قومی زبان

حسن بزم مثال میں کیا ہے

حسن بزم مثال میں کیا ہے آئینے کے خیال میں کیا ہے دیکھتی کیا ہے اے نگاہ کرم میرے دست سوال میں کیا ہے تو نہیں ہے تو کون ہے مجھ میں فرق ہجر و وصال میں کیا ہے انقلابات زندگی کیا ہیں گردش ماہ و سال میں کیا ہے آپ دامن کشاں گزرتے ہیں رہ گزار خیال میں کیا ہے بات اظہار حال میں کیا ...

مزید پڑھیے

جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے

جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے اک چراغ بجھتا ہے اک چراغ جلتا ہے شرط غم گساری ہے ورنہ یوں تو سایہ بھی دور دور رہتا ہے ساتھ ساتھ چلتا ہے سوچتا ہوں آخر کیوں روشنی نہیں ہوتی داغ بھی ابھرتے ہیں چاند بھی نکلتا ہے کیسے کیسے ہنگامے اٹھ کے رہ گئے دل میں کچھ پتہ مگر ان کا آنسوؤں سے ...

مزید پڑھیے

سر اٹھایا تو سر رہے گا کیا

سر اٹھایا تو سر رہے گا کیا خوف یہ عمر بھر رہے گا کیا اس نے زنجیر کر کے رکھا ہے ہم سے وہ بے خبر رہے گا کیا پاؤں رہتے نہیں زمیں پہ ترے ہاتھ دستار پر رہے گا کیا وہ جو اک خواب ہم نے دیکھا تھا خواب ہی عمر بھر رہے گا کیا مر رہے ہیں فراق میں تیرے تو ہمیں مار کر رہے گا کیا عشق خانہ خراب ...

مزید پڑھیے

تیرے آنے کا انتظار رہا

تیرے آنے کا انتظار رہا عمر بھر موسم بہار رہا پا بہ زنجیر زلف یار رہی دل اسیر خیال یار رہا ساتھ اپنے غموں کی دھوپ رہی ساتھ اک سرو سایہ دار رہا میں پریشان حال آشفتہ صورت رنگ روزگار رہا آئنہ آئنہ رہا پھر بھی لاکھ در پردۂ غبار رہا کب ہوائیں تہ کمند آئیں کب نگاہوں پہ اختیار ...

مزید پڑھیے

کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے

کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے زمیں اپنی کہانی کہہ رہی ہے الگ اندیشۂ سود و زیاں سے انہیں بنتے بگڑتے دائروں میں وہ چہرہ کھو گیا ہے درمیاں سے اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے تری یادوں کے بوسیدہ ...

مزید پڑھیے

مٹی جب تک نم رہتی ہے

مٹی جب تک نم رہتی ہے خوشبو تازہ دم رہتی ہے اپنی رو میں مست و غزل خواں موج ہوائے غم رہتی ہے ان جھیل سی گہری آنکھوں میں اک لہر سی ہر دم رہتی ہے ہر ساز جدا کیوں ہوتا ہے کیوں سنگت باہم رہتی ہے کیوں آنگن ٹیڑھا لگتا ہے کیوں پایل برہم رہتی ہے اب ایسے سرکش قامت پر کیوں تیغ مژہ خم رہتی ...

مزید پڑھیے

دل نے اپنی زباں کا پاس کیا

دل نے اپنی زباں کا پاس کیا آنکھ نے جانے کیا قیاس کیا کیا کہا باد صبح گاہی نے کیا چراغوں نے التماس کیا کچھ عجب طور زندگانی کی گھر سے نکلے نہ گھر کا پاس کیا عشق جی جان سے کیا ہم نے اور بے خوف و بے ہراس کیا رات آئی ادھر ستاروں نے شبنمی پیرہن لباس کیا سایۂ گل تو میں نہیں جس نے گل کو ...

مزید پڑھیے

چراغ صبح سے شام وطن کی بات کرو

چراغ صبح سے شام وطن کی بات کرو جو راہ میں ہے ابھی اس کرن کی بات کرو در قفس پہ جو آئے صبا تو پھر پہروں بٹھا کے سامنے گل پیرہن کی بات کرو جہاں سے ٹوٹ گیا سلسلہ خیالوں کا وہاں سے زلف شکن در شکن کی بات کرو

مزید پڑھیے

اس سے پہلے نظر نہیں آیا (ردیف .. ے)

اس سے پہلے نظر نہیں آیا اس طرح چاند کا یہ ہالا مجھے آدمی کس کمال کا ہوگا جس نے تصویر سے نکالا مجھے میں تجھے آنکھ بھر کے دیکھ سکوں اتنا کافی ہے بس اجالا مجھے اس نے منظر بدل دیا یکسر چاہیے تھا ذرا سنبھالا مجھے اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے یاد ہیں آج ...

مزید پڑھیے

ہر چیز سے ماورا خدا ہے

ہر چیز سے ماورا خدا ہے دنیا کا عجیب سلسلہ ہے کیا آئے نظر کہ راستوں میں صدیوں کا غبار اڑ رہا ہے جتنی کہ قریب تر ہے دنیا اتنا ہی طویل فاصلہ ہے الفاظ میں بند ہیں معانی عنوان کتاب دل کھلا ہے کانٹوں میں گلاب کھل رہے ہیں ذہنوں میں الاؤ جل رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1668 سے 6203