جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں
جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں عشق تو وہ ہے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں کام مکمل کرنے سے بھی شام مکمل کب ہوتی ہے ایک پرندہ رہ جاتا ہے باقی سب گھر آ جاتے ہیں اپنے دل میں گیند ...