے سے ...

مزید پڑھیے

ن م راشدؔ کے انتقال پر

یہ رات ہے کہ حرف و ہنر کا زیاں کدہ اظہار اپنے آپ میں مہمل ہوئے تمام اب میں ہوں اور لمحۂ لاہوت کا سفیر محو دعا ہوا مرے اندر کوئی فقیر سینے پہ کیسا بوجھ ہے ہوتا نہیں سبک ہونٹوں کے زاویوں میں پھنسا ہے ''خدا...خدا'' کیا لفظ ہے کہ جیبھ سے ہوتا نہیں ادا کمزور ہاتھ ہیں کہ نہیں اٹھتے سوئے ...

مزید پڑھیے

زندگی مجھ کو کہاں لے آئی ہے

زندگی مجھ کو کہاں لے آئی ہے سامنے دریا ہے پیچھے کھائی ہے مجھ کو غیروں سے نہیں شکوہ کوئی تھا جو اپنا وہ بھی تو ہرجائی ہے بد نصیبی کو کوئی اپنائے کیوں پھر مری جانب ہی وہ لوٹ آئی ہے بند مٹھی میں نہ جگنو کو کرو ڈھل گیا ہے دن تو پھر شب آئی ہے کچھ نہ پائے گا تو ساحل پر سحرؔ جا وہیں پر ...

مزید پڑھیے

اس جہاں سے کوئی بھی سودا نہ کر

اس جہاں سے کوئی بھی سودا نہ کر دیکھ اپنے آپ کو رسوا نہ کر چھین کر یادوں کا سرمایہ مری اس بھری محفل میں یوں تنہا نہ کر اجنبی ہوں اجنبی ہی رہنے دے اس طرح میری طرف دیکھا نہ کر پتھروں کی چوٹ سہہ لیتا ہوں میں پھول یوں میری طرف پھینکا نہ کر کر سحرؔ کی آبرو کا کچھ خیال محفل اغیار میں ...

مزید پڑھیے

درد دل جب کبھی عیاں ہوگا

درد دل جب کبھی عیاں ہوگا کرب چہرے سے بھی بیاں ہوگا دل کے ارمان بجھ گئے سارے اب تو ہر سمت بس دھواں ہوگا میری ہی آنکھیں جب سمندر ہیں خون بھی میرا ہی رواں ہوگا اس جہاں میں تو جانے کل کیا ہو اس جہاں میں مرا مکاں ہوگا میری آنکھوں میں جو بسا ہے سحرؔ کل نہ جانے کدھر کہاں ہوگا

مزید پڑھیے

دل کی سب الجھنوں کا حل لکھوں

دل کی سب الجھنوں کا حل لکھوں اک مہکتی ہوئی غزل لکھوں اس کی آسانیوں پہ جاں دے دوں اپنی مشکل کو بھی سرل لکھوں جبکہ تدبیر میں کمی نہ کروں پھر بھی تقدیر کو اٹل لکھوں بات میں ایک بے مثال کہوں شعر میں کوئی بے بدل لکھوں میری کٹیا کی بات کیا ہے سحرؔ تیرے چھپر کو بھی محل لکھوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1684 سے 6203